30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور اس پر گواہی کرنیوالے سب ایك حکم میں ہیں [1] جو کھانا سامنے لایا اگر معلوم ہو کہ یہ بعینہ سود کا ہے تو اس کا کھانا حرام اور اگر سود کا روپیہ دکھا کر یا پہلے دے کر اسکے عوض کھانے کی چیز خریدی جب ناجائز ہے ورنہ ناجائز
نہیں مگر ایسے لوگوں سے اختلاط نا مناسب ہے۔واللہ تعالٰی اعلم
مسئلہ۱۹۷:از گودنا ڈاکخانہ یولگنج ضلع سارن مدرسہ حمیدیہ مرسلہ منشی عبدالحمید صاحب ناظم مدرسہ مذکورہ ۱۸/شوال ۱۳۳۱ھ
مایقول السادۃ الفضلاء ھل یجوز اخذ الربا عن اھل الحرب فی الھند سواء کانواھنوداام نصرانیین او غیرہم ممن لاذمۃ لھم علینا۔ کیا فرماتے ہیں بزرگ فضلاء کہ کیا ہندوستان میں اہل حرب سے سودلینا جائز ہے ؟چاہے وہ ہندو ہوں یا نصرانی ہوں یا ان کے علاوہ جن کاذ مہ ہم پر لازم نہیں (یعنی ذمی نہیں)۔(ت)
الجواب:
الھند بحمدہ تعالٰی دارالاسلام لبقاء کثیر من شعائر الاسلام ومابقی علقۃ منھا تبقی دارالاسلام دار الاسلام لان الاسلام یعلو ولا یعلی [2] اما اخذ الربا فانہ لایجوز مطلقًا لاطلاق نصوص التحریم وماذکروامن جواز اخذ الفضل فی دارالحرب فلیس من باب الربا فی شیئ،لان الربا انما یکون فی مال معصوم ومال اھل دارالحرب غیر معصوم حتی من اسلم منھم ثمہ ولم یھاجر الینا فاخذ ذٰلك اخذ مال مباح لااخذ ربا،ولذا یقول المحققون لاربا فی دارالحرب لا انہ یجوز اخذ الربا فیہا ہندوستان الحمد ﷲ دارالاسلام ہے کیونکہ اس میں بہت سے شعائر اسلامی باقی ہیں اور جب تك ان شعائر اسلامیہ کا تعلق باقی رہے دارالاسلام دارالاسلام ہی رہتا ہے اس لئے کہ اسلام غالب ہوتا ہے مغلوب نہیں ہوتا۔رہا سود کا لینا تو وہ نصوص تحریم کے اطلاق کی وجہ سے مطلقًا حرام ہے اور فقہاء کرام نے جودارالحرب میں زیادہ لینے کے جواز کا ذکر کیا ہے وہ سود کے قبیلہ سے نہیں ہے کیونکہ سود مال معصوم میں ہوتا ہے اور اہل حرب کا مال معصوم نہیں یہاں تك کہ اگر اہل حرب میں سے کوئی شخص وہاں ہی مسلمان ہوااور ہجرت کرکے ہماری طرف دارالاسلام میں نہیں آیا تو اس کا مال لینا مال مباح کا لینا ہے نہ کہ سود کا لینا۔اسی لئے محققین فرماتے ہیں کہ دارالحرب میں کوئی سود نہیں،یوں نہیں فرماتے کہ وہاں سود
کما یقولون لاربا بین السید وعبدہ لاانہ یجوز للسید اخذ الربا من عبدہ،فانما اطلق علیہ اسم الربا نظر االی الصورۃ،وانما الاحکام للحقائق وھذا الحکم یعم کل حربی غیر مستامن ولو فی دار الاسلام لان المناط عدم العصمۃ وھو یشملھم جمیعا،فلا یحرم علینا معھم الاالغدر،فاذا جاوزتہ و اخذت منھم مااخذت باسم ای عقد اردت فقد اخذت مالا مباحا لاتبعۃ علیك فیہ کما راھن الصدیق الاکبر علیہ الرضوان الاکبر کفار مکۃ فی غلبۃ الروم واخذ مالھم باذنہ علیہ وعلی اٰلہ افضل الصلوٰۃ والسلام،فانما جاز لعدم العصمۃ والالکان قمارامحرما،فہذا ھوالاصل المطرد فی ھذا الباب ومن اتقنہ تیسر علیہ استخراج الجزئیات وقد فصلنا القول فیہ فی فتاوٰنا،نعم ھنا دقیقتان یجب التنبہ لھما ۱ الاولی ینبغی التحرز عن مواقف التھم ممن جاھر باخذ الفضل منھم
لیناجائز ہے جیسا کہ وہ فرماتے ہیں کہ مالك اور اس کے غلام کے درمیان کوئی سود نہیں،نہ یہ کہ مالك کا غلام سے سود لینا جائز ہے،اس پر سود کا اطلاق محض صورت کے اعتبار سے ہے اور احکام تو حقائق کے لئے ہوتے ہیں(نہ کہ صورت کےلئے)اور یہ حکم مذکور ہر حربی غیر مستامن کو شامل ہے اگر چہ وہ دارالاسلام میں ہو کیونکہ اس حکم کا دارومدار مال کے معصوم نہ ہونے پر ہے اور وہ(عدم عصمت)تمام غیر مستامن حربیوں کو شامل ہے چنانچہ ہم پر ان کے ساتھ سوائے دھوکا بازی کے کچھ حرام نہیں،اور جب تو دھوکا بازی سے اعراض کرتے ہوئے ان کا مال جس عقد کے نام سے چاہے لے تو بیشك تو نے مال مباح لیا اس میں تجھ پر کوئی مواخذہ نہیں جیسا کہ سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے غلبہ روم کے بارے میں کفار مکہ سے شرط لگائی اور نبی اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلم کی اجازت سے اس شرط پر کفار مکہ کا مال لے لیا کیونکہ ان کا مال معصوم نہیں ورنہ تو یہ جوا ہے جو کہ حرام ہے۔اس باب میں یہ قاعدہ کلیہ ہے جس نے اس کو مستحکم کرلیا اس پر جزئیات کا استخراج آسان ہوگیا اور ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس پر مفصل گفتگو کی ہے ہاں یہاں دوباریك باتیں ہیں جن پر متنبہ ہونا ضروری ہے،پہلی بات یہ ہے کہ تہمت کی جگہوں سے بچنا چاہئے۔جس شخص نے اعلانیہ طور پر حربیوں سے زیادتی مال وصول کی اور
بالنیۃ الصحیحۃ المذکورۃ انما یاخذ حلالا ولکن یتھمہ العوام باکل الربا فینبغی التحرز عنہ لذوی الھیأت فی الدین و۲الثانیۃ ان من الصور المباحۃ ما یکون جرمافی القانون ففی اقتحامہ تعریض النفس للاذی والاذلال وھو لایجوز فیجب التحرز عن مثلہ وما عدا ذٰلك مباح سائغ لاحجر فیہ،نعم من اخذ منھم الفضل ونوی اخذ الربا فھو الذی قصد المعصیۃ ،وانما الاعمال بالنیات ولکل امرئ مانوی[3]،کما نصوا علیہ فی من تعمد النظر من بعید الی ثوب موضوع فی الطاق ظنامنہ انھا امرأۃ اجنبیۃ حیث یا ثم بما قصد و ان کان النظر الی الثوب مباحافی نفسہ وھوسبحانہ وتعالٰی اعلم۔ نیت اس کی صحیح ہے جس کا ذکر ہوا تو بیشك وہ حلال مال لیتا ہے لیکن عوام اس پر سود کھانے کی تہمت لگائیں گے لہٰذا دینی اعتبار سے صاحب حیثیت لوگوں کو اس سے اجتناب کرنا چاہئے دوسری بات یہ ہے کہ مباح صورتوں میں سے بعض قانونی طور پر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع