دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

الفساد غیر قوی لعدم الاتفاق علیہ فلا یسری [1]۔

تجاوز نہیں کرتا جیسے غلام اور مدبر کو عقد واحدمیں جمع کرنا الخ اور شامی میں ہے کہ یہ فساد غیر قوی ہے کیونکہ اس پراتفاق نہیں لہٰذا یہ سرایت نہیں کریگا(ت)

اور بالفرض اگر اس سے بھی تنزل کیجئے اگرچہ یہ تنزل کے قابل نہیں لیکن تاہم غایت یہ ہے کہ اس سے بیع مکان میں فساد لازم آئے گا،نہ بطلان کہ وجہ فساد مسئلہ حرومیۃ میں قبول غیر صالح سے مشروط ہوتا ہے اور بیع شروط فاسدہ سے سے فاسد ہوجاتی ہے نہ کہ باطل،

اقول:وان کانت تعبیرات العلماء فی ذٰلك لم ترد علی نسق واحد فمنہم وھم بالفساد ومنہم من عبر بالبطلان والفساد ھوالمرادلانہما لفظان متعاوران یرد کل واحد منہما مشرب صاحبہ کما لایخفی علی الناظر فی کلمات القوم وقال القہستانی فی بیان الباطل کثیرا مایطلق الفاسد علیہ وبالعکس [2] اھ،ومن اقوی الدلیل علی ذٰلك کلام الامام الہمام فقیہ النفس فخر الدین خان القاضی اذاقال فی الخانیۃ البیع انواع باطل وفاسد و موقوف ولازم ومکروہ [3] ثم عقد فصلا فی البیع الباطل وذکر مسألۃ ثم قال باب البیع الفاسد المفسد للبیع انواع وھذا الباب یشتمل علی فضولی،الفصل الاول فی فساد البیع الجہالۃ احد البدلین وفیہ الجمع بین الموجود والمعدوم والجمع بین المال وغیر المال[4] اھ فہذا کما تری نص صریح لا یقبل صرفا و لاتاویلا قلت وبہ اوضح عمدۃ المذہب امامنا المجتہد سیدنا محمد فی المحیط و المبسوط وغیرہ فی غیرہما کما فی جماع الرموز والکفایۃ وعلیہ یدور کلام الامام البرھان الدین المرغینانی فی الہدایۃ والعلامۃ المحقق علی الاطلاق فی الفتح والفاضل زین الدین المصری فی الاشباہ والسید احمد الحموی فی غمز العیون والعلامۃ نوح آفندی والفاضل سید احمد الطحطاوی وغیرہم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ م اجمعین فعلیہ المعول وبہ الاعتماد کما حققتہ فی فتاوی الملقبۃ بالعطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویۃ خلافا لما فہم العلامۃ ابوعبداللہ محمد بن عبداللہ الغزی من وقوع لفظ البطلان فی بعض کلمات القوم اواستظہرہ سیدی محمد اٰمین الدین اٰفندی اٰمرا بالتامل فلا محیط الاالی المقام بعد مااتضح وتحقق ومن اراد فعلی ایراد الدلیل۔ فی الدرالمختار بخلاف بیع الفاسد فانہ لایطیب لہ لفساد عقدہ ویطیب للمشتری منہ لصحۃ عقدہ [5]۔

 میں کہتاہوں کہ اگر چہ اس میں علماء کی تعبیریں ایك طرز پر واقع نہیں ہوئیں،ان میں سے بعض نے اس کو فساد قرار دیا اور بعض نے بطلان سے تعبیر کیا جس سے مراد فساد ہی ہے کیونکہ ان دونوں لفظوں یعنی فساد و بطلان میں سے ہر ایك دووسرے کی جگہ استعمال ہوتارہتا ہے جیسا کہ کلمات قوم کو مدنظر رکھنے والے پر مخفی نہیں اورقہستانی نے باطل کے بیان میں کہا کہ بسااوقات اس پر فاسد کا اطلاق ہوتا ہے او راسی طرح اس کے برعکس بھی یعنی فاسدپر باطل کا اطلاق ہوتا ہے اھ اس پر قوی ترین دلیل امام ہمام فقہ النفس فخر الدین خان قاضی کاکلام ہے کیونکہ انھوں نے فتاوٰی خانیہ میں فرمایا بیع کی کئی قسمیں ہیں باطل،فاسد،موقوف،لازم اور مکروہ پر بیع باطل کے بارے میں فصل قائم کی اور اس میں بیع باطل کے مسائل کوذکر کیا،بعد ازاں بیع فاسد کا باب قائم کرکے فرمایا کہ مفسدات بیع متعدد قسموں کے ہیں اوریہ باب کئی فصلوں پر مشتمل ہے،پہلی قسم بدلین میں سے کسی ایك کی جہالت کی وجہ سے فساد بیع کے بارے میں ہے اور اس میں معدوم و موجود کو اور مال وغیرمال کو عقد واحدمیں جمع کرنا داخل ہے الخ تو یہ جیسا کہ تو دیکھ رہا ہے صریح نص ہے جو مجاز وتاویل کو قبول نہیں کرتی میں کہتاہوں اوراسی کو واضح فرمایا ہے عمدۃ المذہب امام مجتہد ہمارے سردار امام محمد نے محیط اورمبسوط میں اور دیگر ائمہ نے دوسری کتابوں میں جیساکہ جامع الرموز اور کفایہ میں ہے،اور اسی پر دائر ہے امام برہان الدین مرغینانی کا کلام ہدایہ میں،امام علامہ محقق علی الاطلاق کاکلام فتح میں،فاضل زین الدین مصری کاکلام الاشباہ میں،سید احمد حموی کا کلام غمز العیون میں،اور اسی پر دائر ہے علامہ نوح آفندی اور فاضل سید احمد طحطاوی وغیرہ ائمہ کا کلام،الله تعالٰی ان تمام پر رحمت نازل فرمائے،پس اسی پر بھروسہ اور اعتماد ہے جیسا کہ اس کی تحقیق میں نے"العطایا النبویہ فی الفتاوی الرضویہ"کے لقب سے ملقب فتاوی میں کردی ہے، برخلاف اس کے جو بعض کلمات قوم میں لفظ بطلان کے واقع ہونے سے علامہ ابوعبدالله محمد بن عبدالله غزی نے سمجھایا تأمل کاحکم دے کہ سیدی محمد امین الدین آٖفندی نے احتیاط برتی،چنانچہ وضاحت و ثبوت کے بعد مقام تحقیق کی طرف رجوع کئے بغیر چارہ نہیں اور جو اس کے خلاف کا ارادہ کرے اس کے ذمے پر دلیل پیش کرنا ہے۔(ت) اور مبیع بالبیع الفاسد بعد القبض مملوك ہوجاتی ہے کما فی عامۃ الکتب(جیسا کہ عام کتابوں میں ہے۔ت)ہاں حق مشتری میں اس کی خباثت رہتی ہے لہٰذا تفاسخ واجب ہے،مگر اس کی بیع کے بعد مشتری ثانی کے لئے وہ بھی نہیں رہتی، درمختارمیں ہے بخلاف بیع فاسد کے کہ اس میں مشتری کو حلال نہیں اس عقد کے فساد کے سبب سے اور جس نے اس سے خریدا اسے حلال ہے بسبب اس کی صحت عقدکے،(ت) پس بہرحال اب یہ مکان بالیقین مملوك عمرو ہے زید یا زوجہ زید یا قرضخواہان زید کا اس میں کچھ حق نہیں،نہ قرضہ زید اس سے کوئی وصول کرسکتا ہے ھذا ینبغی التحیق واللہ ولی التوفیق،واللہسبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم(یونہی تحقیق چاہئے اور الله ہی توفیق کامالك ہے،اور الله سبحٰنہ وتعالٰی خوب جاننے والا ہے اور اس کا علم اتم واحکم ہے۔ ت)

مسئلہ ۳۰: از کمپ لال کرتی مرسلہ شیخ کریم بخش صاحب ۸ رمضان ۱۳۱۳ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدکے مکان میں ایك درخت فالسہ کا تھا اور بکر کے ہاتھ فروخت کئے ہوئے ایك مہینہ گزرگیا،بعدہ،زید کے مکان میں آگ لگ گئی،درخت مذکور جل گیا،قیمت اس کی بکر کو واپس دینا چاہئے یانہیں؟ فقط

الجواب:

بعد استفسار واضح ہوا کہ گھنڈ ساریوں کے ہاتھ فاسلہ کی ٹہنیاں بیچی جاتی ہے وہ انھیں کاٹ لیتے ہیں اور پیڑ بدستور قائم رہتا ہے،یہ بیع بھی انھیں ٹہنیوں کی تھی اور مشتری ہنوز کا کاٹنے نہ پایا تھا کہ مکان میں آگ لگ گئی پیڑ جل گیا،اس صورت میں قطع نظر اس سے کہ صرف ٹہنیوں کی بیع جائز وصحیح ہونے میں بہت نزاع طویل ہے۔

 



[1]      ردالمحتار کتاب الاجارہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/۵

[2]      جامع الرموز کتاب البیوع فصل البیع الفاسد مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۳/ ۳۲

[3]      فتاوٰی قاضی خاں کتاب البیع نولکشور لکھنؤ ۲ /۳۳۵

[4]      فتاوٰی قاضی خاں کتاب البیع نولکشور لکھنؤ ۲/ ۳۳۵

[5]         درمختار کتاب البیوع البیع الفاسد مجتبائی دہلی ۲ /۲۹

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن