30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پھر کہے،جو بھی نفع ہو گا وہ دونوں کے درمیان ان کے سرمائے کی مقدار کے حساب سے ہوگا یوں ہی حکم نقصان کا بھی ہوگا اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ سرمائے کی مقدار کے خلاف نقصان کی شرط لگانا باطل ہے اور نفع میں تفاوت کی شرط لگانا صحیح ہے اس کی دلیل ہم عنقریب ذکر کریں گے۔(ت)
یہاں اگر نقصان ہوا جب بھی ان حصہ داروں کو اس سے غرض نہ ہوگی وہ اپنے ہزار روپے لے چھوڑیں گے یہ شرکت ہوئی یا غصب،اصل مقتضاء شرکت عدل و مساوات ہے۔قال اللہ تعالٰی " فَهُمْ شُرَكَآءُ فِی الثُّلُثِ "[1]
( اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا:سب ترکہ کے تیسرے حصہ میں شریك ہیں۔ت)فرض کیجئے کہ اصل سرمایہ ان سو حصوں سے دو چند تھا اور اس سال پندرہ سو روپے کے نفع ہوئے تو یہ نصف والے ایك ہزار لیں گے اور دو چند والوں کو صرف پانسو ملیں گے، آدھے کو دو نا اور دونے کو آدھا،یہ عدل ہوا یا صریح ظلم۔بالجملہ اس عقد مخترعہ کو شرکت شرعیہ سے کوئی علاقہ نہیں،اب نہ رہے مگر عاریت یا قرض،عاریت ہے جب بھی قرض ہے کہ روپیہ صرف کرنے کو دیا،او ر عاریت میں شے بعینہٖ قائم رہتی ہے۔درمختار میں ہے:
عاریۃ الثمنین قرض ضرورۃ استھلاك عینھا[2]۔ ثمنوں(سونے اور چاندی)کی عاریت قرض ہے کیونکہ اس میں عین کو ہلاك کرنا لازم ہے۔(ت)
بہر حال یہاں نہیں مگر صورت قرض،اور اس پر نفع مقرر کیا گیا،یہی سود ہے اور یہی جاہلیت میں تھا،حدیث میں ہے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں:
کل قرض جر منفعۃ فھو ربٰو[3]۔
قرض پر جو نفع حاصل کیا جائے وہ ربا ہے۔
قرآن کریم اس نفع منقح کی تحریم سے ساکت نہیں خود سائل نے علت تحریم ربا تلاوت کی " لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ(۲۷۹)"[4] (نہ تم ظلم کرو اور نہ ظلم کئے جاؤ۔ت) اور یہاں "تظلمون وتظلمون" دونوں ہیں،ان مذکور صورتوں میں کہ ہزار ہی نفع کے ہوئے اور سب ان سو حصہ دار وں نے لئے یا نفع کے پندرہ سو ہوئے اور نصف والوں نے دو نے لئے،یہ ظالم ہیں اور وہ مظلوم،اور اگر پانچ ہزار نفع کے ہوئے تو ان نصف والوں نے دونے لئے،یہ ظالم ہیں اور وہ مظوم،اور اگر پانچ ہزار نفع کے ہوئے تو ان نصف والوں کو پانچواں حصہ ملا اور ان دو چند ہی والوں کو چہار چند،یہ مظلوم ہوئے اور وہ ظالم،اور اگر یہ حصے سرمایہ سے تھے تو ظلم اشد ہے،اور دونے اور آدھے کو چار۔اب ایك صورت اگر یہ خیال کی جائے کہ اصل سرمایہ ان حصوں سے جدا نہ ہو انہیں حصوں سے تجارت شروع ہوئی،مثلًا سواشخاص نے سو سو روپے ملاکر دس ہزار سے تجارت کی اور ہر شریك کے لئے دس دس رپوے نفع منقح قرار پایا یہ صورت ظاہر کردے گی کہ وہ قرار داد ظلم و جبریت تھا یا محض جہل و حماقت۔فرض کیجئے ایك سال پانچ ہی سو نفع کے ہوئے تو یہ سوپر دس دس کرکے کیسے بٹیں،کیا پانسو کہیں سے غصب کرکے ملائے جائیں گے یا پچاس ہی کو دے کر
پچاس کو رے چھوڑ دئے جائیں گے اور وہ کون سے پچاس ہوں گے جن کو دیں گے ور وہ کون سے پچاس ہوں گے جن کو محروم رکھیں گے۔فرض کیجئے دو ہزار نفع کے ہوئے تو دس دس بانٹ کر ہزار بچیں گے یہ کسی راہ چلتے کو دئے جائیں گے یا اسی تجارت میں لگادئے جائیں گے،اگر اسی میں لگائیں گے تو سب کی طرف سے یا بعض کی طرف سے ثانی میں وہ بعض کون ہوں گے اور ان کو کیوں زیادہ ملا اور اول پر سب کو بیس بیس ملے اور ٹھہرے تھے دس دس خلاف قرار داد عقد کیونکر ہوا۔لاجرم عقل ہو تو یہی ماننا پڑے گا کہ جس سال ہزار نفع کے ہوں گے سب دس دس پائیں اور پانسو تو سب پانچ پانچ اور دو ہزار تو سب بیس بیس،اور کچھ نہ ہو تو کوئی کچھ نہیں،اور نقصان ہو تو سب پر حصہ رسد۔یہی عدل ہے اور یہی مقتضائے شرکت،اور یہی شرکت شرعیہ،اور وہ نفع منقح رجمًا بالغیب ٹھہرالینا محض جہل و حماقت تھا،بالجملہ شرع مطہر سے آنکھ بند کرنا شر ہی لاتا ہے،خیرہمہ تن خیر وہی ہے جو شرع مصطفی ہے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ۔
مسئلہ ۱۹۹: از جالندھر محلہ راستہ متصل مکان ڈپٹی احمد جان صاحب مرسلہ محمد احمد خان صاحب ۲۰/ شوال ۴ ۱۳۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں،ایك شخص کو سرکاری بنك گھر سے اس کے روپوں کا سود آتا ہے آیا یہ شخص سرکار سے سود لے لے اور آپ نہ کھائے اور محتاج اور غریبوں کو تقسیم کردیا کرے یا کسی مفلس تنگدست کے گھر جس کو پانی کی قلت ہوکنواں لگوادے آیا وہ شخص ازروئے شرع شریف سود خوروں اور گناہگاروں میں شمار تو نہ ہوگا،اور ان مفلسوں اور محتاج گھر والوں کے واسطے نقد وغیرہ اس سود سے لینی اور اس کو کنوئیں کا پانی پینا درست ہے یانہیں؟ بحوالہ کتب معتبرہ بیان فرمائیں۔
الجواب:
سود لینا مطلقًا حرام ہے،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع