30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جرم ہوتی ہیں ان میں ملوث ہونا اپنی ذات کو اذیت و ذلت کےلئے پیش کرنا ہے اور وہ ناجائز ہے،اس طرح کی صورتوں سے بچنا ضروری ہے اور اس کا ماسوا مباح و جائز ہے اس میں کوئی ممانعت نہیں،ہاں جس نے حربیوں سے زیادہ مال بنیت سود لیا تواس نے گناہ کا قصد کیا اور اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے ہر شخص کےلئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی،جیسا کہ فقہاء کرام نے اس شخص کے بارے میں اس پر نص کی ہے جس نے طاق میں رکھے ہوئے کپڑے کو دور سے غیر محرم عورت سمجھتے ہوئے قصدًا اس کی طرف نظر کی کیونکہ اس نے اپنے قصد میں گناہ کیا اگرچہ کپڑے کو دیکھنا فی نفسہٖ مباح ہے۔(ت)وھو سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۸: ازلکھنؤ بازار جھاؤلال مکان ۳۷ مسئولہ سید عزیز الرحمان ۱۱/رمضان ۱۳۳۹ھ
ماقولکم رحمکم اللہ(آپ کا کیافرمان ہے اللہ آپ پر رحم کرے۔ت)ربا کی حرمت نصوص صریحہ سے ثابت ہے مگر قرآن مجید میں ربا کی کوئی تفسیر نہیں کی گئی،ایام جاہلیت میں جو ربا عام طور پر شائع تھا وہ یہ تھا کہ لوگ ایك دوسرے سے میعاد معینہ پر قرض لیتے تھے اور میعاد
گزرجانے پر مدیون راس المال پر اضافہ گوارا کرتا یا پہلے ہی سے دونوں میں معاہدہ ہوجاتا تھا،اسی راس المال پر اس افزائش کو اضافہ کرکے پھر اس پر سود لگایا جاتا تھا جیسا کہ اس زمانے میں مہاجنی کا طریقہ ہے اس صورت کے حرام ہونے میں کوئی شبہ نہیں مگر اب اس زمانے میں معاملات کی نئی صورتیں پیدا ہوگئی ہیں جیسے بنك یالائف انشورنس کمپنی یا ریلوے اور ملوں کے حصے وغیرہ جوتاجرانہ کاروبار کرتے ہیں ان میں جو شخص روپیہ جمع کرتا ہے وہ در حقیقت قرض نہیں دیتا اور جو نفع اس کو ملتا ہے وہ در حقیقت سود نہیں ہوتا بلکہ وہ اس تجارت میں ایك گونہ شرکت ہے اور جو سود مقرر ہوتا ہے اگرچہ وہ بلفظ سود ہو مگر در حقیقت سود نہیں ہے بلکہ وہ اس کاروبار کا نفع ہے جو منقح ہوتا ہے اور قرآن مجید میں کہیں منقح نفع کی حرمت وارد نہیں اور نہ اس کی کوئی وجہ معلوم ہوتی ہے،اس واسطے کہ جو شخص تجارتی حساب سمجھنے کی اہلیت نہ رکھتا ہو اس کو بغیر اس کے چارہ نہیں ہے کہ وہ فیصدی تین یا پانچ روپیہ پہلے سے منقح کرکے لیا کرے خصوصًا اس زمانے میں جبکہ کروڑوں روپیہ کے شرکت سے تجارتی کاروبار کھولے جاتے ہیں اور شرکاء کی جانب سے ڈائر کٹروں کی جماعت کاروبار چلانے اور حساب و کتاب رکھنے اور منافع مشخص کرنے اور ریزر وفنڈ(محفوظ)کے قائم رکھنے کے لئے مقرر کئے جاتے ہیں جو درحقیقت ان شرکاء کی طرف سے وکیل ہوتے ہیں تو جو منافع بعد پس انداز کرنے ریزرو فنڈ کے ان وکیلوں نے تجویز کیا ہو وہ سود نہیں ہوسکتا اور نہ ایسے کاروبار میں روپیہ داخل کرنے کو قرض کہا جاتا ہے،علاوہ اس کے ربا کی حرمت کی جو علت آیہ کریمہ" لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ(۲۷۹) "[1](نہ تم ظلم کرو اور نہ ظلم کئے جاؤ۔ت)میں بیان فرمائی گئی ہے وہ اس پر کسی طرح صادق نہیں آتی۔ضرورت ہے کہ علمائے کرام اس پر غور فرماکر جواب تحریر فرمائیں تاکہ اس زمانہ میں مسلمان جس کشمکش میں مبتلا ہیں اس سے نجات پائیں۔
الجواب :
یہاں چار ہی صورتیں متصور ہیں،کام میں لگانے کے لئے یہ روپیہ دینے والا بغرض ۱شرکت دیتا ہے یا ۲بطور ہبہ یا ۳عاریۃً یا ۴قرض۔ صورت ہبہ تو یہاں بداہۃً نہیں اور شرکت کابطلان اظہر من الشمس،شرکت ایك عقد ہے جس کا متقضی دونوں شریکوں کا اصل و نفع دونوں میں اشتراك ہے ایك شریك کے لئے معین تعداد زر مقرر کرنا قاطع شرکت ہے کہ ممکن کہ اسی قدر نفع ہو تو کلی نفع کا یہی مالك ہوگیا،دوسرے شریك کو کچھ نہ ملا تو ربح(نفع)میں شرکت کب ہوئی۔ جوہرہ نیرہ و تنویر الابصار میں ہے:
الشرکۃ عبارۃ من عقد بین تنویر وشرح مدقق علائی۔شرکت نام ہے اصل و نفع میں دو شریك ہونیوالوں
المتشارکین فی الاصل والربح،[2] تنویر و شرح مدقق علائی۔
کے درمیان عقد کا،تنویر و شرح مدقق علائی۔(ت)
درمختار میں ہے:
شرطھا ای شرکۃ العقد عدم مایقطعھا کشرط دراہم مسماۃ من الربح لاحدھما لانہ قد لایربح غیر المسمی و حکمھا الشرکۃ فی الربح[3]۔ شرکت عقد کی شرط اس چیز کا نہ پایا جانا ہے جو شرکت کو قطع کرے جیسے دو شریکوں میں سے ایك کے لئے نفع میں سے معین درہموں کی شرط کیونکہ کبھی ان معینہ درہموں کے علاوہ کوئی نفع ہی نہیں ہوتا اور شرکت عقد کا حکم نفع میں شرکت ہے۔(ت)
اگر ایك سرمایہ سے تجارت ہوئی پھر اس میں سو حصہ دار اور شریك ہوئے اور ہر ایك کیلئے دس دس روپے نفع کے لینے ٹھہرے اور اس سال ایك ہی ہزار کا نفع ہوا تو یہ ہزار تنہا یہی سو حصہ دار لیں گے یہ شرکت نہیں لوٹ ہے،شرکت کا متقضیٰ یہ ہے کہ جیسے نفع میں سب شریك ہوتے ہیں نقصان ہو تو وہ بھی سب پر ہر ایك کے مال کی قدر پڑے۔ردالمحتار میں ہے:
ثم یقول فما کان من ربح فہو بینھما علی قدر رؤس اموالھما وماکان من وضیعۃ او تبعۃ فکذلک،ولا خلاف ان اشتراط الوضیعۃ بخلاف قدراس المال باطل واشتراط الربح متفا وتا صحیح فیما سیذکر[4]۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع