دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

والشرنبلالیۃ والدر والحواشی وغیرہا وھو حسن وجیہ کذٰلك نقول ھٰھنا یجب بعد تعریف المال بمامر ان یکون کل ماذکرنا ممالایساوی فلسا ما لا متقوما اما ان کانت اثمان اصغر من فلس کما فی دیارنا من وضع ربع الفلس وثمن الفلس فلا شک، وکون الشرع لم یذکر مادون فلس لایستلزم اھدار المالیۃ المتیقنۃ،فھذاما عندی والعلم بالحق عند ربی واللہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔

واما السابع

فاقول:قد اٰذناك انہ ثمن اصطلاحی فاستبدالہ بالثوب لایکون مقایضۃ بل بیعا مطلقًا ولا یتعین النوط بل یلزم فی الذمۃ کالفلوس۔

واما الثامن

فاقول:نعم یجوز اقراضہ لما تقدم انہ مثلی ولا یقضی الا بالمثل لانہ شان القرض بل کل دین لایقضی الابمثلہ الا ان یتراضیا۔

اور شرنبلالیہ اور درمختار اور حواشی وغیرہا میں مقرر رکھا اور وہ اچھا اور موجہ کلام ہے ایسا ہی ہم یہاں کہتے ہیں کہ جب مال کی تعریف وہ ٹھہری جو اوپر گزری تو واجب ہے کہ جتنی چیزیں اوپر ذکر کیں جو ایك پیسہ کی نہ تھیں سب قیمت والے مال ہونگے تواگر پیسہ سے چھوٹے ثمن پائے جاتے ہوں جیسے ہمارے شہروں میں چھدام اور دمڑی مقرر ہیں جب تو شك نہیں اوریہ کہ شرع مطہر نے پیسہ سے کم کا ذکر نہ فرمایا تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ جو مالیت یقینا معلوم ہے باطل کردی جائے۔یہ وہ ہے جو میرے پاس ہے اور حق کا علم میرے رب کے پاس ہے واللہ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم۔

جواب سوال ہفتم

فاقول:(میں کہتا ہوں)ہم تمہیں بتاچکے ہیں کہ نوٹ ثمن اصطلاحی ہے تو کپڑے سے اس کا بدلنا مقایضہ نہ ہوگا بلکہ بیع مطلق ہوگا اور خاص کوئی معین نوٹ دینا نہ آئے گا بلکہ پیسہ کی طرح ذمہ پر لازم ہوگا۔

جواب سوال ہشتم

فاقول:(پس میں کہتاہوں)ہاں نوٹ قرض دینا جائز ہے اس لئے کہ اوپر گزرچکا کہ وہ مثلی ہے اور مثل ہی کے دینے سے ادا کیا جائے گا کہ قرض کی یہی شان ہے بلکہ کوئی دین ادا نہیں کیاجاتا مگر اپنے مثل سے مگر یہ کہ طرفین(کسی دوسری چیز کے لینے دینے پر)راضی ہوجائیں۔

واما التاسع

فاقول: نعم یجوز اذا قبض النوط فی المجلس کیلا یفترقا عن دین بدین و تحقیق ذٰلك ان بیع النوط بالدراہم کالفلوس بھا لیس بصرف حتی یجب التقابض فان الصرف بیع ماخلق للثمنیۃ بما خلق لہا[1]کما فسرہ بہ البحر والدروغیرہما ومعلوم ان النوط والفلوس لیست کذٰلك وانما عرض لھا الثمنیۃ بالاصطلاح مادامت تروج والا فعروض وبعدم کونہ صرفا صرح فی ردالمحتار عن البحر عن الذخیرۃ عن المشائخ فی باب الربا نعم لکونھا اثمانا بالرواج لابدمن قبض احد الجانبین و الاحرم لنھیہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ عن بیع الکالئ بالکالئ والمسئلۃ منصوص علیہا فی مبسوط الامام محمد واعتمدہ فی المحیط عــــــہ والحاوی والبزازیۃ والبحر والنھر جواب سوال نہم

فاقول:(تو میں کہتاہوں)ہاں جائز ہے جبکہ اسی جلسہ میں نوٹ پر قبضہ کرلیا جائے تا کہ طرفین دین کے بدلے دین بیچ کر جدا نہ ہوں اور تحقیق اس مسئلہ کی یہ ہے کہ روپوں کے بدلے نوٹ بیچنا بیع صرف نہیں جیسے روپے کے بدلے پیسے تاکہ دونوں طرف کی قبضہ شرط ہو اس لئے کہ صرف یہ ہے کہ جو چیز ثمن ہونے کے لئے پیدا کی گئی ہے اسے ایسی ہی چیز کے ساتھ بیچیں جیساکہ اسکی یہ تعریف بحر ودر وغیرہ میں فرمائی اور معلوم کہ نوٹ اور پیسے ایسے نہیں ان میں تو ثمن ہونا اصطلاح کے سبب عارض ہوگیا جب تك چلتے رہیں ورنہ وہ متاع ہیں اور اس کے بیع صرف نہ ہونے کی ردالمحتار باب ربا میں بحر،اس میں ذخیرہ،اس میں مشائخ سے تصریح فرمائی،ہاں اس لئے کہ وہ چلن کے سبب ثمن ہے دونوں طرف میں سے ایك کا قبضہ ضرور ہے ورنہ حرام ہوجائے گا اس لئے کہ نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے دین سے دین کو بیچنے سے منع فرمایا ہے۔مبسوط امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی میں اس مسئلہ کی تصریح ہے اور اسی پر اعتماد کیا محیط اور حاوی اور بزازیہ اور بحر اور نہر 

 

عــــــہ: ای محیط الامام السرخسی انتہی منہ۔

وفتاوی الحانوتی والتنویر والھندیۃ وغیرہا وھو مفاد کلام الاسبیجابی کمانقلہ الشامی عن الزین عنہ،

ففی الھندیۃ عن المبسوط اذااشتری الرجل فلو سا بدراہم ونقد الثمن ولم تکن الفلوس عندالبائع فالبیع جائز اھ [2] وفیہا عن الحاوی وغیرہ لو اشتری مائۃ فلس بدرہم فقبض الدرہم ولم یقبض الفلوس حتی کسدت لم یبطل البیع قیاسا ولو قبض خمسین فلسا فکسدت بطل فی النصف ولو لم تکسد لم یفسد وللمشتری مابقی من الفلوس اھ [3] وفیہا عن محیط السرخسی نحوہ وفیہا عن الذخیرۃ لو اشتری فلوسا او طعاما بدراھم حتی لم یکن العقد صرفا وتفرقا بعد قبض احد البدلین حقیقۃ یجوز اما اذا حصل الافتراق بعد قبض احد البدلین حکما لاغیر لایجوز سواء کان العقد صرفا اولم یکن بیانہ فیما اذاکان لہ علیہ فلوس او طعام فاشتری من علیہ الفلوس او الطعام الفلوس اوالطعام بدراہم وتفرقا

اور فتاوٰی حانوتی اور تنویر اور در اور ہندیہ وغیرہا میں،اور وہی مفاد ہے کلام امام اسبیجابی کا جیسا کہ شامی نے بحوالہ بحران سے نقل کیا،ہندیہ میں مبسوط سے ہے کہ کسی نے روپوں کے عوض پیسے خریدے روپے تو اس نے دے دئے اور پیسے بائع کے پاس نہ تھے تو بیع جائز ہے انتہی،نیز عالمگیری میں حاوی وغیرہ سے ہے جب ایك روپے کے سو پیسے خریدے روپے پر تو



[1]          درمختار باب الصرف مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۵۵

[2]         فتاوٰی ہندیۃ کتاب الصرف الفصل الثالث فی بیع الفلو س نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۲۲۴

[3]        فتاوٰی ہندیۃ کتاب الصرف الفصل الثالث فی بیع الفلو س نورانی کتب خانہ پشاور ۳/۲۶۔۲۲۵

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن