30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خالد پر ایك حبہ سود کا لینا حرام ہے،حدیث میں فرمایا:"جس نے دانستہ ایك درہم سودکا لیا اس نے گویا چھتیس۳۶ بار اپنی ماں سے زنا کیا"۔بکثرت احادیث صحیحہ میں ہےکہ سود تہتر گناہوں کا مجموعہ ہے ایسرھا مثل ان ینکح الرجل امہ [1] ان سب میں ہلکا یہ ہےکہ آدمی اپنی ماں سے زنا کرے۔صحیح حدیث میں ہے:
لعن رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اٰکل الربوٰ ومؤکلہ وکاتبہ و شاہدیہ وقال ھم سواء [2]۔
لعنت فرمائی رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے سود لینے والے اور کاغذلکھنے والے اور اس پر گواہیاں کرنےوالوں پر،اور فرمایا وہ سب برابر ہیں۔
اور یہ عذر کہ خیرات کرے گا یا عمرو مسرف ہے محض اغوائے شیطانی ہے،اسراف اگر وہ کرے تو گناہ اس پر ہوگا اس کا مال ضائع ہوگا دوسرے کو گناہ سے بچانے کےلئے خود اللہ و رسول سے لڑائی مول لینا اور رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی لعنت قبول کرنا عقل و دین سے کیا علاقہ رکھتا ہے اور خیرا ت کا عذر تو اور بھی بدتر ہے،خیرات کرنے کے لئے حرام مال لینا اس عورت کے مثل ہے جو تصدق کے لئے اجرت پر زنا کرائے کہ خیرات کرے گی۔ ردالمحتار میں ہے :
کمطعمۃ الایتام من کدفرجھا لك الویل لاتزنی ولا تتصدقی[3]۔
جیسے وہ عورت کہ اپنی فرج کی کمائی سے یتیموں کو کھانا دے،تیری خرابی ہو نہ زناکرنہ خیرات دے۔
بلکہ خالد کی سعادت یہ ہے کہ اس کے باپ نے جس قدر سود لیا ہے وہ بھی واپس دے اگر اللہ تعالٰی سے ڈرتا اور حدود شرع میں رہنا چاہتا ہے تو راہ یہ ہے اور ہدایت اللہ تعالٰی کے ہاتھ۔واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۴: از مقام بمبئی سیتارام بلڈنگ کوٹھی صاحب عبدا ﷲ علی رضا صاحب مسئولہ سرور خان ۱۳ محرم الحرام ۱۳۳۴ھ
مصدر فیض وحسنات مکرم و معظم بندہ اعلٰیحضرت مولانا قبلہ دام ظلکم،السلام علیکم !
برادر م محمد عبدالعزیز نےکلکتہ سے آنجناب سے جان کے بیمہ کی نسبت دریافت کیا تھا،آنجناب نے ناجائز کا فتوی دیا،مذکور فتوٰی کو انہوں نے میرے پاس بھیج دیا دیکھنے سے معلوم ہوا کہ سوال ان کا ناقص ہےدوبارہ بغرض تحقیق مسئلہ مذکورہ مفصلًا پیش ہوتا ہے،امیدو ارجواب باصواب ہوں۔ایك بیمہ کمپنی میں جس کے مالك و مختار سب کےسب نصرانی المذہب ہیں علاوہ دریا و آگ کے بیمہ کے،جان کا بیمہ بھی ہوتا ہے،صورتیں اس کی متفرق ہیں:
۱ پہلی صورت: میں تمام عمر ایك مقررہ فی بیمہ اتارنے والا کمپنی مذکورہ کو تمام عمر ہرسال دیتا رہے اور اس کے مرنے کے بعد اس کے وارثوں کو بیمہ کی رقم دی جاتی ہے مثلًا تیس سال کی عمر کے شخص نے ہزار روپیہ کی رقم کے لئے اپنا بیمہ اتارا تو سالانہ فیس اس کو اٹھائیس روپیہ دینا پڑے گا اور اس کے مرنے کے بعد کمپنی اس کے وارثوں کو پورا ایك ہزار دے دے گی مثلًا آج کسی شخص نے بیمہ کمپنی سے معاہدہ کیا اور پہلے سال کی فیس دی اس کے بعد دو مہینہ یا دو سال یا چار سال کے بعد مرگیا تو بیمہ کی پوری رقم ایك ہزار روپیہ اس کے وارثوں کو مل جائے گی۔
۲دوسری صورت: یہ ہےکہ معدودفی فقط چند سال تك ہر سال کمپنی مذکور کو دیتا رہا اور اس کے مرنے پر اس کے وارثوں کو بیمہ کی رقم پوری ایك ہزار روپیہ دی جائیگی،یہ پہلی صورت سے اچھی ہے،چند سال فی بھرنے کے بعد بھرنا نہیں ہوتاہے،مثلًا ایك شخص کی عمر تیس سال ہے اور ساٹھ سال کی عمر تك کمپنی کو سالانہ ساڑھے تیس روپیہ فیس دیتار ہے اور پھر نہ دے تو اس کے وارثوں کو بعد موت بیمہ کی رقم دی جائے گی،اگر بیمہ اتارنے والا قبل مدت کے مر گیا تو بیمے کی طرف سے اسکے وارثوں کو پوری رقم بیمہ کی ایك ہزار روپیہ دی جائے گی۔
۳تیسری صورت: کوئی شخص جو بیمہ اتارتا ہے وہ آئندہ اپنے بڑھاپے میں مثلًا پچیس سال یا ساٹھ سال یاباسٹھ سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد بیمہ کی ہوئی رقم خود وصول کرنا چاہتا ہے اس عمر تك بیمہ اتارنے والا زندہ رہا تو رقم مذکور اسی کو ملے گی ہر بڑھاپے عمر کی فیس جدا ہے مثلًا تیس سال کی عمر کا شخص ساٹھ سال
کی عمر کو پہنچنے کے بعد ایك ہزار چاہتا ہے تو سالانہ اس کی فیس ساڑھے چونتیس روپے ہے،اگر وہ زندہ رہا تو سالانہ اس کو فیس مذکورہ دینا ہوگا،اور اس کو ساٹھ سال کی عمر میں بیمہ کی رقم ایك ہزار ملے گی اس درمیان میں بیمہ اتارنے والا مرگیاتو پوری رقم بیمہ کی ایك ہزار وپیہ اس کے وارثوں کو مل جائے گی۔
۴چوتھی صورت: یہ صورت تیسری صورت سے ملتی جلتی ہے،فرق یہ ہے کہ اس صورت میں بیمہ اتارنے والے کو فقط بیس سال تك فیس دینی پڑتی ہے اس کے بعد پھر دینا نہیں پڑتا اس کی فیس تیسری صورت سے ذرا زیادہ ہے مثلًا تیس سال کی عمر کا شخص ساٹھ سال میں ایك ہزار روپیہ چاہتا ہے تو اس کو سالانہ بیالیس روپیہ دینا ہوگا بیس سال کے بعد پھر دینا نہ ہوگا،جب وہ ساٹھ سال کی عمر کو پہنچے گا تو کمپنی اس کو بیمہ کی رقم دے دیگی یعنی مبلغ ایك ہزار روپیہ،اس اثناء میں وہ مرگیا تو اس کے وارثوں کو پورا ایك ہزار روپیہ مل جائے گا۔کوئی شخص مذکورہ بالا صورتوں کا بیمہ لینے کے بعد چند سال بیمہ کی فیس دیتا رہا اس کے بعد دینا نہ چاہے یا دے نہ سکا اور کمپنی سے روپیہ جو بھرا ہے واپس چاہتا ہے تو فقط نصف رقم فیس ادا کردہ اس کو ملے گی،مثلًا دس سال تك دیتا رہا اندازًا جملہ چار سو ہوا زیادہ ہوا یا کم ہوا اب وہ کمپنی سے اپنا معاہدہ منسوخ کراکر جو روپیہ بھرا ہے واپس چاہتا ہے،تو فقط نصف رقم چار سو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع