30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عقد منہما صادفتہ الاجازۃ نفذ بخصوصۃ،فی الحاشیۃ الشامیۃ عن جامع الفصولین عن المبسوط لوباعہ المشتری من غاصب ثم وثم حتی تداولتہ الایدی فاجاز مالکہ عقدا من العقود جاز ذٰلك العقد خاصۃ لتوقف کلہا علی الاجازۃ فاذا اجاز عقدا منہا جاز ذٰلك عقدا منہا جاز ذٰلك خاصۃ [1] اھ وھٰھنا قد لحقت الاجازۃ العقد الاٰخر فنفذ وثبت موقوف ہوتا ہے اگر اجازت دے دے تو نافذ ورنہ باطل ہوجائیگی،درمختار میں ہے کہ غاصب کی بیع اجازت مالك پر موقوف ہوتی اھ اور جب صورت حال یہ ہے تو حکام سے خریدنے والی ہندہ کی مبیع میں ملك ہی ثابت نہ ہوئی،چنانچہ اس کا خالد کے ہاتھ بیچنا بھی ملك اذن مالك کے نہ ہونے کی وجہ سے بیع فضولی ہوا تو یہ بھی اجازت مالك پر موقوف ہوگا، ردالمحتار میں ہے کہ غاصب سے خریدار کی بیع موقوف ہوتی ہے اھ،تو ان دونوں عقدوں میں سے جس کو اجازت لاحق ہوگئی وہ بطور خاص نافذ ہوگیا۔حاشیہ شامیہ بحوالہ مبسوط،جامع الفصولین سے منقول ہے کہ اگر غاصب سے خریدنے والے نے کسی کے ہاتھ فروخت کیا اس نے آگے پھر اس نے آگے فروخت کردیا حتی کہ وہ کئی جگہ فروخت ہوا،اب مالك نے ان عقود میں سے کسی ایك عقد کی اجازت دے دی تو خاص وہ عقد نافذ ہوجائے گا کیونکہ یہ تمام عقود مالك کی اجازت پر موقوف تھے تو جس کی اجازت اس نے دی وہی بطورخاص نافذ ہوگیا اھ،اوریہاں(صورت مسئولہ میں)اجازت آخری عقد کو لاحق ہوئی وہ نافذ ہوگیا،چنانچہ
الملك لخالد فی المبیع و نمائہ وغلالہ منذ شری من الھندۃ،فی تنویر الابصار وشرحہ کل مایحدث من البیع کالکسب والولد والعقر ولوقبل الاجازۃ یکون للمشتری لان الملك تم لہ من وقت الشراء بخلاف الغاصب [2] اھ واماما تحصل من المزارع قبل شراء خالد فلا حق لخالد فیہ و لالھندۃ بل لعمر وخاصۃ لانہ بدل منافع مبلکہ المعد للاستغلال وھبۃ الدین ممن لیس علیہ باطلۃ الا ان یسلط علی القبض، فی شرح العلائی اما تملیك الدین نم غیر من علیہ الدین فان امرہ بقبضہ صحت لرجوعہا الی ھبۃ العین [3] اھ وفی مسألتنا ھذہ قد وقع التسلیط کما ذکر فی السوال فصحت الھبۃ وصح التعویض،فی شرح التنویر عن الجواہر،لایصح الابراء عن الرجوع ولوصالحہ
مبیع اور اس سے حاصل شدہ آمدنی میں اس دن سے خالد کی ملك ثابت ہوگئی جس دن اس نے ہندہ سے خریدا،تنویر الابصار اور اس کی شرح میں ہے کہ جو کچھ مبیع سے حاصل ہو جیسے کمائی،اولاد اور عقر،تو وہ مشتری کا ہے اگر چہ اجازت سے قبل ہو کیونکہ خریداری کے وقت سے ہی اس کو ملك تام حاصل ہوگئی،بخلاف غاصب کے اھ،اور جو کچھ خالد کی خریداری سے قبل کھیتوں سے حاصل ہو ا اس میں خالد اور ہندہ کا کوئی حق نہیں بلکہ وہ خاص عمرو کا ہے کیونکہ یہ اس کی ایسی ملك کے منافع کا بدل ہے جوغلہ حاصل کرنے کے قبل ہے،اور دین کا ہبہ اس شخص کو جس پر دین نہیں باطل ہے سوائے اس کے کہ اس کوقبضہ کا اختیار دے دے شرح علائی میں ہے کہ ایسے شخص کو دین کامالك بنا یا جس پر دین نہیں، اب اگر صاحب دین نے مدیون کو دین پر قبضہ کا حکم دے دیا تو یہ ہبہ صحیح ہوگیا کیونکہ یہ(ہبہ دین)ہبہ عین کی طرف راجع ہوگا اھ ہمارے زیر بحث مسئلہ میں چونکہ قبضہ کا اختیار دے دیا ہے جیسا کہ سوال میں مذکور ہے لہٰذا ہبہ صحیح ہوگیا اور عوض دینا بھی درست ہوگیا شرح تنویر میں بحوالہ جواہر منقول ہے کہ کسی کو حق شرع رجوع سے بری کردینا صحیح نہیں
من حق الرجوع علی شیئ صح وکان عوضا عن الہبۃ [4] اھ۔
اور اگر حق رجوع کے عوض کسی شیئ پر صلح کرلی توصحیح ہے اور یہ ہبہ کا عوض ہوجائے گا اھ(ت)
بالجملہ:جس روز سے خالد نے وہ جائداد ہندہ سے خریدی اس دن سے تو اس کی توفیر خود ملك خالد ہے اور اس سے پہلے جو توفیر روز نیلام سے اس وقت تك تھی وہ عمرو کے ہبہ کرنے سے اس کا حق ہوگئی اب پانچوں بسوں کی توفیر سال ۱۲۹۲ فصلی میں سوا خالد کے کسی کا حق نہیں، والله تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم وحکمہ عزشانہ احکم
(مہر مولوی عبدالقادر صاح بدایونی) (مہر مولوی عبدالمقتدر صاحب بدایونی)
مسئلہ ۲۷: از ستار گنج ۲۶ ربیع الآخر ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اکثر باغ وجائداد منقولہ وغیرہ منقولہ سرکار نیلام کرتی ہے اس کا خریدنا جائز ہے یا ناجائز ہے اور اشیاء روبرو ہے فقط۔
الجواب:
جو نیلام باجازت مالك ہو مطلقًا جائز ہے یا بعد بیع مالك اجازت دے دے مثلا سو روپے قرض تھے ایك سودس میں نیلام ہوا دس کہ زائد تھے مالك کو دئے گئے اس نے قبول کرلئے تویہ اب جائز ہوگیا اگر چہ ابتداءً ناجائز تھا فان الاجاۃ اللاحقۃ کالوکالۃ السابقۃ [5](کیونکہ اجازت لاحقہ،وکالت سابقہ کی مثل ہے۔ت) اور جہاں یہ دونوں صورتیں ہ ہوں وہ عقد فضولی ہے اجازت مالك پر موقوف ر ہے گا اگر جائز کردے جائز ہوجائے گا رد کردے باطل ہوجائے گا،اور جب تك اجازت نہ دے اس شے میں مشتری کو تصرف حلال نہ ہوگا،
فان العقد الموقوف لایفید الحل،کما نص علیہ فی ردالمحتار وغیرہ۔
کیونکہ بیع موقوف مفید حل نہیں ہوتی جیسا کہ ردالمحتار وغیرہ یمں اس پر نص کی گئی ہے۔(ت)
پھر یہ بھی اس صورت میں ہے کہ اس عقد کے ہوتے وقت کوئی ایسا شخص قائم ہو جسے شرعا اس کی اجازت کا اختیار ہے نہ دوسرے سے باطل ہوگا مثلا نابالغ کا مال نصف قیمت کا نیلام کیا گیا کہ اسے تمام دنیا میں اجات دینے والا کوئی نہیں تو ایسا عقد موقوف نہ ر ہے گا ابتداء باطل ومردود ہوگا،
فان تصرف الفضولی حیث لامجیز باطل اصلا [6] کما نص علیہ فی الدر وغیرہ واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
[1] ردالمحتار کتاب البیوع فصل فی الفضولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۴۲
[2] درمختار شرح تنویر الابصار کتاب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۲
[3] درمختار کتاب الہبۃ کتاب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۵۸
[4] درمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۱
[5] ردالمحتار کتاب البیوع فضل فی الفضولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۴۰۔۱۳۹
[6] درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع