30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دوسرا رخ بھی عارض ہو پھر وہ جو کپڑوں کی مثال گزری مصنف نے اسے یونہی مطلق چھوڑا اور شرح وحواشی میں اسے برقرار رکھا اور مراد وہ کپڑے ہیں جو مالیت میں ایك سے نہ ہوں،ورنہ تیسری قسم میں ہوں گے جبکہ ان کا ضبط ہوسکے ذکر جنس سے جیسے روئی اور کتان،یا کارخانہ کے ذکر سے جیسے شام ومصر کا کام،یا پیتل اور دبیز ہونے سے یا طول و عرض کی پیمائش سے یا وزن سے اگر تول کر بیچے جاتے ہوں اور اسی بنا پر ان میں بیع سلم یعنی بدلی جائز ہے جیسا کہ اپنے محل میں معلوم ہوچکا ہے۔،قسم سوم وہ جن کی ذات میں کوئی کاایسا وصف ہے جس کے سبب کبھی ثمن کبھی مبیع ہوتے ہیں اور میں ویسا نہیں کہتا جیسا تنویر میں فرمایا کہ ایك جہت سے ثمن ہو اور ایك جہت سے مبیع کہ مقایضہ کی بات پلٹ پڑے،اقول:(میں کہتاہوں)میں نے یہ قید کہ اس کی ذات میں کوئی وصف ایسا ہو اس لئے بڑھادی کہ
ایضًایصیر مرۃ ثمنا واخری لا،لا لو صف فی ذاتہ بل للاصطلاح وعدمہ وھذہ ھی المثلیات فانہا اما ان تقابل باحد النقدین او لا علی الاول مبیعات مطلقًا سواء دخلتہا الباء اولا وتعینت اولا کقولك بعتك ھذا الذھب بکُرّ برّ او بھذ االکر فالکر مبیع مطلقًا والبیع فی صورۃ التعیین مطلق وفی غیرہ سلم یشترط فیہ شرائطہ وعلی الثانی اما ان تدخلھا الباء اولا علی الاول اثمان مطلقًا تعینت اولا کبعتك ھذا الثوب بکربر او بھذا الکر والبیع مطلق فی الوجہین والکر یثبت فی الذمۃ وعلی الثانی ان تعینت فاثمان کبعتك ھذاالکر بھذا الثوب اولا فمبیعات کبعتك کرا بھذا العبد والبیع سلم بشروطہ والحاصل ان المثلی ان قوبل بحجر فمبیع مطلقًا والا فان دخلتہ الباء فثمن مطلقًا والا فان تعین فثمن اولا
قسم چہارم نکل جائے کہ وہ بھی تو کبھی ثمن ہوتی ہے کبھی نہیں لیکن کسی اپنے وصف کے سبب نہیں بلکہ اصطلاح وعدم اصطلاح کی بناپر۔اور یہ وہ اشیاء ہیں جن کو مثلی کہتے ہیں اب ان کا مقابلہ یا تو چاندی سونے سے ہوگا یا اور چیز سے:پہلی صورت میں مطلقًا مبیع ہیں چاہے خرید وفروخت میں ان کو عوض ٹھہرایا ہو یا سونے چاندی کو اور یہ شیئ مثلی معین ہو یا غیر معین جیسے کوئی یوں کہے میں نے یہ سونا اتنے من گیہوں کو بیچا یا ان گیہوؤں کے عوض بیچا تو گیہوں بہر حال مبیع ہے پھر وہ گیہوں اگر معین ہے تو بیع مطلق ہے اور اگر غیر معین ہے تو سلم کہ اس کے شرائط لازم ہوں گے اور دوسری صورت میں ان کے عوض کوئی چیز بیچنا کہی یا ان کو کسی شے کے عوض بیچنا کہا پہلی تقدیر پر ہر حالت میں ثمن ہوں گے خواہ معین ہوں یا نہیں جیسے یوں کہا کہ میں نے یہ کپڑا اتنے گیہوؤں یا ان گیہوؤں کے عوض بیچا اور بیع بہر حال مطلق ہے چاہے یہ معین ہوں یا نہیں اور وہ گیہوں ذمہ پر لازم ہونگے بر تقدیر دوم اگر یہ چیزیں معین ہوں تو ثمن ہیں جیسے یوں کہا کہ میں نے یہ گیہوں اس کپڑے کے عوض بیچے اور معین نہ ہوں تو مبیع ہیں جیسے یوں کہے کہ میں نے اتنے من گیہوں اس غلام کے بدلے بیچے اور بیع سلم ہے اس کے شرائط کے ساتھ اور خلاصہ کلام یہ ہے کہ مثلی چیز اگر سونے چاندی کے مقابل ہو تو مطلقًا مبیع ہے ورنہ اگر اس کے عوض بیچنا کہیں
فمبیع وھذاایضاح ماحرر الشامی مع احسن ضبط لا یوجد فیہ والرابع ما ھو سلعۃ بالاصل وثمن بالاصطلاح کالفلوس فما دام یروج فکثمن والا عاد لاصلہ ولا شك ان المصطلحین اذا ارادوا ان یجعلوا سلعۃ ثمنا لا بد لھم ان یرجعوافی تقدیر ھا الی الثمن الخلقی فان ما بالعرض لا یتقوم الابما بالذات فیجعلون اربعۃ وستین من الفلوس الھندیۃ او احدی وعشرین من الھللات العربیۃ بربیۃ وھکذا فی غیرہا وھم فی ذٰلك بالخیار یصطلحون کیف یشاؤن اذلا مشاحۃ فی الاصطلاح، وقد کان قبل نحو عشرین سنۃ فی الدیار الھندیۃ قسمان من الفلوس یروجان احدھما مضروب و الاٰخر قطعۃ نحاس مستطیلۃ الشکل نحو ضعف الفلس المضروب فی الوزن وکان من المضروب اربعۃ وستون بربیۃ لا تزید ولا تنقص ومن الاٰخر یختلف السعر،وربما صار ثمانون منہ بربیۃ الی ان کسد ونفد فکل ذٰلك راجع الی الاصطلاح ولا حجر فیہ من جھۃ الشرع الشریف اذا علمت ھذا فالنوط ھو من القسم الرابع سلعۃ باصلہ لانہ قرطاس وثمن بالاصطلاح لانہ
تو مطلقًا ثمن ہے ورنہ اگر معین ہو تو ثمن ہے او رغیر معین ہو تو مبیع یہ اس کاایضاح ہے جو علامہ شامی نے یہاں منقح فرمایا مگر ایسے نفیس ضبط کے ساتھ جو شامی میں نہیں،قسم چہارم وہ یہ کہ حقیقۃًکوئی متاع ہو اور اصطلاحًا ثمن جیسے پیسے تو وہ جب تك چلتے ہیں ثمن ورنہ اپنی اصل کی طرف لوٹ جائیں گے اور اصلًا شبہہ نہیں کہ اہل اصطلاح جب کسی چیز کو ثمن کرنا چاہیں تو انہیں ان کے اندازہ میں ثمن پیدائشی کی طرف رجوع کرنے ناگزیر ہے کہ عرضی چیز کا قیام تو ذاتی ہی سے ہوتا ہے تو ۶۴ ہندی پیسے یا ۲۱عربی ہللے ایك روپے کے قرار دیتے ہیں یوں ہی اس کے ماسوا میں،اور اختیار ہے جیسے چاہیں اصطلاح مقررکریں کیونکہ اصطلاح میں کوئی روك ٹوك نہیں،۲۰ برس پہلے ہندوستان میں دو طرح کے پیسے رائج تھے ایك سکہ زدہ(ڈبل)دوسرے تانبے کے لمبے ٹکڑے وزن میں ڈبل پیسے سے قریب،دونے کے(منصوری)ڈبل پیسے روپیہ کے ۶۴ سے نہ زائد ہوتے ہیں نہ کم،اور منصوری کا بھاؤ گھٹتا بڑھتا رہتا ہے اور کبھی ایك روپے کے اسی ہوجاتے تھے یہاں تك کہ چلن نہ رہا اور جاتے رہے تو یہ سب اصطلاح کی جانب راجع ہے اور اس میں شرع مطہر کی طرف سے کوئی روك نہیں۔ جب یہ معلوم ہولیا تو نوٹ چوتھی قسم سے ہے،اصل میں یہ ایك متاع ہے اس لئے کہ ایك پرچہ کاغذ ہے اور اصطلاح میں ثمن ہے اس لئے کہ اس کے ساتھ ثمن کا سا
یعامل بہ معاملۃ الاثمان وھذہ الرقوم المکتوبۃ علیہ تقدیرات ثمنیۃ بالثمن الاصلی کما علمت،فھو اصطلاح لامضایقۃ فیہ ولا یسأ ل لہ عن وجہ و توجیہ وقد تبین بھذا التقریر والحمد اللہ الفتاح القدیر حقیقۃ النوط وانما سائر الاحکام بھا منوط، فاذن لایعتری ان شاء اللہ تعالٰی فی ابانۃ شیئ من الاحکام اشکال والحمدﷲ المھیمن المتعال۔
اما السوال الاول: فقد بان الجواب مع المزید ولا احتیاج الی ان نزید۔
واما الثانی
فاقول: نعم تجب فیہ الزکٰوۃ بشروطھا لما علمت انہ مال متقوم بنفسہ ولیس سنداو تذکرۃ للدین حتی لایجب اداؤھا مالم یقبض خمس نصاب ولا حاجۃ فیہ الٰی نیۃ التجارۃ لان الفتوی علی ان الثمن المصطلح تجب فیہ الزکٰوۃ مادام رائجابل لا انفکاك لہ عن نیۃ التجارۃ لانہ لا ینتفع بہ الا بالمبادلۃ کما لایخفی فی فتاوٰی قاری الھدایۃ الفتوی علی وجوب الزکٰوۃ فی
معاملہ کیا جاتا ہے اور یہ رقمیں کہ اس پر مرقوم ہیں یہ اس کی ثمنیت کا ثمن اصلی سے اندازہ ہے جیسا کہ معلوم ہوچکا تو یہ ایك اصطلاح ہے اس میں کچھ مضائقہ نہیں نہ اس کی وجہ توجیہ دریافت کی جائیگی،بحمد اللہ القدیر اس تقریر سے نوٹ کی حقیقت واضح ہوگئی اور تمام احکام اسی پر مبنی تھے تو ان شاء اللہ تعالٰی اب کوئی دشواری کسی حکم کے اظہار میں آڑے نہ آئے گی،اور سب خوبیاں اللہ کو جو ہر چیزکا نگہبان ہے بلندی والا۔
جواب سوال اول: مع شے زائد واضح ہو لیا اور بڑھانے کی ضرورت نہیں۔
جواب سوال دوم :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع