دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

القدیر میں اس مسئلہ کو ذکر کرکے فرمایاامام محمد سے عرض کی گئی کہ اس کو آپ اپنے نزدیك کیسا پاتے ہیں ؟ فرمایا پہاڑ کی طرح گراں،اور امام اعظم سے کراہت مروی نہیں بلکہ ایضاح میں تصریح فرمائی کہ اس میں امام اعظم کے نزدیك کچھ حرج نہیں انتہی۔اور اس صورت کے مثل میں عنقریب بحر سے بحوالہ قنیہ آتا ہے کہ امام بقالی نے فرمایا کہ اس میں کراہت نہ ہونا امام اعظم اور امام ابویوسف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما دونوں کا مذہب ہے ہے اور فتاوٰی عالمگیری میں کفالت سے کچھ پہلے بحوالہ محیط امام سرخسی امام محمد سے ہے کہ اگر ایك روپیہ ایك روپیہ کو بیچا اور ایك وزن میں زیادہ ہے اور کم وزن والے کے ساتھ کچھ پیسے ہیں تو جائز ہے مگر میں اسے مکروہ سمجھتا ہوں کہ لوگ اس قسم کے معاملے کے عادی ہوجائیں گے پھر ناجائز جگہ بھی یہ کارروائی کرنے لگیں گے اور امام اعظم نے فرمایا اسمیں کچھ حرج نہیں اور اس واسطے کہ اسے یوں

امکن تصحیحہ بان یجعل الفضل بازاءالفلوس[1] وبالجملۃ النقل عن الامام فاش مستفیض و معلوم ان العمل والفتوی علی قول الامام علی الاطلاق الا لضرورۃ کتعامل بخلافہ ونحوہ وقد فصلناہ فی کتاب النکاح من العطایا النبویۃ بما لامزید علیہ،واما رابعا وھو الطراز المعلم فلان الحق ان ھذہ الکراھۃ عــــــہ لیست الاکراھۃ تنزیہ صحیح ٹہہرانا ممکن ہے کہ وہ زیادتی پیسوں کے مقابل ہو جائے، بالجملہ امام سے یہ روایت مشہور و معروف ہے اور معلوم ہے کہ عمل وفتوٰی ہمیشہ قول امام پر ہےمگرکسی ضرورت سے،جیسے کہ عمل در آمد مسلمانوں کا اس کے خلاف پر ہوگیا ہو،اور ایسی ہی بات ہم نے العطایا النبویہ کی کتاب النکاح میں ایسی مفصل بیان کی ہے جس سے زیادہ کوئی بیان نہیں۔رابعًا اور وہی سب سے زیادہ چمکتی بات ہے حق یہ کہ کراہت صرف کراہت تنزیہی ہے کراہت کے

 

عــــــہ: اقول: محمد وما ادرٰك ما محمد،محمد سید مسود محرر المذہب المسدد قال فی الجامع الکبیر الذی ھو من کتب ظاہر الروایۃ اذا کانت ھذہ الدراہم صنوفا مختلفۃ منھا ماثلثا ھا فضۃ ومنھا ما ثلثا ھا صفر و منھا نصفہا فضۃ فلا باس ببیع احدھا بالاٰخر متفا ضلا ید ابید بصرف فضۃ ھذا الی صفرذٰلك وبالعکس کما لو باع صفراو فضۃ بصفر وفضۃ ولا یجوز نسیئۃ لانہ یجمعھما الوزن وھما ثمنان فیحرم النسأ واما اذا باع جنسا منھا بذٰلك الجنس متفاضلا

اقول:(میں کہتا ہوں)محمد،اور تو نے کیا جانا کیا محمد،محمد سردار ہیں، سردار کئے گئے،مذہب مستقیم کی تحریر و تلخیص فرمانے والے،وہ جامع کبیر میں(کہ کتب ظاہر الروایۃ میں سے ہے)فرماتے ہیں کہ جب کھوٹے روپے مختلف قسم کے ہوں کسی میں دو تہائی چاندی ہو،کسی میں دو تہائی پیتل،کسی میں آدھوں آدھ چاندی،تو ان میں ایك قسم کا روپیہ دوسری قسم کے روپے سے کمی بیشی کے ساتھ بیچنے میں کچھ حرج نہیں جبکہ دست بدست ہو اس لئےکہ اس کی چاندی اس کے پیتل سے بیچنا قرار دیں گے اور اسکی چاندی اس کے پیتل سے جیسے کوئی شخص پیتل اور چاندی، پیتل اور چاندی کے بدلے بیچے،ہاں ادھار بیچنا روا نہ ہوگا کہ دونوں کو وزن شامل ہے اور دونوں ثمن ہیں تو ادھار حرام ہے۔رہا ان میں کسی قسم کا روپیہ(باقی بر صفحہ آئندہ)

ولا تغتر بالاطلاق فانھم ربما یطلقون

مطلق چھوڑنے سے دھوکانہ کھانا کہ فقہاء بارہا اسے (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)

فلو الفضۃ غالبۃ لایجوز لان المغلوب ساقط الاعتبار فکان الکل فضۃ فلا یجوز الامثل بمثل ولو الصفر غالبا اوکانا سواء جاز متفاضلا صرفا للجنس الی خلاف جنسہ و یشترط کونہ ید ابید [2] نقلہ فی الفصل السادس من بیوع الذخیرۃ وقال وعلی ھذا قالو اذا باع من العدلیات التی فی زمانناواحد باثنین یجوز یدا بیداھ[3]۔اقول: واباحۃ التفاضل یشمل واحدا باثنین و بمائۃ وبالوف فلیکن واحد مما ثلثاہ صفر فی الوزن ثلثۃ ارباع مانصفہ فضۃ فیکون ثلثا ذاك و نصف ھذا مساویین فی الوزن وبیع واحد من ذاك بعشرۃ اٰلاٰف من ھذا یدا بید ولا بد من

 اسی قسم کے روپوں سے کمی بیشی کو بیچنا اس میں اگر اس روپے میں چاندی کا حصہ زیادہ ہے تو جائز نہیں کہ مغلو ب اعتبار سے ساقط ہے تو گویا وہ نری چاندی ہے تو برابر ہی کو بیچنی جائز ہوگی اور اگر پیتل زیادہ یا دونوں برابرہیں تو کمی بیشی جائز ہوگی،اسی طرح کہ ہر ایك کی چاندی دوسرے کے پیتل کے مقابلہ کریں گے اور دست بدست ہونا ضروری ہوگا کہ دونوں طرف چاندی بھی ہے فقط پیتل نہیں کہ باعیا نہما ہونا یعنی تعیین شرط ہوگی اسے فتاوٰی ذخیرہ کی کتاب البیوع فصل ششم میں نقل کیااور کہا اسی بنا پر مشائخ نے فرمایا کہ ہمارے زمانے میں جو کھوٹے روپے عدلی نام سے چلتے ہیں ان میں ایك روپیہ دو روپوں سے دست بدست بیچنا جائز ہے انتہی۔ اقول:(میں کہتا ہوں)اور جب کمی بیشی روا ہوئی تو جیسے ایك روپیہ دو روپے کو بیچنا ویسے ہی سو،ویسے ہی ہزاروں کو۔اب فرض کیجئے کہ وہ روپیہ جس میں دو تہائی پیتل ہے تو ل میں اس روپے کا پونا ہے جس میں آدھی چاندی ہے تو اس کی دو تہائی اور ا سکا آدھا تول میں برابر ہونگے اور ان میں کا ایك روپیہ ان میں کے دس ہزار روپوں کو دست بدست بیچا اور یہ ضرور ہے کہ (باقی برصفحہ آیندہ)

ویریدون بہ ماھواعم من التنزیہ والتحریم وربما یطلقون ولا یریدون بہ الاکراھۃ تنزیہ کما لایخفی من عاشر نفائس عرائس کلما تھم،وقد نصو اعلیہ فی غیر موضع قال فی ردالمحتار قبیل باب الشہید ماذکرہ غیرہ(ای غیر الامام الطحطاوی)من کراھۃ الوطء والقعود ای علی القبور الخ یرادبہ کراھۃ التنزیہ عــــــہ فی غیر قضاء الحاجۃ وغایۃ

مطلق چھوڑتے ہیں اور اس سے مراد وہ معنی ہوتے ہیں جو کراہت تنزیہی اور تحریمی دونوں کو عام ہیں اور بارہا مطلق بولتے ہیں اور اس سے صرف کراہت تنزیہیہ مراد لیتے ہیں جیسا کہ اس پر پوشیدہ نہیں جس نے ان کے کلمات کی نفیس دلہنوں کے ساتھ زندگی بسرکی ہے،اور علماء نے اس معنی کی متعدد مواضع میں تصریح فرمائی ردالمحتار میں باب شہید جو قبروں پر پاؤں رکھنے اور بیٹھنے کی کراہت ذکر فرمائی ہے الخ قضائے حاجت کے سوا اور صورتوں میں اس سے کراہت تنزیہ مراد ہے اور زیادہ سے زیادہ

 

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)

صرف الجنس الی خلافہ فکانت عشرۃ اٰلاف من الفضۃ بواحد من الصفر وای ارباء فی المالیۃ ترید اکثر من ھذا وھذا محرر المذہب محمد ناصا علی انہ لاباس فوجب ان لاتکون الکراھۃ ان کانت الاکراھۃ تنزیہ ولا کلام لاحد بعدنص صاحب المذہب فعلیك بہ وباللہ التوفیق ۱۲منہ۔

 



[1]         فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب السادس نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۲۵۱

[2]        الجامع الکبیر

[3]       فتاوٰی ذخیرۃ کتاب البیوع فصل ششم

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن