30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فان قلت ھذا فی السلعۃ اما النوط فثمن اصطلاحا قلت اولا: فکان ماذا وقد ابنت الجواب بقولك اصطلاحا فان اصطلاح غیر ھما لیس مکرہا لھما فضاع الفرق وضاء الحق وثانیا: ان سلمنا انھما
نہیں کہ وہ مال کہ عام بھاؤ سے سب کے نزدیك دس روپے کی قیمت کا ہے ہر شخص کو جائز ہے کہ خریدار کی رضا مندی سے اسے سوروپے کو بیچے یا ایك پیسہ کو دے دے اور شرع مطہر کی طرف سے اس بارے میں کوئی روك نہیں۔اللہ عزوجل فرماتا ہے:مگر یہ کہ کوئی سودا ہو تمہاری آپس کی رضا مندی کا،اور بیشك فتح القدیر میں فرمایا جیسا کہ اوپر گزرا کہ اگر ایك کاغذ کے ایك ٹکڑے کی قیمت ہر گز نہ ہزار روپے تك پہنچتی ہے نہ سو تك نہ ایك روپے تک،تو اس کا یہی سبب ہے کہ قیمت اور ثمن جد اجدا چیزیں ہیں اور بائع و مشتری پر قیمت (یعنی بازار کے بھاؤ)کی پابندی ثمن میں لازم نہیں(یعنی جوان کے ہاہم قرار داد ہوا)بلکہ انہیں اختیار ہے کہ بازار کے بھاؤ سے کئی گنے زائد پر رضامندی کرلیں یا ا سکے سوویں حصہ پر،اب اگر تو کہے کہ یہ تو متاع کا حکم ہے اور نوٹ تو اصطلاح میں ثمن ہے میں کہوں گا اولًا: پھر کیا ہوا تو نے اصطلاحًا کہہ کر خود ہی جواب ظاہر کردیا کہ اوروں کی اصطلاح عاقدین کو مجبور نہیں کرتی تو فرق ضائع ہوا اور حق واضح ہوگیا ثانیًا: ہم نےنہ مانا
لایقدر ان علی ابطال الثمنیۃ فمن این لك ان الا ثمان الاصطلاحیۃ لا یمکن التغییر فیہا عن التقدیر المصطلح الاتری ان فلوس ربیۃ متعینۃ بتعیین العرف ابدا فکل صبی عاقل یعقل ان ربیۃ بست عشرۃ آنۃ لابخمس عشرۃ ولا بسبع عشرۃ ثم ھذا التعیین العرفی وکونھما اثمانا مصطلحۃ لایحرم علی العاقدین النقص والزیادۃ قال فی التنویر وشرحہ للعلائی من اعطی صیر فیا درھما کبیرا فقال اعطنی بہ نصف درہم فلوسا ونصفا الاحبۃ صح ویکون النصف الاحبۃ بمثلہ وما بقی بالفلوس [1]اھ ولفظ الہدایۃ لوقال اعطنی بنصفہ فلوسا وبنصفہ نصفا الاحبۃ جاز [2] وثالثًا: اعل عن الثمن الاصطلاحی ھذان حجر ان ثمنان خلقۃ و لا یقدر احد علی ابطال ثمنیتھا وقد عقل کل من عقل ان الدینار یساوی ابداعدۃ دراھم ولا یوجد دینار قط یقوم بدرھم واحد و مع ٰذلك نص ائمتنا
کہ عاقدین ابطال ثمنیت پر قادر نہ ہوں تو یہ تونے کہا ں سے نکالا کہ اصطلاحی ثمنوں کی مقدار مصطلح سے تغییر جائز نہیں، کیا نہیں دیکھتا کہ ایك روپے کے پیسے عرف کی تعیین سے ہمیشہ متعین رہتے ہیں کہ ہر سمجھ والا بچہ جانتا ہے کہ ایك روپیہ سولہ آنے کا ہے،نہ پندرہ کا،نہ سترہ کا۔پھر یہ عرفی تعین اور پیسوں کا ثمن اصطلاحی ہونا بائع ومشتری پر کمی بیشی حرام نہیں کرتا۔تنویر الابصار اور اس کی شرح درمختار میں فرمایا جس نے صراف کو ایك روپیہ دیا اور کہا اس کے عوض مجھے آٹھ آنے کے پیسے دے دے اور ایك سکہ کہ اٹھنی سے رتی بھر کم ہو تو ایسی بیع جائز ہے روپے کی اتنی چاندی جو اس چھوٹے سکہ کے برابر ہو وہ تو اس سکہ کے عوض رہے گی اور باقی کے عوض پیسے انتہی،اور ہدایہ کی عبارت یوں ہے کہ اگر کہا آٹھ آنے پیسے دے دو اور رتی کم اٹھنی تو جائز ہے ثالثًا:ثمن اصطلاحی سے اوپرچل یہ ہیں سونا چاندی کی ثمنیت باطل کرنے پر قادر نہیں اور ہر عاقل جانتا ہے کہ اشرفی ہمیشہ کئی روپے کی ہوتی ہے اور ہر گز کوئی اشرفی نہ پائی جائے گی جو ایك روپے قیمت کی ہو اور باوصف اس کے ہمارے ائمہ نے
ان بیع دینار بدرھم صحیح لاربا فیہ وما ذٰلك الالان الجنس اذا اختلف حل التفاضل واختلاف جنس النوط والربابی مما لایجھلہ الامجنون قال فی الھدایۃ والدر و عامۃ الاسفار الغر صح بیع درہمین و دینار بدرہم و دینارین بصرف الجنس بخلاف جنسہ وکذا بیع احد عشر درھما بعشرۃ دراہم و دینار [3] اھ،قال ابن عابدین فتکون العشرۃ بالعشرۃ والدرھم بالدینار [4] اھ فاذا صح بیع ربیۃ بجنیۃ قیمتہ بالعرف العام خمس عشرۃ ربیۃ ولم یکن ربا فکیف یکون بیع نوط مرقوم علیہ رقم عشرۃ باثنتی عشرۃ ربیۃ ربا ما ھذا الا بھت بحت فانقلت ماذکرتم من المسائل وان صح البیع فیہا لکنہ مکروہ والمکروہ ممنوع فلا یحل وان صح کذا ھذا قال فی الھدایۃ لو تبایعا فضۃ بفضۃ او ذھبا بذھب
تصریح فرمائی کہ ایك اشرفی ایك روپے کی بیچنا صحیح ہے اور اس میں اصلًا ربا نہیں اور اس کے سوا اس کا کوئی سبب نہیں کہ جب جنس مختلف ہوں تو کمی بیشی جائز ہے اور نوٹ اور روپوں کی جنس مختلف ہونا ایسی بات ہے جس سے کوئی مجنون ہی ناواقف ہو۔ہدایہ اور درمختار اور عام نورانی کتابوں میں فرمایا دو روپوں اور ایك اشرفی کو ایك روپے اور دو اشرفی کے عوض بیچنا درست ہے کہ ہر جنس اپنی مخالف جنس کے مقابل کردی جائے گی اسی طرح گیارہ روپوں کو دس روپے اور ایك اشرفی کے عوض بیچنا انتہی،ردالمحتار میں فرمایا دس روپے تو دس روپے بدلے ہوجائیں گے اور گیارہویں روپے کے بدلے ایك اشرفی انتہی،تو جب ایك روپیہ ایك اشرفی کو بیچنا درست ہوا جس کی قیمت عام طور پر پندرہ روپے ہیں اور ربا نہ ہوا تو دس کا نوٹ بارہ کو بیچنا کیونکر سود ہوگا،یہ تو نرا بہتان ہے،اگر تو کہے کہ یہ جو مسئلے تم نے ذکر کئے ان میں اگرچہ بیع صحیح ہے مگر مکروہ ہے اور مکروہ ممنوع ہوتاہے توحلال نہ ہوگا اگرچہ صحیح ہو،ایسے ہی یہاں ہے۔ہدایہ میں فرمایا اگر سونے کو سونے یا چاندی کو چاندی
واحد ھما اقل و مع اقلھما شیئ اٰخر تبلغ قیمتہ باقی الفضۃ جاز البیع من غیر کراہیۃ وان لم تبلغ فمع الکراھۃ وان لم یکن قیمۃ کالتراب لایجوز البیع لتحقق الربا اذا الزیادۃ لایقابلھا عوض فیکون ربا اھ [5]واقرہ فی الفتح والشروح والبحر وردالمحتار وغیرہا و معلوم ان مطلق الکراھۃ ینصرف الی کراھۃ التحریم بل قال عبدالحلیم علی الدرر بعد نقل المسئلۃ واحالۃ تفصیلھا علی الفتح مانصہ "اذا عرفت ھذا فما یتداول فی الدولۃ العثمانیۃ من بیع قرش واحد بثمانین درھما عثمانیا لم یجز لزیادۃ القرش ولو کان مع الدراھم نحو فلس جازمع الکراھۃ فالواجب علی المحتاط تسویتھما وزنا ا و یکون قیمۃ ماکان مع الدراہم قدر قیمۃ الزیادۃ حتی یخلص عن عہدۃ الکراھۃ [6] اھ فقد صرح
[1] الدرالمختار شرح تنویرالابصار کتاب البیوع باب الربوٰ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۵۷
[2] الہدایۃ کتاب الصرف مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۱۱۲
[3] الہدایہ کتاب الصرف مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۹۔۱۰۸،الدرالمختار کتاب البیوع باب الصرف مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۵۵
[4] ردالمحتار کتاب البیوع باب الصرف داراحیا ء التراث العربی بیروت ۴/ ۲۳۹
[5] الہدایۃ کتاب البیوع باب الصرف مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۱۰۹
[6] حاشیۃ الدرر لعبد الحلیم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع