30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کی دو سو۲۰۰ ملے گی اگر واپس نہ چاہا تو مدت مقررہ گزرنے پر جس کو وہ انتخاب کیا ہو بوقت معاہدہ بیمہ کی رقم بالمناسبۃ ملے گی مثلًا چوتھی صورت کا بیمہ کسی نے لیا پانچ سال تك فی دیتا رہا،اس کے بعد دے نہ سکا یا دینا نہ چاہا تو اس کو پاؤ رقم کی دئے کی رسید ملے گی یعنی ۲۵۰ روپیہ اس کو یا تو بشرط حیات ساٹھ سال کی عمر میں مذکور روپیہ ۲۵۰ ملے گا یا بعد موت اس کے وارثوں کو ملے گا،بیمہ کی فیس جدا جدا ہے جتنی عمر کم ہوگی اتنی فیس کم ہوگی بڑی عمر کےلئے زیادہ فیس ہے،یہ حساب بیمی اتارنے کے وقت کیا جاتا ہے اور بیمہ اتارنے کے وقت جو عمر رہتی ہے اس کی فیس تمام عمر یا بڑھاپے کی عمر تك بھرنا ہوگا جس کو وہ پسند کرے۔بالا مذکور صورتوں سے روپیہ جمع کرنا اور بیمہ کمپنی سے معاہدہ کرنا اور کمپنی مذکورہ سے وصول کرنا شرعًا جائز ہے یانہیں ؟ سائل حنفی المذہب ہے لہٰذا فتوٰی بھی اسی مذہب پر ہو۔والسلام
الجواب:
یہ بالکل قمار ہے اور محض باطل کہ کسی عقد شرعی کے تحت میں داخل نہیں،ایسی جگہ عقود فاسدہ بغیر عذر کے جو اجازت دی گئی وہ اس صورت سے مقید ہے کہ ہر طرح ہی اپنانفع ہو اور یہ ایسی کمپنیوں میں کسی طرح متوقع نہیں لہٰذا اجازت نہیں کما حقق المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر(جیسا کہ محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں تحقیق فرمائی۔ت)واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۹۵: ازموضع درؤضلع پیلی بھیت مرسلہ عبدالعزیز خان صاحب ۳/رجب ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ فروخت غلہ نسیہ ساتھ نقصسان نرخ کے بشرط ادائیگی وقت خرمن گاہ جس طرح فی زمانہ زمیندار کیا کرتے ہیں مثلًا اسامی نے تخم واسطے کاشتکاری زمیندار سے طلب کیا اس نے نرخ سے دو تین سیر کم کرکے دے دیا اور اس کی قیمت اس کے ذمہ واجب الادا کرکے وقت بٹائی کے وصول کرلیا خواہ روپیہ لے لیا یا اناج جس کو ہندی میں بیج کھاد کہتے ہیں آیا اس قسم کی بیع جائز ہے یاناجائز ؟بینواتوجروا۔
الجواب:
قرضوں نرخ موجود سے کم بیچنے میں مضائقہ نہیں جبکہ باہم تراضی ہومگر یہ ضرور ہے کہ نرخ و قیمت و وعدہ ادائے قیمت سب وقت بیع معین کردئے جائیں اورغلے کے بدلے غلہ نہ بیچے،مثلًا بارہ سیر کا بك رہا ہے اس نے دس من غلہ دس سیر کے حساب سے دو مہینے کے وعدے پر چالیس روپے کو بیچا کوئی حرج نہیں ،اور اگر یہ ٹھہرا کہ غلہ اتنے غلے کے عوض بیچا جوآج کے بھاؤ سے اتنے روپوں کا فصل پر ہو تو حرام اور سود ہے یونہی وقت خرمن گاہ کا وعدہ بیع میں جائز نہیں ہے اگر عقد بیع میں یہ میعاد مذکور ہوگی بیع فاسد و گناہ ہوگی،ہاں اگر نفس عقد میں قرضو ں کا ذکر نہ تھا پھر قرار پایا کہ یہ روپے جو مشتری پر لازم آئے وقت خرمن ادا کئے جائیں گے تو جائز ہے۔
فی الدر المختار لایصح البیع بثمن مؤجل الی قدوم الحاج والحصاد للزرع والدیا س للحب والقطاف للعنب لانہا تتقدم وتتأخر ولو باع مطلقًا عن ھذہ الاٰجال ثم اجل الثمن الدین الیہا صح التاجیل کما لو کفل الی ھذہ الاوقات لان الجہالۃ الیسیرۃ متحملۃ فی الدین والکفالۃ اھ [1] مختصرًا۔ درمختار میں ہے کہ بیع اس ثمن کے بدلے صحیح نہیں جس کی میعاد حاجیوں کے آنے یا کھیت کاٹنے یا غلہ گاہنے یا انگور توڑنے کے ساتھ مقرر کی گئی ہو کیونکہ یہ اوقات مقدم و مؤخر ہوتے رہتے ہیں ہاں اگر ان اوقات کا ذکر کئے بغیر بیع کی پھر ثمن دین کوان اوقات کے ساتھ مؤجل کردیا تو مدت مقرر کرنا صحیح ہے جیسا کہ کوئی شخص اوقات مذکورہ تك ضامن بنے کیونکہ تھوڑی سی جہالت دین اور ضمانت میں قابل برداشت ہے اھ مختصرًا(ت)
پھر بہر حال یہ اس سے انہیں قرار یافتہ روپوں کے لینے کا مستحق ہوگا وقت خرمن جبر نہیں کرسکتا کہ اب اس وقت کے بھاؤ سے اتنے روپوں کا جو غلہ ہو اوہ دے یہاں تك کہ اگر عقد میں یہ شرط کرلی تھی کہ چالیس روپے زر ثمن کے عوض فصل پر جو بھاؤ ہوگا اس کے حساب سے غلہ لیا جائیگا تو بیع فاسد وحرام ہوجائے گی۔
لفساد الشرط وصفقتین فی صفقۃ والافتراق عن دین بدین فی ماشرط من معاوضۃ الثمن بالحب مع جھالۃ قدرالمبیع فی ھذہ المعاوضۃ
کیوں کہ اس میں فساد شرط،ایك سودے میں دو سودوں کا اجتماع اور جدا ہونا ہے دین سے دین کے بدلے میں اس چیز میں جو اس نے وقت خرمن پر معاوضہ ثمن کی شرط لگائی باوجودیکہ اس معاوضہ میں مبیع کی مقدار مجہول ہے(ت)
ہاں اگر فصل پر مشتری کہے میرے پاس روپیہ نہیں آج کے نرخ بازار سے کہ فریقین کو معلوم ہے ان روپوں کے بدلے غلہ لے لو تو جائز ہے کما نص علیہ العلماء و بیناہ فی فتاوٰنا(جیسا کہ اس پر علماء نے نص فرمائی ہے اور ہم نے اس کو اپنے فتاوٰی میں بیان کیا۔ت)
مسئلہ ۱۹۶: مرسلہ وحید الدین صاحب محلہ اردو بازار بھاگلپور سٹی
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندوستان دارالاسلام ہے یا دارالحرب اور دونوں کی تعریفیں کیا ہیں ،ہندوستان میں غیر اقوام سے سو د لینا جائز ہے یانہیں ؟ جو شخص سود لیتا ہے یاسود تمسکات کی تحریر کی اجرت سے اپنی اوقات گزاری کرتا ہو ایسے شخص کے یہاں کا کھانا جائز ہے یانہیں ؟ بینواتوجروا۔
الجواب:
ہندوستان دارالاسلام ہے دارالاسلام وہ ملك ہے کہ فی الحال اس میں اسلامی سلطنت ہو،یا اب نہیں تو پہلے تھی،اور غیر مسلم بادشاہ نے اس میں شعائر اسلام مثل جمعہ و عیدین و اذان و اقامت وجماعت باقی رکھے اور اگر شعائر کفر جاری کئے اور شعائر اسلام یك لخت اٹھادئے اور اس میں کوئی شخص امان اول پر باقی نہ رہا،اور وہ جگہ چاروں طرف سےدارالاسلام سے گھری ہوئی نہیں تو دارالحرب ہوجائے گا،جب تك یہ تینوں شرطیں جمع نہ ہوں کوئی دارالاسلام دارالحرب نہیں ہوسکتا۔سود لینا نہ مسلمان سے حلال ہے نہ کافر سے۔سود خور اور تمسك لکھنے والا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع