دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

اور صور باقیہ میں اگرچہ یہ عقد لباس ہبہ یاصلح میں ہو مگر معنی بیع وشراء ہے زید بائع ہندہ مشتریہ مکان واسامی مبیع مہر ثمن، اما فی الہبۃ بالعوض فظاھر واما فی الصلح فکما فی العالمگیریۃ عن المحیط اذا وقع الصلح عن دین فحکمہ حکم الثمن فی البیع وان وقع علی عین فحکمہ حکم المبیع فمایصلح ثمنا فی البیع اومبیعا یصلح بدلا فی الصلح وما لا لا [1]۔لیکن ہبہ بالعوض میں تو یہ ظاہر ہے اور صلح اس لئے جیسا کہ عالمگیریہ میں بحوالہ محیط آیا ہے کہ اگر صلح دین پر واقع ہو تو اس کاحکم وہی ہے جو بیع میں ثمن کا ہے اور اگر صلح عین پر واقع ہوتو اس کاحکم وہی ہے جو بیع میں مبیع کا ہے چنانچہ جو چیز بیع میں ثمن یا مبیع بن سکتی ہے وہ صلح میں بدل بھی بن سکتی ہے اور جو بیع میں ثمن یا مبیع نہیں بن سکتی وہ بدل صلح بھی نہیں بن سکتی،۔(ت)

اب یہ کلام مسئلہ اعتیاض عن الوضائف کے طرف مجر ہوگا وہاں ہر چند علماء کواختلاف ہے

اوریہ مبحث معرکۃ الآراء ہے مگر مرضی جماہیر فحول ونحاریر عدول صحت وقبول ہے اور وہی ہنگام اعتبار وملاحظہ نظائر ان شاء اللہ تعالٰی اظہر،اگرچہ دوسرا پلہ بھی بہت ثقیل وگراں ہے،

فی الدالمختار من الاشباہ المذہب عدم اعتبار العرف الخاص لکن افتٰی کثیر باعتبارہ وعلیہ فیفتی بجواز النزول من الوظائف بمال [2] الخ قال العلامۃ السید احمد الطحطاوی فی حاشیتہ وقد تعارف ذٰلك الفقہاء عرفا قدیما رضیہ العلماء والحکام الی ان قال عن ابی السعود عن السید احمد الحموی من بعض الفضلاء عن العلامۃ بدرالدین العینی ان النزول عن الوضائف صحیح قیاسا علی ترك المرأۃ قسمہا لصاحبتہا لان کل منہما مجرد اسقاط [3] الخ۔

درمختار میں بحوالہ اشباہ مذکور ہے کہ مذہب کہ عرف خاص کے عدم اعتبار کا ہے لیکن کثیر علماء نے اس کے اعتبار کرنے کا فتوٰی دیا اسی بنیاد پر مال کے بدلے وظائف سے دستبرداری کے جواز کا فتوٰی دیا گیا الخ علامہ سید احمد طحطاوی نے اپنے حاشیہ میں کہا کہ فقہاء نے اس کو عرف قدیم سمجھا اور علماء وحکام نے اس کو پسند کیا یہاں تك کہ علامہ طحطاوی نے کہا کہ ابوسعود نے بعض فضلاء کا قول بحوالہ علامہ بدرالدین عینی سید احمد حموی سے نقل کیا کہ وظائف سے دستبرداری صحیح ہے قیاس کرتے ہوئے عورت کے اپنی باری اپنی سوکن کے لئے چھوڑ دینے پر،کیونکہ ان دونوں میں سے ہر ایك محض اسقاط ہے،الخ(ت)

علامہ سید احمد حموی غمز عیون البصائر میں علامہ نورالدین علی مقدسی سے بعض فروع مبسوط سرخسی پر اس مسئلہ کا اعتبار اور صحت کا استظہار نقل کرکے فرماتے ہیں:فلیحفظ فانہ نفیس جدا [4](اس کو یادرکھنا چاہئے کیونکہ یہ بہت عمدہ ہے۔ت)

خاتم المحققین علامہ ابن عابدین شامی ردالمحتار میں کلام علامہ بیری شارح اشباہ سے اس کی تائید نقل اور حقوق موصی لہ بالخدمہ وقصاص ونکاح ورق کا حقوق شفعہ وقسم زوجہ وخیار مخیرہ فی النکاح سے بدیں وجہ کہ صور اولٰی میں حق اصالۃ ثابت ہے تو ان سے اعتیاض جائز

بخلاف اخیرہ کے کہ وہاں ثبوت حق صرف بربنائے ضرر ہے جب صاحب حق اعتیاض پر راضی ہو ا معلوم ہوا مستضررنہ تھا راسا حق باطل ہوا یہ عوض کیسا فرق بیان کرکے فرماتے ہیں:

ولا یخفی ان صاحب الوظیفۃ ثبت لہ الحق فیہ بتقریر القاضی علی وجہ الاصالۃ لاعلی رفع الضرر (ینقل الی ماقال)و ان کان الاظہر فیہا ماقلنا [5]۔

اورمخفی نہ ر ہے کہ بیشك صاحب وظیفہ کے لئے حق قاضی کی تقریر سے بطور اصل ثابت ہوانہ کہ رفع ضرر کے طورپر(نقل کرتے ہوئے یہاں تك کہا)اگرچہ اس میں زیادہ ظاہر وہی ہے جوہم نے کہا۔(ت)

اس تقدیر پر یہ تو وہ شبہہ کو صفقہ واحدہ میں صالح وغیر صالح کو جمع کیا راسا مقلوع اور اگر مذہب آخر اختیار کیجئے تاہم فقیہ پر روشن کہ کم من شیئ یصح ضمنا ولایصح قصدا(بہت سی اشیاء ضمنا صحیح ہوتی ہے اور قصدا صحیح نہیں ہوتیں۔ت)آخر مرو ر وشرب و تعلی بھی تو حقوق مجردہ ہیں اگر بہ تبعیات رقبات طریق ونہر وعلو ان کی بیع بالا تفاق جائز،یہاں بھی اسامی بیچنا صرف اس حق مجرد کے بیع نہیں بلکہ اس کے ساتھ اسپ ولباس بھی ہے کمالایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)پھر استقلال و تمحض کہا جو بطلان مقطعوع ہو معہذا اگر ایك مذہب پر بیع اسامی مطلقًا باطل ہی مانی جائے،تاہم اس قدر تو یقینی کہ یہ بطلان مختلف فیہ ہے،پس صرف اتنا ثابت ہوگا کہ زید نے صفقہ واحدہ میں ایك شے صالح البیع بالاتفاق اور شے دوسری مختلف الصلاحیۃ کو ضم کیا اور ایسی صورت میں قائلین بالبطلان کے نزدیك اگر چہ اس مضمون کی بیع باطل،مگر اس کافساد مضمون الیہ تك ساری نہیں ہوتا اس کی بیع بالاتفاق صحیح رہتی ہے،خلاصہ یہ کہ مانعین کے نزدیك بھی حل وظیفہ مثل اوقاف ہے نہ کہ مانند حرومیۃ کہ اس کے بطلان سے بیع مکان بھی فاسد ٹھہرے، فی الدرالمختار وقید وا سرایۃ الفساد فی باب البیع الفاسد بالفاسد القوی المجمع علیہ فیسری کجمع بین حرو عبد بخلاف الضعیف المختلف فیقتصر علی محلہ ولا یتعداہ کجمع بین عبدو مدبر [6] الخ وفی الشامیۃ

درمختار میں ہےکہ فقہاء نے بیع فاسد کے باب میں سرایت فساد کو فساد قوی متفق علیہ کے ساتھ مقید کیا تو وہ فاسد تمام عقدمیں سرایت کرےگا جیسے آزاد اور غلام کو عقد واحد میں جمع کرنا بخلاف فساد ضعیف اختلاف کے کہ وہ اپنے محل پر بندرہتا ہے اور اس سے

 

 



[1]       فتاوٰی ہندیہ کتاب الصلح نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۲۳۱

[2]       درمختار کتاب البیوع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴

[3]       حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب البیوع دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۹

[4]       غمزعیون البصائر القاعدۃ الاولٰی ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱/ ۱۳۹

[5]      ردالمختار کتاب البیوع مطلب فی النزول عن الوظائف داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۵

[6]      الدرالمختار کتاب الاجارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۷

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن