دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

خلاف کلا،بل حلال طیب بنص القراٰن والاجماع من دون نکیر ولا نزاع،قال تعالٰی " اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ- "[1] فھذ ہ العشرۃ الالاٰف ماھی ثمن المکتوب فانہ لا مالیۃ لہ اصلا کما نص علیہ فی الہدایۃ وسائر الکتب المعللۃ وھذا

بکتی تھی اور جاہل لوگ خریدتے تھے اور نہیں جانتے تھے کہ اس میں سود کا کیسا وبال ہے تو سکہ سے جب دو نا دون قیمت ہوگئی تو دو چند ہزار چند سب یکساں،اور ہر شخص کہ شرع مطہر یا عقل سلیم کے گھاٹ گزرا ہے اگرچہ راہ چلتا ہوا، اس پر روشن ہے کہ ایك شیئ نہا یت حقیر میں ایك وصف لگ جاتا ہے کہ اسے اس جیسی ہزاروں سے بیش بہا کردیتا ہے اور بارہا ایك کنیز دولاکھ روپے اور اس سے زائد کو خریدی گئی اور دوسری کو کوئی تیس روپے کو نہیں پوچھتا حالانکہ اوصاف کےلئے ثمن میں سے کوئی حصہ نہیں یہاں تك کہ ہاتھ پاؤں جب تك کہ بالقصد نہ ہلاك کئے جائیں وہ ثمن ذات ہی کا ہے جسے رغبتیں بڑھنے کے سبب اوصاف نے بڑھا دیا بھلا بتا تو کہ ایك ورق کاغذ ہو جس میں ایك علم نفیس عجیب و غریب نادر ہو اور ایك شخص اس علم کا طلب گار ہو اور اس کی طلب جانتا ہو وہ اس ورق کو دس ہزار میں خریدلے تو کیا کوئی اس میں خلاف ہے ہر گز نہیں بلکہ حلال طیب ہے اس پر قرآن عظیم کا نص اور بلا انکار ومنازعت اجماع قائم ہے،رب عزوجل فرماتا ہے مگر یہ کہ کوئی سودا تمہارے آپس کی خوشی کا ہو اور یہ دس ہزار اس لکھے ہوئے علم کی قیمت نہیں کہ وہ تو مال کے قبیل ہی سے نہیں جیسا کہ ہدایہ اور باقی تمام کتب میں تصریح ہے جن میں

نصھا ولا قطع فی سرقۃ المصحف و ان کان علیہ حلیۃ لانہ لامالیۃ لہ علی اعتبار المکتوب واحرازہ لا جلہ لا للجلد والاوراق والحلیۃ وانما ھی توابع،ولا فی الدفاتر کلھا لان المقصود مافیہا وذٰلك لیس بمال الادفاتر الحساب لان مافیہا لایقصد بالاخذ فکان المقصود الکواغذ اھ [2] ملتقطا فتبین ان الورقۃ الواحدۃ ھی التی بلغ ثمنھا لما فیہا عشرۃ اٰلاف فای غرو فی بلوغ قیمۃ نوط عشرۃ اواکثر لاجل ماکتب فیہ مما استجلب رغبات الناس الیہ وای حجرمن الشرع علیہ وبالجملۃ فالمسألۃ اوضع من ان تحتاج الی ایضاح والی کم تبتغی المصباح وقد اسفر الاصباح، ثم اقول: بل حقیقۃ الامر ان الاموال کما فی البحر و غیرہ اربعۃ اقسام،۱الاول ثمن بکل حال وھو النقدان

 مسائل مع دلائل مذکور ہیں اور یہ ہدایہ کی عبارت ہے قرآن مجید چرانے میں ہاتھ نہ کاٹا جائے گا اگرچہ اس پر سونا چڑھا ہو اس لئے کہ لکھے ہوئے کے اعتبار سے تو وہ از قبیل مال ہی نہیں اور اس کا محفوظ رکھنا اس مکتوب ہی کی غرض سے ہے نہ کہ جلد اور ورقوں اور نقوش زر کےلئے یہ چیزیں تو تابع ہیں اور کسی قسم کے دفتر کی چوری میں ہاتھ نہ کاٹا جائے گا کہ ان سے مقصود وہ ہے کہ جو ان میں لکھا ہے اور وہ مال نہیں مگر حساب کی بہیاں کہ ان میں جو لکھا ہے وہ دوسرے کے کام کا نہیں ہوتا جو اس کالینا مقصود ہو تو ضرور کاغذ ہی مقصودہوئے انتہی ملخصًا،توکھل گیاکہ ایك ورق کاغذ ہی کی قیمت اسکی تحریرکےباعث دس ہزارکو پہنچ گئی تو اس میں کیا تعجب ہے کہ اس لکھائی کے سبب نوٹ کی قیمت دس یا زائد کو پہنچ جائے جس کے باعث لوگوں کی رغبتیں اسکی طرف کھجچ گئیں اور شرع سے اس پر کون سی روك ہے،خلاصہ یہ کہ مسئلہ اس سے زیادہ روشن ہے کہ روشن کرنے کا حاجتمندیہ ہواور کہاں تك تو چراغ مانگے جائے گا حالانکہ صبح روشن ہوگئی،ثم اقول: (پھرمیں کہتا ہوں)اصل بات یہ ہے کہ مال چار قسم ہے جیسا کہ بحرالرائق وغیرہ میں ہے،اول وہ کہ ہر حال میں ثمن ہی ہے اور وہ سونا چاندی

فانھما اثمان ابدا صحبتھما الباء اولا وقوبلا بجنسھما اولا وعدھما العرف من الاثمان اولا کا لمصوغ منھما فانہ بسبب ما اتصل بہ من الصنعۃ لم یبق ثمنا صریحا و لہذا یتعین فی العقد و مع ذٰلك بیعہ صرف یشترط فیہ مایشترط فی الصرف لانھما خلقا للثمنیۃ ولا تبدیل لخلق اللہ،و۲الثانی مبیع بکل حال کالثیاب والدواب فانھا وان صحبتھا الباء وقو بلت بما تشاء لا تثبت دینا فی الذمۃ وھذا ھو المعنی بالثمنیۃ فلا یرد ان فی المقایضۃ کلا من العرضین ثمن من وجہ ھکذا وجہ ابن عابدین جوابا عن ایراد العلامۃ الطحطاوی،اقول: وفیہ ان المصوغ من الججرین ایضا لایثبت دینا فی الذمۃ بل یتعین فی العقود کما تقدم عن البحر فان سلم ھذا وردالنقض علی ذٰلك فلیتأمل والاظہر عندی الجواب

 ہے کہ ہمیشہ ثمن ہی رہیں گے خواہ انکے عوض کوئی چیز بیچی یا انکو کسی چیز کے عوض بیچنا کہیں خواہ اپنی جنس سے بدلے جائیں یاغیر جنس سے خواہ اہل عرف انہیں ثمن کہیں یا نہیں جیسے چاندی سونے کے برتن کہ وہ اس گھڑت کے سبب جو ان میں ہوئی خالص ثمن نہ رہے ولہٰذا عقد بیع میں متعین ہو جائیں گے اور باینہمہ ان کی بیع شرعًا صرف ٹھہرے گی(یعنی ثمن سے ثمن کا بیچنا)اور جو شرائط صرف کے وہ سب اس کے مشروط ہوں گے اس لئے کہ چاندی سونا ثمن ہونے کے لئے ہی بنائے گئے اور اللہ کی پیداکی ہوئی چیز بدلی نہیں جاتی۔قسم دوم وہ جو ہر حال مبیع ہے جیسے کپڑے،چوپائے کہ اگر ان کے عوض کوئی چیز بیچنا کہیں اور ان کا مبادلہ کسی شیئ کے ساتھ ہو وہ کبھی ذمہ پر دین ہوکر لازم نہ ہوں گے،اور ثمن ہونے کے یہی معنی ہیں تو یہ اعتراض وارد نہ ہوگا کہ بیع مقایضہ(جس میں متاع کے بدلے متاع بیچی جاتی ہے)ا س میں دونوں متاع ایك وجہ سے ثمن ہیں،اعتراض علامہ طحطاوی کے جواب میں علامہ شامی نے اسی طرح توجیہ فرمائی،اقول:(میں کہتا ہوں) اس میں یہ اعتراض ہے کہ چاندی سونے کی گھڑی ہوئی چیز مثلًا برتن یا گہنا یہ بھی ذمہ پر دین نہیں ہوتے بلکہ عقد میں متعین ہوجاتے ہیں جیسا کہ بحرالرائق سے گزرا،تو اگر یہ تقریر سالم رہے تو اس پر نقض وارد ہوگا،فتامل،اور میرے نزدیك صاف جواب

بان کل سلعۃ فی المقایضۃ مبیع ایضاولا یمکن ان تصیر ثمنا محضا وان کان لھا وجہۃ الی الثمنیۃ من حیث ان البیع لایقوم الابالبدلین بخلاف القسم الاٰتی فانہ تارۃ یصیر ثمنا بحتا و واخری مبیعا خالصا فمعنی القسمین انہ لا ینفك عنہ کونہ ثمنا او کونہ مبیعا بشیئ من الاحوال وان اعتراہ وجھۃ اخری ایضا فی بعض الحال ثم قولہ کالثیاب ارسلہا ارسا لاواقرہ الشرح والحواشی والمراد المختلفۃ افرادھا مالیۃ والاکانت من الثالث حیث امکن ضبطھا بذکر جنس کقطن وکتان وصنعۃ کعمل الشام و مصر ورقۃ او غلظۃ وذرع طولا و عرضا ووزن ان بیعت بہ وبذا یجوز السلم فیہا کما عرف فی محلہ و۳الثالث ما لوصف فی ذاتہ ثمن تارۃ و مبیع اخری ولا اقول: کقول التنویر ثمن من وجہ مبیع من وجہ [3] لیعود حدیث المقایضۃ،اقول: وانما زدت لو صف فی ذاتہ احترازا عن قسم الرابع فانہ

 یہ ہے کہ بیع مقایضہ میں ہر شے مبیع بھی ہے اور ثمن خالص نہیں ہوسکتی اگرچہ اس کا ایك رخ ثمنیت کی طرف بھی سہی اس لئےکہ بیع بغیر ثمن و مبیع دونوں کے نہیں ہوسکتی بخلاف قسم آیندہ کے کہ وہ کبھی خالص ثمن ہوتی ہے اور کبھی خالص مبیع،تو ان دونوں قسموں کے معنی یہ ہیں کہ اس کا ثمن یا مبیع ہونا کسی حال اس سے جدا نہ ہو اگرچہ بعض او قات اسے



[1]         القرآن الکریم ۴ /۲۹

[2]        الہدایۃ کتاب السرقۃ باب مایقطع فیہ وما لایقطع المکتبۃ العربیۃ بیروت ۲/ ۲۱۔۵۲۰

[3]        درمختار باب الصرف مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۵۷

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن