30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ما کان شرع البیع الادفع تلك الشنائع ففی تحجیرہ وقد وسعہ اللہ اعادۃ لھا وعود علی مقصود الشرع بالنقض۔قال المحقق فی الفتح لولم یشرع البیع سببا للتملیك فی البدلین لاحتاج ان یؤخذعلی التغالب والمقاھرۃ او السؤال و الشحاذۃ او یصبر حتی یموت وفی کل منھا مالایخفی من الفساد وفی الثانی من الذل والصغار ما لایقدر علیہ کل احد ویزری بصاحبہ فکان فی شرعیتہ بقاء المکلفین المحتاجین و دفع حاجاتھم علی النظام الحسن اھ [1] ومعلوم ان الشرع لم یحد فی ھذا حدا انما احل البیع وھو مبادلۃ مال بمال الخ والمال کما مرما یمیل الیہ الطبع ویمکن ادخارہ لو قت الحاجۃ وھذاصادق قطعا علی ماقصصنا ممایساوی نصف فلس وربعہ فایجاب ان لایکون الابفلس لایکون الاتحکما و زیادۃ فی الشرع فکیف یقبل ثم لعل لقائل ان یقول لم یات الشرع بتقدیر الفلس وھو مختلف باختلاف الزمان والمکان
بیع کا مشروع کرنا انہیں قباحتوں کے دفع کرنے کو تھا تو اس کے تنگ کرنے میں حالانکہ اللہ تعالیٰ اسے واسع فرماچکا ہے انہیں قباحتوں کا پلٹ آنا ہے اور مقصود شرع پر اس کے توڑنے کے ساتھ عون کرنا ہے،محقق نے فتح القدیر میں فرمایا اگر بیع ثمن و مبیع دونوں کی تملیك کا سبب بناکر جائز نہ کی جاتی تو حاجت پڑتی کہ یا تو زبردستی یا دھینگا دھینگی لیتے یا بھیك مانگتے یا آدمی صبر کرتا یہاں تك کہ مرجائے اور ان سب باتوں میں کھلا ہوا فساد ہے بھیك میں وہ ذلت وخواری ہے جس پر ہر شخص قادر نہیں اور آدمی کو حقیر کرتی ہے تو بیع کی مشروع کرنے میں محتاج مکلفوں کی بقا ہے اور عمدہ انتظام کے ساتھ ان کی حاجتوں کو پورا کرنا ہے انتہی،اور معلوم ہے کہ شرع مطہر نے اس بارہ میں کوئی حد مقرر نہ فرمائی بس بیع حلال کی ہے اور وہ ایك مال کا دوسرے مال سے بدلنا ہے الخ اور مال جیسا کہ گزرچکا وہ چیز ہے جس کی طرف طبیعت میل کرے اور وقت حاجت کے لئے اس کا اٹھارکھنا ممکن ہو اور یہ تعریف یقینًا ان چیزوں پر صادق ہے جو ہم نے اوپر بیان کیں جو دھیلے اور چھدام کو آتی ہیں تو یہ واجب کرنا کہ پیسہ سے کم کو بیع نہ ہوگا مگر زبردستی حکم اور شرع پر زیادت تو کیونکر مقبول ہو،پھر شاید کہنے والا کہہ سکے کہ شریعت نے پیسہ کی مقدار مقرر فرمائی نہیں اور وہ وقت اور جگہ کے بدلنے سے
ولا سبیل الی اعتبار کل فی محلۃ لماتقدم ان المالیۃ تثبت بتمول البعض فوجب الفحص کل حین عن اصغر فلس یروج فی الدنیا وفیہ حرج والحرج مدفوع بالنص فافھم وقال فی الکفایۃ اول البیع الفاسد قد تثبت صفۃ التقوم بدون المالیۃ فان حبۃ من الحنطۃ لیست بمال حتی لایصح بیعھا وان ابیح الانتفاع بھا شرعا لعدم تمول الناس ایاہ اھ [2] ومثلہ فی الکشف الکبیر والبحرالرائق وردالمحتار وقال فی الفتح مکان حبۃ حبات ولم نراحدا منھم ذکر ان ما دون مایساوی فلسالیس بمال و کان مبنی الفرع علی انہ لم یکن فی زمنہ ثمن دون الفلس او لم یجدہ فی تقدیرات الشرع فحکم بان مادونہ لیس بشیئ کما حکم فی الاسرار بان مادون الحبۃ من الذھب والفضۃ لاقیمۃ لہ[3] کما نقل عنہا فی الفتح لانھم لم یعرفوا
بدلتا ہے اور اس طرف راہ نہیں کہ ہر جگہ وہیں کا پیسہ معتبرہو کہ اوپر گزرچکا کہ مالیت بعض کے مال بنانے سے بھی ثابت ہوجاتی ہے تو واجب ہوا کہ ہر وقت اس کی تلاش کریں کہ تمام دنیا میں سب سے چھوٹا پیسہ کون سا ہے اور اس میں حرج ہے اور حرج کون نص نے دفع فرمایا ہے فافھم اور بیشك کفایہ کے شروع باب باب بیع فاسد میں فرمایاکہ کبھی شے میں باقیمت ہونے کی صفت بغیر مالیت بھی ثابت ہوجاتی ہے کہ گیہوں کا ایك دانہ مال نہیں ہے یہاں تك کہ اس کی بیع صحیح نہیں اگرچہ اس سے نفع حاصل کرنا شرعًا جائز ہے اس لئےکہ لوگ اسے مال نہیں سمجھتے انتہی،اور ایسا ہی کشف کبیر و بحر الرائق و ردالمحتار میں ہے اور فتح القدیر میں ایك دانہ کی جگہ چند دانے فرمایا اور ہم نے ان میں سے کسی کو یہ فرماتے نہ دیکھا کہ ا یك پیسے سے کم کی چیز مال نہیں اور شاید اس مسئلہ قنیہ کی بناء اس پر ہو کہ ان کے زمانے میں پیسے سے کم کوئی ثمن نہ تھا یا یہ کہ شرع مطہر نے جو اندازے مقرر فرمائے ان میں پیسے سے کم نہ پایا تو یہ حکم لگادیا کہ ایك پیسے سے کم کی جو چیز ہو وہ کچھ نہیں جیسے اسرار میں حکم فرمایا کہ جو چاندی یا سونا رتی بھر سے کم ہو اس کی کچھ قیمت نہیں جیسا کہ ان سے فتح القدیر میں نقل فرمایا اس لئے کہ ان علماء نے چاندی سونے
لھا مقدارا دون الحبۃ وقد عرفت فی دیارنا الی ثمن حبۃ وقیمۃ ذھب یساوی ثمن حبۃ فی بلادنا الان فلسان ای نحو ھللۃ واحدۃ ھھنا وھو لا شك مال متقوم فکیف بما فوقہ مما یساوی ربع حبۃ وکما حکم کثیرون بان مادون نصف صاع خارج عن المعیار فیجوز فیہ التفاضل مع اتحاد الجنس وعلیہ تتفرع مسألۃ حفنۃ بحفنتین وقدردہ المحقق فی الفتح قائلا لا یسکن الخاطر الی ھذا بل یجب بعد التعلیل بالقصد الی صیانۃ اموال الناس تحریم التفاحۃ بالتفاحتین والحفنۃ بالحفنتین اما ان کانت مکاییل اصغر منھا کما فی دیارنا من وضع ربع القدح وثمن القدح المصری فلا شك وکون الشرع لم یقدر بعض المقدرات الشرعیۃ فی الواجبات المالیۃ کالکفارات وصدقۃ الفطر باقل منہ لا یستلزم اھدار التفاوت المتیقّن[4] الخ واقرہ فی البحر والنھر
کے لئے رتی سے کم کوئی اندازہ نہ پہچانا اور ہمارے شہروں میں اس کا اندازہ رتی کے آٹھویں حصہ(ایك چاول)تك معروف ہے اور آج کل ہمارے یہاں چاول بھر سونے کی قیمت دو پیسے ہے یعنی یہاں کے ایك ہﷲ کے قریب وہ بلا شبہ قیمت والا مال ہے نہ کہ وہ جواس سے بھی زیادہ ہے جو پاؤ رتی یا نصف رتی یا اس سے زائد کا ہو ایك رتی تك اور جیسے بہت علماء نے حکم فرمایا کہ نصف صاع سےجو کم ہو وہ اندازہ سے باہر ہے تو اس میں ایك چیزاپنی جنس کے بدلے کمی بیشی کے ساتھ بیچنا جائز ہے اور وہ مسئلہ کہ ایك لپ گیہوں دولپ کے بدلے بیچنا جائز ہے اسی پرمتفرع ہے اور محقق نے فتح القدیرمیں اس کارد کیا یہ فرماتے ہوئےکہ اس حکم پر دل کو اطمینان نہیں ہوتا بلکہ جب حرمت کی وجہ لوگوں کامال محفوظ رکھنا ہے تو اس پر نظر کرکے واجب ہے کہ دوسیب کے بدلے ایك سیب اور دولپ کے بدلے ایك لپ کا بیچنا حرام ہو اگر نصف سے چھوٹے پیمانے پائے جاتے ہوں جیسے ہمارے دیار مصر میں چہارم پیالہ اور پیالہ کا آٹھواں حصہ مقرر ہے جب تو کوئی شك نہیں اور یہ بات کہ شرع نے واجبات مالیہ مثل کفارہ وصدقہ فطر میں اندازے سے مقرر فرمائے ہیں ان میں نصف صاع سےکم کوئی اندازہ نہ رکھا اس سے یہ لازم نہیں آتاکہ وہ تفاوت جو یقینا معلوم ہے بے اثر کردیا جائے الخ اور محقق کے اس کلام کو بحر اور نہر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع