30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قال اللہ تعالٰی " وَ حَرَّمَ الرِّبٰواؕ "،[1]وقال تعالٰی " وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا "[2]۔اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے سود کو حرام کیا۔ اور اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ چھوڑ دو جو باقی رہا ہے سود سے(ت)
تو یہ شخص جس نے سود کی نیت سے لیا اپنی نیت فاسدہ پر گنہگار ہوا،ہاں جبکہ وہ روپیہ برضا مندی گورنمنٹ حاصل کیا اور گورنمنٹ کی طرف سے یا اس سے لینے والوں کو کسی ضرر کے پہنچنے کا اندیشہ نہیں۔
تو فقراء و غرباء اسے نہ یہ سمجھ کر کہ سود کا روپیہ ہے بلکہ یہ جان کر کہ از خزانہ برضائے حاکم وقت حاصل ہوا ہے لے سکتے ہیں ان کے لئے طیب و حلال ہے یونہی اس سے بنوایا ہوا کنواں،
کما فصلناہ فی فتاوٰنا المسألۃ مسألۃ الظفر المنصوص علیہ من الدر وغیرہ من الاسفار الغر۔
جیسا کہ اس کو ہم نے اپنے فتاوٰی میں مفصل بیان کیا ہے،یہ مسئلہ اپنے حق کو کسی طریقے سے حاصل کرلینے میں کامیابی کا مسئلہ ہے جس پر در وغیرہ کتابوں میں اس پر نص کی گئی ہے(ت) ۔
واللہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم حکمہ احکم
مسئلہ ۲۰۰:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کہتا ہے کہ میں نے ڈاکخانہ میں روپیہ جمع کیا مگر میرا ارادہ سود لینے کا نہ تھا بلکہ میں نے منع کیا کہ سودی نہ جمع کرنا بعد کو جب عرصہ ہوگیا تو میں روپیہ لینے کے واسطے ڈاکخانہ گیا تو اس نے مع سود روپیہ مجھ کو واپس دیا میں نے انکار کیا کہ میں سود نہ لوں گا،اس نے کہا کہ ہم بھی واپس نہیں کرسکتے سود تم کسی محتاج کو دے دینا اس میں عالموں کی کیا رائے ہے اور شرع کا کیا حکم ہے ؟ آیا وہ روپیہ محتاج کو دینا ثواب ہے یا نہیں؟ کیونکہ سرکار اس روپیہ کو واپس نہیں لیتی ہے اور ہمارے بھی کسی کام کا نہیں،اس حالت میں محتاج کو دیں یا کیا کریں؟ بینواتوجروا۔
الجواب:
جبکہ اس نے نہ سود لینا چاہا نہ اصلًا اس کا قرار داد کیا بلکہ صراحۃً منع کردیا،نہ اب سود لینا مقصود توفقراء کو پہنچانے کی نیت سے وہ روپیہ جو گورنمنٹ سے بلا غدر وعہد شکنی بلکہ بخوشی ملتا ہے لینا اور لے کر مساکین مستحقین کو پہنچا دینا ضرور موجب ثواب ہے، لان فیہ الاحسان بالمساکین، " وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَۚ(۱۳۴) "[3]، وانما الاعمال بالنیات وانما لکل امرئ مانوی [4]،و قد قال صلی اللہ تعالٰی علیہ کیونکہ اس میں مسکینوں پر احسان اور مستحقین کو ان کا حق پہنچانا ہے،اوراللہ تعالٰی احسان کر نیوالوں سے محبت فرماتا ہے،اور بیشك اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی کچھ ہے جس
وسلم من استطاع منکم ان ینفع اخاہ فلینفعہ [5]۔ رواہ مسلم عن جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ۔واللہ تعالٰی اعلم۔
کی اس نے نیت کی۔اور تحقیق رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ تم میں سے جو اپنے بھائی کو نفع پہنچانے کی طاقت رکھتا ہو اس کو چاہئے کہ وہ اپنے بھائی کو نفع پہنچائے۔ (اس کو امام مسلم نے سیدنا حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت فرمایا۔اور اللہ تعالٰی بہتر جانتا ہے۔ت)
مسئلہ ۲۰۱: ازمیرگنج مرسلہ ابوالحسن صاحب ۶شعبان ۱۳۲۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ سیونگ بنك یعنی ڈاکخانہ جات سرکار میں روپیہ جمع کرنا اور اس کو سود ۴/ فیصدی جو حسب قاعدہ سرکاری جمع کنندہ کو ملتا ہے لینا جائز ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب:
سود مطلقًا حرام ہے قال اللہ تعالٰی " وَ حَرَّمَ الرِّبٰواؕ "[6] (اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا:حرام کیا ہے اللہ تعالٰی نے سود کو۔ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع