30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بدست آید وہم آں مستقرض بمراد خود برسد۔واللہ تعالٰی اعلم۔ اور وہ بھی بطور قرض مت دیں کیونکہ قرض پر جو بھی نفع لے گا وہ سود اور حرام ہوا۔حدیث میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے مروی ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ارشاد ہے:جو قرض نفع کھینچے وہ سود ہے۔بلکہ سوروپے کا نوٹ اس نفع کے لئے جس پر دونوں باہم رضامند ہوں مدت مقررہ تك اس کے ہاتھ فروخت کریں مثلًا وہ سو کا نوٹ ایك سال کے لئے ایك سو دس روپے کے بدلے فروخت کریں تو اس طرح یہ نفع بیع کا نفع ہوگا اور بیع کا نفع حلال ہے جبکہ قرض کا نفع حرام۔اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا:کہا ان لوگوں نے کہ بیع تو سود کی طرح ہی ہے جبکہ اللہ تعالٰی نے بیع کو حلال کیا اور سود کو حرام۔اس مسئلہ کو ہم نے اپنی کتاب " کفل الفقیہ الفاہم" میں مکمل طور پر تفصیلی رنگ دیا ہے،اس طریقے سے حلال نفع بھی ہاتھ آئیگا اور وہ قرض لینے والا بھی اپنے مقصد کو حاصل کرلے گا۔(ت)
مسئلہ ۲۱۳: مرسلہ احمد خان صاحب وکیل دربار مارواڑ متعینہ ریذیڈ نسی او دیپور میواڑ ۳شعبان ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین دریں باب کہ گورنمنٹ جو قرضہ کا منافع دے رہی ہے اس کا لینا جائز ہے یانہیں ؟ بینواتوجروا۔
الجواب:
سود کی نیت سے لینا جائز نہیں لاطلاق قولہ وحرم الربٰو[1] (کیونکہ اللہ تعالٰی کا یہ ارشاد کہ"اللہ تعالٰی نے سود کو حرام کیا" مطلق ہے۔ت) اور اگر کسی گورنمنٹ پر اس کی رعیت خواہ اور شخص کا شرعًا کچھ آتا ہے اس میں وصول سمجھنا بلا شبہہ روا"لانہ ظفر بجنس حقہ کما فی ردالمحتار وغیرہ[2] (اس لئے کہ یہ اپنے حق کی جنس کو حاصل کرنے کی کامیابی ہے جیسا کہ ردالمحتار وغیرہ میں ہے۔ت) یونہی اگر بیت المال میں حقدار ہوتو اس میں لے سکتا ہے کما فی ردالمحتار عن السید السمہودی وغیرہ(جیسا کہ سید سمہودی وغیرہ سے ردالمحتارمیں ہے۔ ت)اور اگر کچھ نہ ہو اور اسے سود نہ سمجھے بلکہ یہ تصور کرے کہ ایك جائز مال برضائے مالك بلا غدر و بدعہدی ملتا ہے تو وہ بھی روا ہے کما حققناہ فی فتاوٰنا(جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس کی تحقیق کردی ہے۔ت)واللہ تعالٰی اعلم۔اصل حکم یہ ہے مگر اہل تقوٰی خصوصًا مقتداء کوان دو صورتوں خصوصًا اخیرہ سے احتراز چاہئے کہ ناواقف اسے متہم نہ کریں،حدیث میں ہے:اتقوا مواضع التھم[3] (تہمت کی جگہوں سے بچو۔ت)واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۴: ازبریلی محلہ چك مرسلہ محمدرضاقادری متصل چوکی چنگی رجب۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے مراؤ کو کچھ روپیہ واسطے بونے چنا کےلئے دیا اور بروقت دینے روپیہ یہ اس مراؤ سے ٹھہرالیا کہ چنا فصل کاٹنے پر فی روپیہ تین سیر چنا زائد بازار کے نرخ سے تم سے لئے جائیں گے،فصل کاٹنے پر مراؤ نے بجائے چنے کے جتنا روپیہ زائد ہوا بالعوض چنے کے دیا۔اب ایسی صورت میں اس روپیہ کا کیا کیا جائے اور روپیہ دینے والے کو اول اس کا علم نہ تھا،لہٰذا اب معلوم ہونے پر اس زائد روپیہ کو علیحدہ رکھ لیا گیا ہے جو حکم ہو ا سکی تعمیل بسر و چشم کی جائے کیونکہ ایمان ہے تو سب کچھ ہے ورنہ کچھ نہیں۔بینواتوجروا۔
الجواب:
ایسا عقد شرعًا ضرورناجائز ہے مگر اگر وہ مراؤ کافر ہے جیساکہ یہی ظاہر ہے تو یہ روپیہ کہ بغیر غدر اسے ملا اسے واپس دینا ضرور نہیں البتہ،اور بہتر یہ ہےکہ فقیر مسلمان پر تصدق کردے۔واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۵: از لکھنؤ مدرسہ فرقانیہ مرسلہ مولوی سید مظفر صاحب مدرس مدرسہ مذکور ۲۱/ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
زید نے عمرو کو چھ سات ہزار روپیہ قرض دیا اور قرض دینے کے وقت زید کا اراد ہ اشارۃً یا کنایۃً یا صراحۃً سود لینے کا نہ تھا اور وعدہ عمرو نے ادائیگی روپیہ کا دوماہ کا کیا تھا،بعد میں رقعہ تحریر کیا گیا تو اس میں سود اس وجہ سے زید نے لکھوایا کہ قانون مروجہ گورنمنٹی کے رقعہ مذکورہ ناجائز نہ ہو اور ضرورت کے وقت بیکار نہ ہو عمرو نے دوماہ کی جگہ پندرہ ماہ میں نصف روپیہ تو بمشکل تمام زید کو ادا کیا اور نصف نہیں حتی کہ قریب سال کے ہوگئے چونکہ میعاد رقعہ تین سال ہوتی ہے اس لئے زید کو عمرو کی نالش کرنی پڑی تو اس نالش کرنے میں زید کا روپیہ بہت ساخرچ ہوا اور زید کی ڈگری عمرو پر مع سود کچہری مجاز سے ہوگئی اور عمرو نے اصل روپیہ مع سود داخل کچہری بھی کردیا تو اب عندالشرع زید کو اپنا روپیہ مع سود لینا جائز ہے یانہ؟ اگر کل سود سے پرہیز کرے تو بقدر اپنے خرچ نالش کے لینا جائز ہوگا یانہ؟ اور روپیہ کچہری سے کل زید کو بلا سود وا پس بھی نہیں مل سکتا تو ایسی مجبوری میں زید کو اپنا روپیہ مع سود لینا جائز ہوگا،اور اگر کچہری سے روپیہ اس کو مع سود ملا تو کیا طریقہ احتراز کا ہوگا؟ اور بقدر اپنے خرچ کچہری کے نکال کر باقی کو صدقہ کردے یا اصل مالك کو واپس ؟مجموعہ فتاوٰی مولوی عبدالحی لکھنؤ ی میں عدم جواز کا فتوٰی لکھا ہوا ہے کہ مدعی مسبب ہے نہ مباشر،اور ضمان مباشر پر ہوتا نہ کہ مسبب پر،جیساکہ واقف فقہ پر مخفی نہیں،جواب مع حوالہ کتب ودلائل کے تحریر ہو۔
جواب دیوبندی
اس صورت میں زید کواپنا اصل روپیہ رکھ کر باقی جو سود کے نام سے وصول ہوا ہے عمرو کو واپس کردینا چاہئے کیونکہ خرچہ مقدمہ کا مدعی علیہ سے وصول کرنے نہ کرنے کے بارے میں اختلاف ہے،ایك یہ ہے کہ قول جو مولانا عبدالحی صاحب نے لکھا ہے،اور دوسرا یہ کہ بصورت تعنت مدعا علیہ اور بلا نالش کسی طرح وصول نہ ہوسکنے کی صورت میں خرچہ مدعا علیہ سے لیا جائے تو صورت مذکورہ میں چونکہ مدعی نے محض قانونی قاعدہ کو پیش نظر کھ کر نالش کی ہے اورعمرو کا کوئی تعنت اور سرکشی و انکار ظاہر نہیں ہوا اس لئے زید کو مناسب نہیں کہ وہ عمرو مدعا علیہ سے خرچہ وصول کرے،واللہ تعالٰی اعلم۔کتبہ عزیز الرحمٰن عفی عنہ مفتی مدرسہ دیوبند ۸/ ربیع الثانی ۱۳۳۶ھ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع