دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

عــــــہ: ھذاما مال الیہ ھنا فالحق کراھۃ التحریم کما حققہ فی رسالتی "ا لامر باحترام المقابر "وقد اعترف بہ جنس کو خلاف جنس کے مقابل ٹھہرائیں تو چاندی کے دس ہزار پیتل کے ایك کو بکے اس سے زیادہ مالیت میں اور کیا بیشی چاہتا ہے اور یہ محرر مذہب ہیں کہ صاف فرمارہے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں تو واجب ہوا کہ اس میں اگر کراہت ہو تو صرف کراہت تنزیہ ہوا اور خود صاحب مذہب کی تصریح کے بعد کسی کو کلام کی کیا گنجائش ہے تو اسی پر جم جاؤ اور اللہ ہی کی طرف سے توفیق ہے ۱۲ منہ۔

عــــــہ: یہ وہ حکم ہے جس کی طر ف علامہ شامی یہاں مائل ہوئے اور حق یہ ہے کہ قبر پر پاؤں رکھنا یا بیٹھنا مکروہ تحریمی ہے جیسا کہ میں نے اپنے رسالہ (باقی برصفحہ آیندہ)

مافیہ اطلاق الکراھۃ علی مایشمل المعنیین وھذا کثیر فی کلامھم ومنہ قولھم مکروھات الصلٰوۃ اھ [1]،

بل قال فی الدرالمختار فی فصل الاستنجاء تحت قول الماتن یکرہ للمرأۃ امساك صغیر لبول نحو القبلۃ الخ ھذہ تعم التحریمیۃ والتنزیۃ [2] اھ وقال الشامی فی مکروھات الوضوء لیست الکراھۃ مصروفۃ الی التحریم مطلقًا[3] اھ،وقال قبلہ بقلیل تحت قولہ و مکروہہ ھو ضد المحبوب قد یطلق علی الحرام وعلی المکروہ تحریما وعلی المکروہ تنزیہا ثم نقل عن البحر ان المکروہ فی ھذا الباب نوعان ماکرہ

 اس متن میں یہ ہوا کہ کراہت ایك ایسے معنی پر بولی گئی جو تحریم و تنزیہ دونوں کو شامل ہے اور یہ ان کے کلام میں بکثرت ہے اسی باب سے ہے فقہاء کا مکروہات نماز فرمانا انتہی،بلکہ درمختار کی فصل استنجا میں مصنف کے اس قول کے نیچے کہ عورت کو مکروہ ہے کہ بچے کو پیشاب کے لئے قبلہ کی طرف بٹھائے الخ یہ فرمایا کہ کراہت تحریم و تنزیہ یہ دونوں کو عام ہے انتہی،اور شامی نے مکروہات وضو میں فرمایا کراہت مطلقًا تحریم ہی کی طرف نہیں پھیری جاتی انتہی،اور اس سے کچھ پہلے جہاں مصنف نے کہا کہ وضو کے مکروہ یہ یہ ہیں یہ فرمایا کہ مکروہ ضد ہے محبوب کی،اور وہ کبھی حرام پر بولا جاتا ہے اور کبھی مکروہ تحریمی پر اور کبھی مکروہ تنزیہی پر،پھر بحرالرائق سے نقل کیا کہ مکروہ اس باب میں دو قسم ہیں ایك مکروہ تحریمی اور جب (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)

ھذا المحقق اعنی الشامی فی کتابہ ھذا فی فصل الاستنجاء اذ قال انھم نصوا علی ان المرور فی سکۃ حادثۃ فی المقابر حرام اھ [4]منہ ۱۲منہ۔ "الامر باحترام المقابر ۱۲۹۸ھ"میں اس کی تحقیق کی اور بیشك محقق شامی خود اپنی کتاب کی فصل استنجاء میں اس کے معترف ہوئے کہ فرمایا علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ قبروں میں جو نیا راستہ نکلا ہو اس میں چلنا حرام ہے ۱۲منہ۔

تحریما وھو المحمل عند اطلاقھم الکراھۃ والمکروہ تنزیہا وکثیر ا مایطلقونہ کما فی شرح المنیۃ فحینئذ اذا ذکروا مکروہا فلا بد من النظر فی دلیلہ فان کان نھیا ظنیا یحکم بکراھۃ التحریم الا لصارف فان لم یکن نہیا بل مفید اللترك الغیر الجازم نھی تنزیہیۃ [5]اھ ملخصا،

قلت: ومن الاخیر قول المتون کالتنویر وغیرہ یکرہ امامۃ عبد[6]،فی الدر تنزیہا [7]،قال ابن عابدین لقولہ فی الاصل امامۃ غیرہم احب الی بحر عن المجتبٰی والمعراج [8]اھ اذا علمت ھذا وجب الفحص عن الدلیل انہ الٰی ای الکراہتین یمیل کما افادہ البحر فی البحر فرأینا ھم یستدلون علی الکراھۃ المذکورۃ بوجھین لایفید شیئ منھما کراھۃ التحریم وانما

وہ کراہت کو مطلق رکھتے ہیں تو اسی پر محمول ہوتی ہے،دوسرا مکروہ تنزیہی اور بکثرت اسے بھی مطلق چھوڑتے ہیں جیسا کہ شرح منیہ میں ہے اور جب بات یہ ہے تو جس وقت فقہاء کسی شیئ کو مکروہ کہیں تو اس کی دلیل پر نظر لازم ہوگی اگر وہ دلیل کوئی ظنی نہی ہے تو کراہت تحریم کا حکم دیں گے مگر کسی اور دلیل کے باعث جو اس سے پھیردے،اور اگر وہ دلیل نہی نہ ہو بلکہ غیر قطعی ترك چاہتی ہے تو وہ کراہت تنزیہی ہے انتہی ملخصًا،میں کہتا ہوں شکل اخیر سے ہے متون مثل تنویر وغیرہ کا یہ قول کہ غلام کی امامت مکروہ ہے،درمختار میں فرمایا تنزیہًا،شامی نے کہا اس کے تنزیہی ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اما م نے مبسوط میں فرمایا ان کے غیر کی امامت مجھے زیادہ پسند ہے یہ بحرالرائق میں مجتبٰی اور معراج سے ہے انتہی،جب تجھے یہ معلوم ہولیا تو واجب ہوا کہ دلیل تلاش کریں کہ وہ دونوں کراہتوں میں کس طرف جھکتی ہے جیسا کہ دریائے علم نے بحرالرائق میں افادہ فرمایا،اب ہم نے علماء کو دیکھا کہ اس کراہت پر دو وجہ سے استدلال کرتے ہیں اور ان میں کوئی بھی کراہت تحریم کا فائدہ نہیں دیتی ان کی نہایت

قصارٰھما التنزیہ قال فی العنایۃ الکراھۃ اما لانہ احتیال لسقوط الربا فیصیر کبیع العینۃ فی اخذ الزیادۃ بالحیلۃ واما لانہ یفضی الی ان یالف الناس فیستعملوا ذٰلك فیما لایجوز[9] اھ ونقل فی الفتح عن الایضاح الوجہ الثانی ثم قال وھکذا ذکر فی المحیط ایضا ثم قال وقیل انما کرھہ لانھما باشراالحیلۃ الی اخر [10] مامر فی الوجہ الاول،وصاحب العنایۃ بعد ذکر الوجہین عاد فحصر فی الوجہ الاول حیث قال الکراھۃ انما ھی للاحتیال لسقوط ربا الفضل [11] اھ وعلیہ اقتصر فی الکفایۃ قال انما کرہ لانہ احتیال لسقوط الربالیأ خذ الزیادۃ بالحیلۃ فیکرہ کبیع العینہ فانہ مکروہ لھذا اھ[12]،وانت تعلم ان فی الوجہ الثانی ترك مالا بأس بہ حذرا ممابہ باس فھو مقام الورع وترك الورع لا یوجب کراھۃ تحریم وقد قال

 



[1]       ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب صلٰوۃ الجنائز داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۰۶

[2]       درمختار شرح تنویر الابصار فصل الاستنجاء مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۵۷

[3]       ردالمحتار کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۹۰

[4]       ردالمحتار کتاب الطہارۃ فصل فی الاستنجا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۲۲۹

[5]      ردالمحتار کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۸۹

[6]      الدرالمختارشرح تنویر الابصار کتاب الصلٰوۃ باب الامامۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۸۳

[7]      الدرالمختارشرح تنویر الابصار کتاب الصلٰوۃ باب الامامۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۸۳

[8]      ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب الامامۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۳۷۶

[9]      العنایۃ علٰی ہامش فتح القدیر کتاب الصرف مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۷۲۔۲۷۱

[10]      فتح القدیر کتاب الصرف مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۲۷۱

[11]     العنایۃ علی ہامش فتح القدیر کتاب الصرف مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۲۷۲

[12]      الکفایۃ مع فتح القدیر کتاب الصرف مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۲۷۱

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن