30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
البرنی بتمرۃ من الجنیب مثلا لم تمسہ روایۃ المعلی ولا ترجیح المحقق ثم الروایۃ ایضا لا تقول الا بالکراھۃ فاین البطلان و عدم الانعقاد الذی کنتم تدعون،و اما ۲الثانیۃ فاقول: اکثر تعیش الفقراء فی مملکۃ الھند علی کبرھا واتسا عھا(فان عمارتہا عرضا من ثمان درج شمالیۃ عن خط الاستواء الی خمس وثلثین درجۃ وطولامن ست و ستین درجۃ شرقیۃ عن قرینص الی اثنتین و تسعین درجۃ)انما ھو بالمبا یعات باجزاء فلس نصف وربع وثمن وغیرہا فرب فقیر یشتری لادامہ شیئا من البقول بنصف فلس ویصب فیہ دھن الشیرج بنصف فلس والتوابل الثلث جمیعا بربع فلس والثوم والبصل معا بربع فلس وکذالملح بربع فلس فیتھیؤلہ الادام فی فلسین الا ربعا ویأکلہ غداء وعشاء، و یشتری لسراجہ الدہن بنصف فلس یکفیہ من المساء الی قریب نصف اللیل وقربۃ کبیرۃ من الماء العذب بنصف فلس وقد کانت قبیل ھذا بثلث فلس وتجدعلبۃ الکبریت بنصف فلس ویشتری لعیالہ من الذفواکہ نہیں ہوتا تو اگر مثلًا ایك چھوہارہ قسم برنی کا قسم جنیب کے ایك چھوہارے سے بیچے تو اس سے نہ روایت معلی کو کچھ تعلق ہوگا نہ ترجیح محقق کو،پھر وہ روایت بھی تو اتنا ہی کہتی ہے کہ مکروہ ہے بیع باطل اور اصلًا منعقد نہ ہونا جس کا تمہیں دعوٰی تھا وہ کہاں گیا،رہی دوسری مخالفت اقول:(میں کہتا ہوں)ملك ہند کہ اس قدر کبیرو وسیع ہے(جس کا عرض خط استواء سے شمال کی جانب آٹھ درجے سے پینتیس درجے تك ہے اور طول گرینچ سے(کہ لندن کی رصدگاہ ہے)شرق کی جانب چھیاسٹھ درجے سے بانوے درجے تك ہے)اس میں اکثر فقراء کی معیشت اسی خریدو فروخت سے ہے جو پیسے کے حصے دھیلے چھدام دمڑی وغیرہ سے ہوتی ہے تو بہتیرے فقیر اپنے سالن کے لئے کوئی ساگ دھیلے کاخر ید لیتے ہیں اور اس میں دھیلے کا تلوں کا تیل ڈالتے ہیں اور تینوں مسالے چھدام کے اور لہسن پیاز چھدام کے،اور یونہی چھدام کا نمک،تو پونے دو پیسے میں اس کی ہانڈی تیار ہوجاتی ہے اور اسے صبح وشام دو وقت کرکے کھالیتا ہے اور اپنے چراغ کے لئے دھیلے کا تیل خریدتا ہے جو شام سے آدھی رات تك اس کے لئے کافی ہوتا ہے اور میٹھے پانی کی بڑی مشك دھیلے کو،اور تھوڑا ہی زمانہ گزرا کہ پیسے کی تین مشکیں تھیں،اور دیا سلائی کی ڈبیا تمہیں دھیلے کو مل جائے گی اور اپنے بال بچوں کے لئے ہندوستانی میووں میں سب سے
الھند المشھورۃ عندا لعرب باسم العنب بفتح العین وسکون النون وبالفارسیۃ انبۃ وبالھندیۃ اٰم جملۃ کثیرۃ بنصف فلس وکذامن الجامون ومن التمر الھندی بربع فلس،وان کان متعودا بالتامول والتتن فیکفیہ لیوم بلیۃ الوق بنصف فلس والفوفل والکات والتنباك الماکول کل بربع ربع فتنقضی حاجۃ یومہ فی فلس وربع وان کان یشرب الدخان فیکفیہ التتن بنصف فلس وامثال ذٰلك اشیاء کثیرۃ تباع باجزاء الفلس حتی الثمن ونصف الثمن ولو لا ذٰلك لضاق الامور و ثقل علی اخفاء ذات الید بحیث لا یطیقون ولو ابطلنا تلك البیاعات الشائعۃ فی الاٰلف مولفۃ من المسلمین والزمنا ھم ان لایشتروا شیئا باقل من فلس قط مع ان حاجاتھم تندفع بالربع وبالثمن لکان ھذا من وضع الاصر علیہم وما جاءت ھذہ الشریعۃ السمحۃ السہلۃ الغراء الا برفعہ، وربما لایجدون ھذا القدر من الفلوس فان الادام الذی کان تھیأفی فلس واحد وثلثۃ ارباع فلس الا ان لایتأتی الافی ثمانیۃ فلوس والتامول التام فی فلس و ربع لایتم الافی اربعۃ فلوس وقس علیہ فاذا لم یجد لادامہ الا فلسین والزمتموہ بثمانیۃ
مزہ دار میوہ(جسے اہل عرب عنب بفتح عین و سکون نون)کہتے ہیں اور فارسی میں انبہ اور ہندی میں آم،بہت سے ایك دھیلے کو اور ایسے ہی جامن اور املیاں چھدام کو،اور اگر پان تمباکو کا عادی ہے تو اسے ایك رات دن کیلئے کفایت کرینگے دھیلے کے پان اور کتھا اور چھالیا اور کھانے کا تمبا کو چھدام چھدام کے تو اس کی ایك دن کی حاجت سوا پیسے میں نکل جائیگی اور اگر حقہ پیتا ہو تو دھیلے کی تمباکو کافی ہے اور اسی طرح بہت چیزیں پیسہ کے حصوں سے بکتی ہیں یہاں تك کہ دمڑی اور آدھی اور ایسا نہ ہو تو معاملہ تنگ ہوجائے اور کم استطاعت والوں پر ایسا گراں گزرے کہ اٹھا نہ سکیں اور یہ بیعیں کہ ہزاراں ہزار مسلمانوں میں شائع ہیں اگر ہم باطل کردیں اور ان پر لازم کریں کہ کبھی کوئی چیز پیسہ سے کم کی نہ خریدیں حالانکہ ان کی حاجتیں چھدام اور دمڑی میں پوری ہوجاتی ہیں تو یہ ان پر بھاری بوجھ ڈالنا ہوگا اور یہ روشن اور نرم و آسان شریعت تو نہ آئی مگر بوجھ کے دفع کرنے کو بلکہ اکثر اوقات اتنے پیسے انہیں ملیں گے بھی نہیں اس لئے کہ وہ سالن جو پونے دو پیسے میں تیار ہوتا تھا اب دو آنے سے کم میں نہیں تیار ہوگا،اور پان کہ سواپیسے میں جس کا کام پورا ہوتا تھا اب ایك آنہ میں ہوگا اور اسی پر قیاس کرو تو وہ جب اپنی ہانڈی کے لئے دو پیسے سے زائد نہ پائے اور تم اس پر دو آنے لازم کرو تو بتاؤ کیا کرے آیا روکھا
فماذا تامرون ایکتفی بسف التدقیق او قضم خبز الشعیر وحدہ بدون ادام یصلحہ و ویسیغہ ویعین علی ھضمہ،والمعتادون بالادام وھم الناس کلھم او جلھم لو اکتفوا بھذا لم یلائمھم واورث اسقاما فیہم فان ترك العادۃ عداوۃ مستفادۃ ام یتکفف و التکفف ذل وحرام ام یغصب وفی الغصب اشد الغضب و الانتقام ام یؤمر البیاعون والبقالون و السقاؤن ان یعطوہ جمیع حاجاتہ مجانا لانھا لا تساوی فلساوما لا یساوی فلسا فلیس بمال ولا قیمۃ لہ فہم کیف یرضون بھذا وان رضوا فلا ترجیح لفقیر علٰی فقیر، فلیعطو اکلا حوائجہ فتذہب متاجرھم بلا شیئ فاذن لا سبیل الافتح باب البیع وقد فتحہ القراٰن بقولہ تعالٰی مطلقًا " وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ "[1]،وقولہ تعالٰی
" اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ- "[2]، آٹا پھانکے یا جو کی خشك روٹی چبائے جس کے ساتھ کوئی سالن ایسا نہ ہو کہ اس کی اصلاح کرے اور اسے نگلنے کے قابل بنائے اور اس کے ہضم پر اعانت کرے اور جنہیں سالن کی عادت پڑی ہوئی ہے اور تمام آدمی یا اکثر ایسے ہی ہیں اگر اس پر قناعت کریں تو انہیں راس نہ آئے اور ان میں بیماریاں پیدا کردے کہ عادت کا چھوڑنا خود اپنے ساتھ عداوت کرنا ہے یا یہ کہتے ہو کہ بھیك مانگے اور بھیك مانگنا ذلت و حرام ہے یا دوسروں کا مال چھین لے اور چھیننے میں سخت غضب اور سزا ہے یا بیچنے والوں اور ترکاری فروشوں اور بہشتیوں کو حکم دیا جائے گا کہ ان کی تمام حاجت کی چیزیں انہیں مفت دے دیں اور اس لئے کہ وہ ایك پیسہ کی قیمت کی نہیں اور جو ایك پیسہ کی نہیں وہ مال نہیں اور نہ اس کی کوئی قیمت،تو بیچنے والے اس پر کیونکر راضی ہونگے،اور اگر راضی ہوجائیں تو ایك فقیر کو دوسرے فقیر پر ترجیح نہیں تو چاہئے کہ ہرایك کو اس کی ضروریات مفت دیں تو ان کی تجارتیں یونہی جاتی رہیں تو ثابت ہوا کہ کوئی راستہ نہیں ہے سوا اس کے کہ بیع کا دروازہ کھولا جائے اور بیشك قرآن عظیم نے اسے اس مطلق ارشاد سے کھولا ہے کہ"حلال کی اللہ تعالیٰ نے بیع"،اور اس ارشاد سے"مگر یہ کہ کوئی سودا ہو تمہاری آپس کی رضامندی کا"، اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع