دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

(۱)رافضی بوہرے کافر ہیں یا مرتد؟ بہر دو صورت اگر مسلمان ان کے ساتھ یا ہندو کافر کے ساتھ اس طرح کا معاملہ کرے مثلًا ہزار یا پانچ سو روپیہ تجارت کےلئے رافضی کو دے اس شر ط پر کہ گڑ اور شکر میں نقصان کی صورت نہیں ہوا کرتی ہے الا شاذ ونادر تو میں تجھ سے ڈیڑھ یا دو روپیہ فیصد ماہوار کے حساب سے نفع نقصان کا اوسط نکال کرتیری دکان سے خواہ نقد یا سامان خوردنی لیتا رہوں گا،اور یہ مضمون بطور شرط کاغذ پر لکھواکر اور عرصہ تك اسی طرح باہمی معاملہ آپس میں جاری رہے اور رأ س المال محفوظ سمجھ کر بعوض نفع حسب قرار داد و شرط باہمی اشیائے خوردنی و پوشیدنی لیتا رہے اور مابقی نفع کا حساب کرکے نقد لے تو جائز ہے یاناجائز ؟ اور ناجائز ہوگا تو سود ہوگا یا کیا؟

(۲)اسی طرح کافر کو اگر مال دو مہینہ کا وعدہ پر قرض فروخت کرے اور اس کے ہاتھ سے اپنے بھی کھاتے میں لکھوالے کہ دو مہینہ میں روپیہ نہ ادا کروں تو بوقت ادائے روپیہ فی صد(۸/ یا عہ /)ماہوار اس مال کے نفع کا زائد ادا کروں گا،یہ جائز ہے یا ناجائز ؟بینوابسند الکتاب وتوجرواعند اللہ یوم الحساب(کتاب کے حوالہ سے بیان کرو اللہ تعالٰی کی طرف سے یوم حساب کو اجر دئے جاؤ گے۔ت)

الجواب:

بوہرے رافضی مرتد ہیں اور ہر مرتدکافر ہے بلکہ کافروں کی بدتر قسم،یہاں کے ہندو وغیرہ جتنے کفار ہیں ان میں نہ کوئی ذمی ہے کہ سلطنت اسلام میں مطیع الاسلام وجزیہ گزار ہوکر رہے،نہ مستامن ہیں کہ بادشاہ اسلام سے کچھ دنوں کےلئے امان لے کر دارالاسلام میں آئے،اور جو کافرنہ ذمی ہو نہ مستامن سواغدر و بدعہدی کے کہ مطلقًا ہر کافر سے بھی حرام ہے باقی اس کی رضاسے اس کا مال جس طرح ملے جس عقد کے

 

نام سے ہو مسلمان کے لئے حلال ہے،وقد فصلناہ فی فتوٰنا بمالامزید علیہ(ہم اس کو اپنے فتاوٰی میں تفصیل سے بیان کرچکے ہیں جس پر مزید اضافہ کی گنجائش نہیں۔ت)ہدایہ وفتح القدیر وغیرہما میں ہے:

ان مالھم مباح فی دارھم فبای طریق اخذہ المسلم اخذما لامباحا اذالم یکن فیہ غدر[1]۔

کفار کا مال دارالحرب میں مباح ہے لہٰذا ان کا سوائے دھوکا کے جس طریقے سے بھی مسلمان نے لیا اس نے مال مباح لیا(ت)

دوسری صورت بھی جائز ہے جس کا جواز جواب اول سے واضح ہے البتہ ان سب صورتوں میں یہ لحاظ رہے کہ ذی عزت متقی آدمی جسے جاہل عوام اپنی نافہمی کے سبب ایسی صورتوں میں معاذ اللہ سود خور مشہور کریں اسے احتراز مناسب ہے کہ جیسے برے کام سے بچنا ہے یونہی برے نام سے بچنا چاہئے۔واللہ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۱۸۵ تا ۱۸۶: ازاودے پور میواڑ بڑا بازار مسئولہ چھیپا بخشاجی محمود ۸/رمضان ۱۳۳۹ھ

بعالی خدمت فیضد رجت،غوث دوران،قطب زمان،مجدد ہذاالاوان،حضرت مولٰنا الحاج مولوی مفتی احمد رضاخان صاحب مدظلہ العالی! ماقولکم ایھا العلماء الکرام رحمکم اللہ تعالٰی(اے علماء کرام،اللہ آ پر رحم فرمائے،آپ کیا فرماتے ہیں۔ت)

(۱)کفار ہنود کو ہزار دو ہزار یا کم زیادہ کا دو مہینہ کے وعدہ پر قرض کپڑا فروخت کیا،کپڑا دیتے وقت اس سے یہ ظاہر کردیا گیا کہ اگر دو مہینہ کے وعدہ پر روپیہ نہ ادا کیا تو میں تجھ سے فی صد ایك روپیہ نفع زیادہ لوں گا یا یوں کہہ دیا جائے کہ مثلًا دو مہینے کے وعدہ پراس کپڑے کی قیمت سوروپے اور اگر اس وعدہ پر نہ آئے تو ایك سوایك روپے ہوں گے یہ اسلئے کہ کفار مسلمانوں کے روپوں کا وعدہ پر ادا کرنے کی فکر نہیں رکھتے،جائز ہوگا ناجائز؟

(۲)نوٹ سو سو روپیہ کے مثلًا یا بارہ آنہ زیادتی پر یعنی ایك سو ایك یا ایك سو بارہ آنے پر ایك مہینہ کے بعد واپس روپیہ لینا کرکے دئے گئے،وہ نوٹ تو اس کے کام میں آگئے مگر مہینہ ہونے پر وہ بدلے میں روپیہ نہ دے اور نوٹ دے تو لینا جائز ہے یا روپیہ ہی لیا جائے؟بینواتوجروا۔

 

الجواب:

(۱)یہاں کے کفار سے ایسی شرط جائز ہے لانھم غیر اھل ذمۃ ولامستامن(کیونکہ نہ تو وہ ذمی ہیں نہ مستامن۔ت)مگر یہ زیادت جو ملے اسے سود سمجھ کر نہ لے بلکہ مال مباح۔واللہ تعالٰی اعلم۔

(۲)یہاں کے کفار سے جس طور ہو جائز ہے،

لان مالھم مباح فی دارھم فبای طریق اخذہ المسلم اخذما لامباحا اذالم یکن فیہ غدر کما فی الھدایۃ [2]وغیرہا۔

اس لئے کہ کفا رکا مال دارالحرب میں مباح ہے لہٰذا جس طریقے سے بھی مسلمان نے اس کو لیا تو اس نے مباح مال لیا بشرطیکہ دھوکا بازی نہ ہو،جیسا کہ ہدایہ وغیرہ میں ہے(ت)

اور مسلمان کو اگر سو روپیہ کانوٹ قرض دیا اور شرط کرلی کہ مہینہ بھر بعد بارہ آنے یا ایك پیسہ زائد لوں گا تو حرام اور سود ہے،

لان کل قرض جرمنفعۃ فھو ربٰو[3]۔

 



[1]                                 الہدایۃ کتاب البیوع باب الربوٰ مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۸۷

[2]                                 الہدایۃ کتاب البیوع باب الربٰو مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۸۷

[3]                                 کنز العمال حدیث ۱۵۵۱۶ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۶/ ۲۳۸

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن