دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

الجواب:

سود کا ایك حبہ لینا حرام قطعی کہ سو د لینے والے پر اللہ و رسول کی لعنت ہے۔صحیح حدیثوں میں فرمایا:

الربٰا ثلثۃ وسبعون حوبا ایسر ھن کان یقع الرجل علٰی امہ [1]۔

سود کھانا تہتر گناہوں کا مجموعہ ہے جن میں سب سے ہلکا گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے زنا کرے(ت)

دوسری حدیث میں ہے:

من اکل درھم ربا وھو یعلم کان کمن زنی بامہ ستا و ثلثین مرۃ [2]۔ جو دانستہ ایك درہم سود کھائے وہ اس کے مثل ہو جس نے چھتیس بار اپنی ماں سے زنا کیا۔(ت)

ایك درہم تقریبًا یہاں کے ۴ ۰/ کے برابر ہوتا ہے جس کے اٹھارہ پیسے ہوئے تو فی دھیلا ایك بار ماں سے زنا ہوا۔اگر وہ اس بیان میں سچا ہے کہ کچہری سے بلا سود روپیہ اسے نہیں مل سکتا تھا تو روپیہ واپس لے اور اس میں سے صرف اپنا زر اصل اٹھالے باقی تمام وکمال عمرو کو واپس دے مدعا علیہ سے خرچہ لینا بھی مطلقًا حرام ہے اگر چہ اس نے تعنت کیا ہو،اسے مختلف فیہ بتانا دیوبندی مفتی کا کذب محض ہے ہر گز کسی کتاب میں اس کا جواب نہیں،خرچہ کہ اس سے کچہر ی نے لیا دو حال سے خالی نہیں اس کے نزدیك حقًا لیا یا ظلمًا لیا،اگر حقًا لیا تو اس کا معاوضہ دوسرے سے کیا چاہتا ہے اور اگر اس کے نزدیك ظلمًا لیا تو کونسی شریعت کا مسئلہ ہے کہ مظلوم دوسرے پر ظلم کرے،عقد نہیں وراثت نہیں مال مباح نہیں کوئی وجہ شرعی اس سے لینے کی نہیں تو نہ ہوامگر باطل،اور اللہ عزوجل فرماتا ہے :

وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠(۱۸۸)"[3]۔

آپس میں ایك دوسرے کا مال ناحق مت کھاؤاور اس کو حاکموں کے پاس اس نیت سے مت لے جاؤ کہ تم لوگوں کا کچھ مال جان بوجھ کر گناہ کے ساتھ کھا جاؤ۔(ت)

عقود الدریہ میں ہے: 

رجل کفل اٰخر عن زید بدین معلوم ثم طالبہ زید بہ والزمہ بہ لدی القاضی فطلب الرجل من زید ان یمھلہ بہ فابی الاان یدفع لہ الرجل قدر ماصرفہ فی کلفۃ الالزام فدفع لہ ثم دفع لہ المبلغ المکفول بہ ویرید الرجل مطالبۃ زید بما قبضہ زید منہ من کلفۃ الالزام فلہ ذٰلك [4]۔واللہ تعالٰی اعلم۔

ایك شخص دوسرے شخص کا معین قرض کے بارے میں زید کے پاس ضامن بنا،پھر زید نے ضامن شخص سے اس قرض کا مطالبہ کیا اور قاضی کے پاس اس پر اس کا لزوم ثابت کیا اب اس شخص(ضامن)نے زید سے مہلت مانگی تو زید نے اس وقت مہلت دینے سے انکار کردیا جب تك وہ زید کو اس مقدمہ پر کیا ہواخر چہ نہ دے چنانچہ اس نے زید کو وہ خرچہ دے دیا،پھر وہ قرض بھی زید کو اس نے ادا کردیا جس کا وہ ضامن بنا تھا،اب وہ ضامن شخص چاہتا ہے کہ زید نے جو مقدمہ کا خر چ اس سے لیا تھا زید سے اس کا مطالبہ کرے تو اس کو ایسا کرنے کا حق ہے۔واللہ تعالٰی اعلم۔(ت)

مسئلہ ۲۱۶: ازبمبئی دکان ایس کریم نمبر ۹ مسئولہ مولوی عبدالعلیم صاحب میرٹھ ۱۳۳۷ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارہ میں کہ مسجد کے کرایہ کے روپے ورثاء واقفہ مکان کے مقدمہ دائر کرنے کے سبب کورٹ کے رسیور یعنی محاٖفظ کے پاس جمع ہیں آٹھ ہزار روپوں کی مذکور محافظ نے پرامیسری نوٹیں خریدیں،جب مقدمہ ورثاء واقفہ اور متولیان مسجد نے آپس میں اتفاق کرکے کورٹ سے(کننٹ ڈگری لی)یعنی مقدمہ اٹھالیا اس وقت محافظ مذکور کے پاس سے پرامیسری نوٹوں کا بیاج سالانہ سیکڑے ساڑھے تین ٹکے کے حساب سے ایك ہزار اٹھارہ روپے چودہ آنے دو پائی نقد اور چار ہزار ایك سو سینتالیس روپے نوآنے نقد بابت کرایہ متولیان مسجد کو دئیے متولیان مسجد کے قبضہ میں مذکور نوٹیں کئی مہینوں تك مسجد کی تجوری میں رہیں جن کے رہنے سے مذکورنوٹوں کا ایك سو باسٹھ روپیہ آٹھ آنہ دس پائی بیاج بڑھا،اکثر متولیان مسجد نے آپس میں اتفاق کر کے یہ ٹھہراؤ کیا کہ موجودہ جنگ کے سبب آپس میں اطمینان نہ ہونے کی وجہ قیمت اس وقت کم ہوئی ہے اور آئندہ اس سے بھی کم ہونے کا خوف ہے اس وجہ سے مذکور نوٹوں کو جلد فروخت کیا جائے اس وقت ایك متولی نے ترمیم کی کہ موجودہ جنگ کی وجہ سے ان کی قیمت کم ہوئی ہے اس لئے فی الحال فروخت نہ کریں۔جنگ ختم ہونے کے بعد مذکور نوٹوں کی پوری قیمت آئے گی اس وقت فروخت کیا جائے کہ مسجد کا نقصان بھی نہ ہو گا،اس ترمیم کی کسی نے تائید نہیں کی اور مذکورہ نوٹوں کو فروخت کرنےکےلئے نا ظر مسجد کو اجازت دی اور اس وقت یہ بھی ٹھہراؤ کیا کہ مذکورہ بیاج کے روپیوں کو مسجد کے دفتر میں بیاج کے نام سے درج کیا جائے اس وقت ایك متولی نے ترمیم کی کہ جس تاریخ کو مذکورہ نوٹیں محافظ نے خرید کی ہیں اس تاریخ سے جس تاریخ کو بکیں ______ _______________اس تاریخ تك مذکور نوٹوں کے بیاج کے روپے مسجد کے دفتر میں بیاج کے نام سے جمع نہیں کئے جائیں بلکہ وہ رقم مذکور محافظ کے حوالے کئے جائیں(مذکور محافظ گبر پارسی ہے)مذکور ترمیم کی بھی کسی نے تائید نہیں کی،کیا متولیان مسجد مذکور بیاج کی رقم کولینا اور مسجد کے دفتر میں بیاج کے نام سے درج کرنا شرعًا جائز ہے ؟ دیگر ہماری گورنمنٹ عالیہ مذکورہ نوٹوں کی جو اصل قیمت ہے وہی سمجھتی ہے اور اسی کے موافق آج تك مذکور نوٹوں کا بیاج پورا دے رہی ہے کیا اس وجہ سے مذکور بیاج کی رقم کو مذکور نوٹوں کی پوری قیمت نہ ملنے کی وجہ سے مذکور نوٹوں کی گھٹی ہوئی رقم میں داخل کرسکتے ہیں ؟ دیگر متولیان مسجد کو مذکور بیاج کے روپے مذکور محافظ سے مسجد کے لئے لینا یا ورثاء واقفہ کے شرعی حصہ میں بطور رضامندی باہمی کے دینا جائز ہے یانہیں؟ لہٰذا ازراہ



[1]      المستدرك کتاب البیوع دارالفکر بیروت ۲ /۳۷،شعب الایمان حدیث۵۵۱۹ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۴ /۳۹۴

[2]     المعجم الاوسط للطبرانی حدیث ۲۷۰۳ مکتبۃ المعارف الریاض ۳ /۳۳۰،الترغیب والترہیب الترہیب من الربا حدیث۱۴ مصطفی البابی مصر ۳ /۷

[3]     القرآن الکریم ۲/ ۱۸۸

[4]         العقود الدریۃ کتاب الکفالۃ حاجی عبدالغفار قندھار افغانستان ۱ /۳۰۸

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن