30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مقروض کسی ایسی قیمتی معین شیئ کی حفاظت کے لئے قرض دہندہ کو معین ماہانہ اجرت پر مقرر کرے جس شیئ کی قیمت اجرت سے زیاد ہ ہے مثلًا چاقو،کنگھی اور چمچ وغیرہ،تواس میں متاخرین ائمہ کے درمیان اختلاف ہوا،بعض نے بلاکراہت جواز کا قول کیا ان میں امام محمد بن سلمہ،امام صاحب کامل مولانا حسام الدین علیا بادی،جلال الدین ابوالفتح محمد بن علی اور صاحب ہدایہ شامل ہیں،اور تحقیق جلیل القدر ائمہ کرام نے جواز پر اتفاق کیا ہے۔(ت)
اور اس کے سوا اور صورتیں ہیں کہ ہم نے کفل الفقیہ میں ذکر کیں۔واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۱: مسئولہ محمد حسین خان بریلی شہر کہنہ ۳/ شوال المکرم
جناب مولوی صاحب قبلہ و کعبہ دارین مدظلہ اللہ آداب! بصد نیازگزارش ہے کہ مجھ سے ایك شخص قرضہ چاہتا ہے اور بالعوض اس کے اپنا مکان وہ شخص رہن کرنا چاہتا ہے مجھ کو روپے دینے میں اور دوسرے کی حاجت نکالنے میں کچھ عذر اور انکار نہیں ہے کیونکہ روپیہ اللہ نے جبکہ دیا ہے تو دوسرے کی حاجت براری ہوجانے پر امید ہے کہ اللہ بھی خوش ہوگا مگر اس قدر ہے کہ سود کھانا نہیں چاہتا ہوں،اب اس میں گزارش ہے وہ جائداد بالعوض روپیہ کے دخلی رہن کردیں یا کس طرح سے روپیہ دوں کہ سود سے بچوں کیونکہ میں اہل اسلام ہوں۔بینواتوجروا۔
الجواب:
دخلی رہن بھی سود اور حرام ہے بلکہ سبیل یہ ہے کہ آپ محض بلا سود و بلا رہن روپیہ قرض دیجئے پھر اس سے اپنا کوئی برتن مثلًا وہ مدیون آپ کو دے کہ اس کی حفاظت کرو حفاظت کا اتنا ماہوار مثلًا ایك روپیہ یا دس روپے تمہیں دی جائیگی یوں اس حفاظت کی اجرت کا روپیہ لینا حلال ہوگا،اور اگر مکان ہی چاہئے تو وہ کوئی برتن وغیرہ مثلًا دس روپے مہینے اجرت پر کو حفاظت کےلئے دے اور آپ اس کا مکان مثلًا دس روپے یا کم و بیش کو جتنا کہ قرار پائے اسی سے کرایہ پر لیجئے حفاظت کی اجرت ماہوار اس پر واجب ہوگی اور مکان کا کرایہ آپ پر،پھر اگر دونوں اجرتیں بر ابرہیں تو باہم آپ دونوں کو معاملہ برابر ہوگیا،نہ آپ اسے روپیہ دیں نہ وہ آپ کو،آپ اس کی چیز کی حفاظت کریں اور اس کرایہ کے مکان میں رہیں اور اگر برابر نہیں تو جس پر زیادہ ہے وہ قدر زائد ادا کرتا رہے۔واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۲: ۱۱شعبان ۱۳۳۵ھ
چہ می فرمایند علمائے دین دریں مسئلہ کہ حکام ریاست بہاولپور برائے مخلصی مسلمانان از قرض ہندو ان درہر موضع و دہ بنك تجویز کر دہ اندبایں طور کہ چند معتبران موضع را ممبر آں بنك نمودہ می گویند کہ از ہر کس حسب حیثیت روپیہ داخل بنك کنایندہ نزد خود جمع سازید وازاں روپیہ خاصۃ داخل کنندہ را و بدیگرے رابوقت حاجت ولے قرض میعاد ی بسود یسیر دادہ باشید و عند المیعاد علمائے دین اس مسئلہ میں کیا ارشادفرماتے ہیں کہ ریاست بہاولپور کے حکام نے ہندوؤں کے قرض سے مسلمانوں کو رہائی دلانے کے لئے ہر بستی اور گاؤں میں بنك تجویز کیا ہے،اس کی صورت یہ ہے کہ اس بستی کے چند معتبروں کو بنك کا ممبر ظاہر کرکے کہتے ہیں کہ ہر شخص سے اس کی حیثیت کے مطابق روپے بنك میں داخل کراکے اپنے پاس جمع رکھو،پھر انہیں خاص روپوں میں سے داخل کرنے والے کو یا دوسرے کو بوقت ضرورت تھوڑے سے سود پر میعادی قرض کے طور پر دیں اور آں روپیہ مع سود ازو وصول نمودہ بایں طرز دیگرے راہ و سیس اخیر رامی دہید از سود دادہ شما آن جائداد شما تر قی پذیردو برآمدگی حاجات مسلماناں از مال خویش بسہولت گردد و ضرورت باستقراض ا ز ہند وان نماند۔پس در شرع شریف روپیہ دادن یا گرفتن ازیں بنك چہ حکم دارد،چونکہ دریں امر عامہ مسلمانان از حکام ماورند و مجبور،ازآں اگر حیلہ جواز فعل ایشاں ایما فرمودہ شود امید کہ قرین ماجوریت عنداللہ و مشکوریت من خلق اللہ خواہد شد۔ میعاد گزرنے پر وہ روپے سود سمیت اس سے واپس لیں اور پھر اسی طرح کسی دوسرے شخص کو اسی طریقے سے قرض دیں اسی طرح یکے بعد دیگرے حاجتمندوں کو سود پر قرض دیتے جائیں تاکہ تمہارے ادا کردہ سودسے تمہاری جائداد ترقی اختیار کرے اور مسلمانوں کی حاجات ان کے اپنے مال سے بآسانی پوری ہوں اور ہندوؤں سے قرض لینے کی ضرورت نہ پڑے۔شرع شریف میں اس بنك کو روپیہ دینا اوراس سے لینا کیا حکم رکھتا ہے چونکہ اس معاملہ میں عام مسلمان حاکموں کی طرف سے مامور اور مجبور ہیں اس لئے اگر ان کے اس فعل کے جواز کی طرف کوئی اشارہ فرمایا جائے تو امید ہے کہ اللہ تعالٰی کے ہاں ماجور اور مخلوق کی طرف سے شکریہ کے مستحق ہوں گے۔(ت)
الجواب:
ربا گرفتن حرام قطعی بالاجماع و کبیرہ و شدیدہ است وربا دادن محتاج بحاجت شرعیہ صحیحہ را رخصت کردہ اند فی الدر المختار یجوز المحتاج الاستقراض بالربا[1]،حاصل ایں بنك آنست کہ حرامے کہ ہندو ان می خورند بیاید تا مسلمانان خورند و لاحول ولا قوۃ الا باللہ کارکنان ایں بنك اگر درد دین دارند صورتے مہیا است کہ بہ مقصد ر سند واز حرام وار ہند ہر کہ مثلًا صدر وپیہ دام خواہدزرند ہند کاغذ زر کہ نوٹ نامند بدہندو آں ھم دام ندہند کہ بردام ہر چہ سودے گیرد ربا باشد سودلینا بالاتفاق حرام قطعی اور سخت کبیرہ گناہ ہے اور سوددینے کی محتاج کو حاجت شرعیہ صحیحہ کے وقت اجازت دی گئی ہے۔درمختار میں ہے کہ محتاج کو سود پر قرض لینا جائز ہے،اس بنك کا حاصل یہ ہے کہ جو حرام ہندو کھاتے ہیں وہ حاصل ہوجائے تاکہ اس کو مسلمان کھائیں۔گناہ سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت نہیں سوائے اللہ تعالٰی کی توفیق کے اس بنك کے کارکن اگر دین کا درد رکھتے ہیں تو ایك ایسی صورت مہیا ہے کہ وہ اپنے مقصد تك رسائی بھی حاصل کریں اورحرام سے خلاصی بھی پالیں،جو کوئی مثال کے طور پر سوروپیہ قرض چاہتا ہے اس کو زر نہ دیں بلکہ وہ کاغذ دیں جس کا نام نوٹ ہے وحرام،فی الحدیث عن علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ عن النبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کل قرض جر منفعۃ فھو ربا [2] بلکہ نوٹ صدروپیہ بہر ربحے کہ باہم تراضی شود بمیعاد وا جل مسمی بدست او فروشند مثلًا بیك صد و دہ روپیہ بوعدہ یك سال ایں ربح ربح بیع باشد و ربح بیع حلال است و ربح قرض حرام قال اللہ تعالٰی" اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰواۘ-وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰواؕ- "[3] ایں مسئلہ را در کتاب کفل الفقیہ الفاہم ہر چہ تمامتررنگ تفصیل دادہ ایم بایں وجہ ہم ربح حلال
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع