30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے بیچا اور ایك طر ف کم ہے اور اس کے ساتھ کوئی اور چیز شامل ہے جس کی قیمت باقی چاندی کے برابر ہے جب تو بیع بلا کراہت جائز ہے اور اگر اتنی قیمت کی نہیں تو کراہت کے ساتھ،اور اگر اس کی قیمت کچھ نہیں جیسے مٹی تو اب بیع جائز ہی نہ ہوگی کہ سود موجود ہے اس لئے کہ جتنی زیادتی ایك طرف رہی اس کے مقابل دوسری طرف کچھ نہیں تو سود ہوگا انتہی،اور اس کلام کو فتح القدیر اور دیگر شروح اور بحر اور رد المحتاروغیرہ میں برقرار رکھا اور معلوم ہے کہ لفظ کراہت جب مطلق بولتے ہیں تو اس سے کراہت تحریم مراد ہوتی ہے بلکہ فاضل عبدالحلیم نے حاشیہ درر میں یہ مسئلہ نقل کیااور اس کی تفصیل کو فتح القدیر پر حوالہ کرکے یوں کہا جب تجھے یہ معلوم ہوچکا تو وہ جو سلطنت عثمانیہ میں رائج ہے کہ ایك ایك قرش اسی روپے عثمانی کو بیچتے ہیں جائز نہیں اس لئے کہ قرش زائد ہے اور اگر روپوں کے ساتھ مثلًا ایك پیسہ ہو تو کراہت کے ساتھ جائز ہے تو احتیاط والے پر واجب ہے کہ ان دونوں کا وزن برابر کرلے یا وہ چیز جو روپوں کے ساتھ ملائی جائے اتنی قیمت کو ہو جس قدر قرش میں روپوں پر زیادتی ہے تاکہ کراہت سے عہدہ بر آہو انتہی،تو انہوں نے
بالوجوب فکان فی خلافہ کراھۃ تحریم وکفی بھا للتأثیم،قلت:جئت لك بتقریر الاعتراض بمالو ابدیتہ من نصك لعلك لم تقدر علی احسن منہ الاٰن اسمع الجواب بتوفیق الوھاب عزجلالہ اما اولا: فلانہ این ذھب عنك فرق الخلق والاصطلاح فان مالیۃ الذہب وکونہ اعز من اضعاف وزنہ من الفضۃ امر خلقی لامدخل فیہ لفرض احد وتقدیرہ ففی مقابلۃ دینار بدرہم ینقدح رجحان المالیۃ فی کل ذہن بخلاف النوط فان تقدیرہ بعشرۃ مثلا انما ھو مجرد اصطلاح من الناس والا فنفس القرطاس لا یساوی درھما ولو عشرۃ فان نظرت الی الاصل فبیع ماقدر بعشرۃ ایضا رجحان عظیم فی المالیۃ وان نظر الی الاصطلاح فاصطلاح غیر حاکم علی العاقدین کما اسمعناك نص الھدایۃ والفتح فاذا قدرہ الناس بعشرۃ وما ھو فی اصلہ الابفلس مثلًا فما المانع لہما ان یقدراہ باثنی عشر فصا عدااوثمانیۃ فما دونھما فلا مساس لھٰذہ المسألۃ بما نحن فیہ واما ثانیا: فلان کلامھم فی مقابلۃ الجنس بالجنس اذفیہ یظہر الفضل الاتری الٰی قولہ
وجوب کی تصریح کردی تو ا س کا خلاف مکروہ تحریمی ہوا اور گناہ کے لئے کراہت تحریم کافی ہے،میں کہوں گا کہ تیرے لئے میں نے اس اعتراض کی اس طور پر تقریر کردی کہ اگر تو اپنی طرف سے کرتا تو شاید اس سے بہتر نہ کرسکتا اور اب وہاب جل جلالہ کی توفیق سے جواب سن اولًا: پیدائش اور اصطلاح کا فرق تیرے ذہن سے کدھر جاتا رہا کہ سونے کی مالیت اور اس کا چاندی سے کئی گناہونا ایك خلقی بات ہے جس میں کسی کے فرض و قرار دادکو دخل نہیں تو ایك اشرفی ایك روپے سے بدلنے میں مالیت کی زیادتی ہر ذہن میں آجائے گی بخلاف نوٹ کے کہ مثلًا اس کی قیمت دس روپے ہونا صرف لوگوں کی اصطلاح سے ہے ورنہ خود کاغذتو نہ ایك روپیہ کا ہے نہ روپے کے دسویں حصہ کا،تو اگر تو اصل کو دیکھے تو دس کا نوٹ دس کو بیچنے میں بھی مالیت میں زیادتی ہے اور اگر اصطلاح کو دیکھیں تو اصطلاح بائع و مشتری پر حاکم نہیں جیساکہ ہم نے تجھ کو ہدایہ و فتح القدیر کا نص سنا دیا تو جب لوگوں نے اسے دس کا قرار دے لیا اور وہ اپنی اصل میں مثلًا ایك ہی پیسے کا ہے تو بائع ومشتری کو اس سے کون منع کرتا ہے وہ اسے بارہ یا زیادہ یاآٹھ یا اس سے بھی کم کا ٹھہرالیں تو اس مسئلہ کو ہماری مبحث سے کوئی علاقہ نہیں،ثانیًا: ان کا کلام اس صورت میں ہے جب جنس کے بدلے جنس ہو کہ اسی میں زیادتی ظاہر ہوتی ہے تو کیا تونے ہدایہ کا یہ قول نہ دیکھا
تبایعا فضۃ بفضۃ او ذھبا بذھب واحدھما اقل [1]ولم یقل تبایعا فضۃ بذہب واحدھما اقل مالیۃ بالسعر المعہود فاذا قوبل الذہب بالذھب المساوی لہ ظہر الفضل وحینئذ یمیز العقل ان المضاف ھل یبلغ مقدار ھذاالفضل اولا بخلاف النوط بالدراھم فانھما جنسان مختلفان فانی یظہر الفضل،ومتی یطابق الفرع الاصل قال فی الفتح الربا ھو الفضل المستحق لاحد المتعاقدین فی المعاوضۃ الخالی عن عوض شرط فی العقد،وعلمت ان الخلو فی المعاوضۃ لا یتحقق الاعند المقابلۃ بالجنس اھ [2] ، وقد قال سیدنا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اذا اختلف النوعان فبیعو اکیف شئتم [3]،فھذا اطلاق منہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ وھو الشارع والیہ المرجع والیہ المفزع
جب چاندی چاندی سے یا سونا سونے سے بیچا اور ایك طرف کمی ہے،اوریوں نہ فرمایا کہ سونے چاندی سے بیچا اور نرخ معروف کے اعتبار سے ایك طرف مالیت کم ہے تو سونا اپنی برابر کے سونے کے برابر جب کیاجائے گا زیادتی ظاہر ہوجائیگی اور اس وقت عقل یہ تمیز کرے گی کہ وہ چیز جو کم کے ساتھ ملائی گئی ہے اس زیادت کے قدر کو پہنچتی ہے یانہیں بخلاف اس کے کہ نوٹ روپوں کو بیچیں کہ وہ دو جنس مختلف ہیں تو زیادتی کدھر سے ظاہر ہوگی اور یہ فرع اس اصل کے کیونکر مطابق آئے گی،فتح القدیر میں فرمایا:ربا وہ زیادتی ہے کہ عقد معاوضہ میں عاقدین میں سے کسی کو اس کا مستحق قرار دیا جائے اور اس زیادتی کے مقابل کوئی عوض اس عقد میں شرط نہ کیا گیا ہو اور تجھے معلوم ہوگیا کہ عوض سے خالی ہونا اسی وقت متحقق ہوگا جبکہ شے کا اس کے جنس سے مقابلہ کیا جائے انتہی۔اور بیشك ہمارے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا جب دو چیزیں مختلف قسم کی ہوں تو جیسے چاہو بیچو۔ تو یہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی کی طرف سے اجازت ہے اور حضور ہی صاحب شرع ہیں اور حضور ہی کی طرف رجوع اور حضور ہی کے یہاں پناہ،تو
فمن حجرہ بعدہ ما سوغہ فیرد علیہ ولا یسمع،
واما ثالثا: فان الکراھۃ فیما اذا لم یبلغ المضموم قیمۃ الفضل انما اثرت عن محمد اماالامام الاعظم والھمام الاقدم وصاحب المذہب الاکرم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فد نص علی عدم الکراھۃ فیہ قال فی الفتح بعد ذکر المسألۃ قیل لمحمد کیف تجدہ فی قلبك قال مثل الجبل ولم ترو الکراھۃ عن ابی حنیفۃ بل صرح فی الایضاح انہ لا باس بہ عند ابی حنیفۃ [4] اھ و سیأ تی فی مثلہ عن البحر عن القنیۃ عن البقالی ان عدم الکراھۃ ھو مذہب ابی حنیفۃ وابی یوسف معا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما وفی الھندیۃ قبیل الکفالۃ عن محیط السرخسی عن محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی انہ قال لو باع الدرہم بالدرہم وفی احدھما فضل من حیث الوزن وفی الاٰخر فلوس جاز ولکن اکرہہ لان الناس یعتادون التعامل بمثل ھذا ویستعملونہ فیما لا یجوز،وقال ابوحنیفۃ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی لاباس بہ لانہ
نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی جائز کی ہوئی چیز کو جو منع کرے تو اس کا منع کرنا اسی پر رد کردیا جائے گا اور مسموع نہ ہوگا،ثالثا جس حالت میں کم کے ساتھ ملائی ہوئی چیز کی قیمت مقدار زیادت کو نہ پہنچے حکم کراہت صرف امام محمد سے مروی ہے اور امام اعظم ہمام اقدم صاحب مذہب اکرم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے تصریح فرمائی کہ اس میں کچھ کراہت نہیں،فتح
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع