30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیونکہ اہل حرب مسلمانوں سے لیا مال انہیں واپس کرنے کے مامور ہیں حالانکہ وہ واپس نہیں کرتے اور مسلمان ان سے واپس لینے کی طاقت نہیں رکھتے تو اس طرح اسکے بھائیوں کی مدد ہوگی۔(ت)
پھر جس قدر اپنا آتا تھا خود لے سکتا تھا باقی واجب ہے کہ فقراء پر تصدق کردے،
لانہ سبیل کل مال صالح لایعلم مستحقہ کما فی الدر المختار وغیرہ من معتمدات الاسفار۔واللہ تعالٰی اعلم۔
کیونکہ یہ سبیل ہے ہر مال صالح میں جس کا مستحق معلوم نہ ہو جیسا کہ درمختار وغیرہ قابل اعتماد کتابوں میں ہے۔واللہ تعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۰۳: ملك بنگالہ ضلع نصیر آباد مرسلہ مولوی تمیز الدین صاحب ۸ ذیقعدہ ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائےدین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص اول سود کھاتا تھا اب اس نے توبہ کرلی کہ اب میں سود نہیں لوں گا اور نہ سود لیا پہلا جو مال اس کے پاس سودی ہے اس کا خرچ کرنا اپنے حوائج میں جائز ہے یا نہیں اس کے ورثاؤں کو وہ مال حلال ہے یا حرام ؟
الجواب:
سود میں جو مال ملتا ہے وہ سود خور کے قبضہ میں آکر اگرچہ اس کی ملك ہوجاتا ہے،
لان ھذا ھو حکم العقود الفاسدۃ وذھل الفاضل الشامی فی العقود الدریۃ۔ کیونکہ عقود فاسدہ کا یہی حکم ہے اور علامہ فاضل شامی سے عقود دریہ میں بھول ہوئی۔(ت)
مگر وہ ملك خبیث ہوتی ہے اس پر فرض ہوتا ہے کہ ناپاك مال جن جن سے لیا ہے انہیں واپس دے وہ نہ رہے ہوں تو ان کے وارثوں کو دے وہ بھی نہ ملیں توتصد ق کردے،بہرحال اپنے حوائج میں اسے خرچ کرنا حرام ہوتا ہے اگراپنے خرچ میں لائے گا تو وہ اب بھی سود کھارہا ہے اور اس کی توبہ جھوٹی ہے،
لانہ لم یندم علی الماضی وما ترك فی الاتٰی ولم یمح الباقی فلم یوجد شیئ من ارکان التوبۃ۔ کیونکہ وہ گزشتہ پر نادم نہیں ہوا اور آئندہ کے لئے اس کو چھوڑا نہیں اور نہ ہی باقی کو مٹایا تو اس طرح ارکان توبہ میں سے کوئی بھی نہیں پایا گیا(ت)
وارث کو اگر معلوم ہوکہ اس کے مورث نے فلاں فلاں شخص سے اتنا اتنا حرام لیا تھا تو انہیں پہنچا دے اور اگر سب معلوم ہو کہ بعینہ یہ روپیہ جو اس صندوق یا اس تھیلی میں ہے خالص مال حرام ہے تو اسے فقراء پر تصدق کردے اور اگر سب مخلوط ہے اور جن سے لیا وہ بھی معلوم نہیں تو وارث کےلئے جائز ہے اور بچنا افضل ہے۔ درمختار میں ہے :
الحرمۃ تتعدد مع العلم بھا الافی حق الوارث وقیدہ فی الظہیریۃ بان لایعلم ارباب الاموال [1]۔
حرمت کا اگر علم ہو تو وہ منتقل ہوتی ہے سوائے وارث کے حق کے،اور ظہیریہ میں حق وارث کے ساتھ یہ قید لگائی کہ وہ وارث مال کے مالکوں کو نہ جانتا ہو(تب اس کے لئے حلال ہے)۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
الحاصل انہ ان علم ارباب الاموال وجب ردہ علیہم، والا فان علم عین الحرام لایحل لہ و یتصدق بہ بنیۃ صاحبہ،وان کان مالا
حاصل یہ کہ اگر وارث مال کے اصل مالکوں کا علم رکھتا ہو تو ان کا مال انہیں لوٹانا اس پر واجب ہے ورنہ اگر اس مال کے بعینہ حرام ہونے کا اسے علم ہے تو اس کے لئے حلال نہیں بلکہ مالك کی طرف سے مختلطا مجتمعا من الحرام ولا یعلم اربابہ ولا شیئا منہ بعینہ حل لہ حکما،والاحسن دیانۃ التنزہ عنہ [2]۔
نیت کرتے ہوئے صدقہ کرے اور اگر مال حرام حلال سے مخلوط ہے اور وہ وارث اس کے مالکوں کونہیں جانتا،نہ ہی بعینہ اس کے حرام ہونے کا اس کو علم ہے تو وہ حکمًا اس کے لئے حلال ہے مگر دیانت کے اعتبار سے اس سے بچنا ہی زیادہ بہتر ہے۔(ت)
نیز درمختار میں ہے :
ولا یبطل حق الفسخ(ای فی البیع الفاسد)بموت احدھما(ای احد العاقدین)فیخلفہ الوارث بہ یفتی اھ [3] اقول: فافاد ان انتقال الملك فی الملك الخبیث لا یزیل الخبث ویجب علی الوارث فسخہ فان لم یفعل اجبرا لقاضی۔واللہ تعالٰی اعلم۔
بیع فاسد میں بائع یا مشتری کی موت کے سبب سے حق فسخ باطل نہیں ہوتا،چنانچہ مرنے والے کا وارث اس کا قائم مقام ہوگا اور اسی پر فتوٰی دیا جاتا ہے۔میں کہتا ہوں کہ اس کلام نے اس بات کا فائدہ دیا کہ ملك خبیث میں ملك کا منتقل ہونا خبث کو زائل نہیں کرتا لہٰذا وارث پر واجب ہے کہ بیع فاسد کو فسخ کرے اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو قاضی اس پر جبر کرے۔واللہ تعالٰی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۰۴: ملك بنگالہ ضلع نصیر آباد مرسلہ مولوی تمیز الدین صاحب ۸/ ذیقعدہ ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین ا س مسئلہ میں کہ سود خور کے ساتھ میل جول کرنا اور شادی اور پنچایت میں بلاناجائز ہے یانہیں؟بحوالہ کتب وبادلیل جواب عنایت فرمائیں۔بینواتوجروا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع