30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اورسب سے سوال ہوگا،حکم نہیں مگر اللہ کو اسی کی حکومت ہے،اور تمہیں اسی کی طرف پھرنا،کسی مسلمان مرد یا عورت کویہ گنجائش نہیں کچھ کہ جب اللہ اور رسول کسی بات میں کچھ حکم کریں تو انھیں کچھ اپنا اختیار باقی رہے اور جو اللہ ورسول کے حکم پر نہ چلے بیشك وہ صریح گمراہی میں بھٹکا۔
اور خاص یہ کہ کافروں نے اعتراض کیا تھا" اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰواۘ "[1] (بے شك بیع سود کی مثل ہے۔ت)تم جو خرید وفروخت کو حلال اور سود کو حرام کرتے ہو ان میں کیا فرق ہے بیع میں بھی تو نفع لینا ہوتا ہے،اس کا جواب ارشاد فرمایا:
" وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰواؕ "[2]
اللہ نے حلال کی بیع اور حرام کیا سود۔
تم ہوتے ہو کون،بندے ہو سربندگی خم کرو،حکم سب کو دئے جاتے ہیں ،حکمتیں بتانے کے لئے سب نہیں ہوتے،آج دنیا بھر کے ممالك میں کسی کی مجال ہے کہ قانون ملکی کسی دفعہ پر حرف گیری کرے کہ یہ بیجا ہے یہ کیوں ہے،یوں نہ چاہئے،یوں ہونا چاہئے تھا،جب جھوٹی فانی مجازی سلطنتوں کے سامنے چون و چرا کی مجال نہیں ہوتی تو اس ملك الملوك بادشاہ حقیقی ازلی ابدی کے حضور کیوں،اور کس لئے کا دم بھرنا کیسی سخت نادانی ہے،والعیاذ باللہ تعالٰی۔سود لینا مطلقًا عمومًا قطعًا سخت کبیرہ ہے اور سود دینا اگر بضرورت شرعی و مجبوری ہوتو جائز ہے،درمختار میں ہے:
یجوز للمحتاج الاستقراض بالربٰو[3]۔
محتاج سود پر قرض لے سکتا ہے۔(ت)
ہاں بلا ضرورت جیسے بیٹی بیٹے کی شادی یا تجارت بڑھانا یا پکا مکان بنانے کے لئے سودی روپیہ لینا حرام ہے،سود خور کے یہاں کھانا نہ چاہئے مگر حرام و ناجائزنہیں،جب تك یہ معلوم نہ ہو کہ یہ چیز جو ہمارے سامنے کھانے کو آئی بعینہٖ سود ہے مثلًا ان گیہوں کی روٹی جو اس نے سود میں لئے تھے یا
سود کے روپے سے اس طرح خریدی گئی ہے کہ اس پر عقد و نقد جمع ہوگئے یعنی سود کا روپیہ دکھا کر اس کے عوض خریدی اور وہی روپیہ اسے دے دیا،جب تك یہ صورتیں تحقیق نہ ہوں وہ کھانا حرام ہے نہ ممنوع۔
فی الھندیۃ عن الذخیرۃ عن محمد بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہ [4]۔
فتاوٰی ہندیہ میں بحوالہ ذخیرہ امام محمد سے منقول ہے کہ ہم اسی(قول جواز)کو لیتے ہیں جب تك بعینہٖ کسی شے کا حرام ہونا معلوم نہ ہوجائے(ت)
تو نہ خلق پر تنگی ہے نہ علماء پر اعتراض،ہاں تجارت حرام کے دردوازے آج کل بکثرت کھلے ہیں ان کی بندش کو اگر تنگی سمجھا جائے تو مجبوری ہے وہ تو بیشك شرع مطہر نے ہمیشہ کیلئے بندکئے ہیں جو آج بے قیدی چاہے کل نہایت سخت شدید قید میں گرفتار ہوگا اور جو آج احکام کا مقید رہے کل بڑے چین کی آزادی پائے گا۔دنیا مسلمان کےلئے قید خانہ ہے اور کافر کےلئے جنت۔ مسلمانوں سے کس نے کہا کہ کافروں کی اموال کی وسعت اور طریق تحصیل آزادی اور کثرت کی طرف نگاہ پھاڑ کر دیکھے،اے مسکین !تجھے تو کل کا دن سنوارنا ہے،
" یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوْنَۙ(۸۸) اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍؕ(۸۹) "[5]۔
جس دن نہ مال نفع دے گا نہ اولاد،مگر جو اللہ کے حضور سلامت والے دل کے ساتھ حاضر ہوا۔
اے مسکین ! تیرے رب نے پہلے ہی تجھے فرمادیا ہے:
ولاتمدن عینیك الٰی مامتعنا بہ ازواجا منھم زھرۃ الحٰیوۃ الدنیا لنفتنھم فیہ ورزق ربك خیر وابقی[6]۔
اپنی آنکھ اٹھا کر نہ دیکھ اس دنیوی زندگی کی آرائش کی طرف جو ہم نے کافروں کے کچھ مردوں و عورتوں کے برتنے کو دی تاکہ وہ اس کے فتنہ میں پڑ ے رہیں اور ہماری یاد سے غافل ہوں اور تیرے رب کا رزق بہتر ہے اور باقی رہنے والا۔
چندہ کا جواب اوپر آگیا کہ اگر ہم کو تحقیق سے معلوم ہو کہ یہ روپیہ جو دے رہا ہے بعینہ سود کا ہے تو لینا حرام ورنہ جائز۔ربا اس صور ت میں متحقق ہوتا ہےکہ عقد میں مشروط ہو اگرچہ شرط نصًا نہ ہو یا عرفًا ہو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع