دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

الجواب :

اسامیان مسلمان ہیں تو یہ عمل قطعًا حرام ہے اور جبکہ زمیندار کو اس پر اطلاع ہے تو اسے سکوت حرام ہے ازالہ منکر فرض ہے خصوصًا جب اپنے نفع کےلئے خاموش ہو تو یوں راضی ہے اور رضا بالکبیرہ خود ہی کبیرہ ہے بلکہ کبھی اس سے بھی سخت تر،اور اگر اسامیان یہاں کے مشرکین ہیں کہ ذمی نہیں ،نہ سلطنت اسلام سے مستامن،تو زمیندار خواہ ان سے یہ قاعدہ جاری کرے کہ جس پر بقایا ٹوٹے گی،اس پر ہر مہینہ اتنا حرجہ لیا جائیگا وتحقیق الکلام فی فتاوٰنا(تحقیق کلام ہمارے فتاوٰی میں ہے۔ ت) اسے بھی سود سمجھ کر لینا جائز نہیں لقولہ تعالٰی " وَحَرَّمَ الرِّبٰواؕ "[1](اللہ تعالٰی کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ:اللہ تعالٰی نے سود کو حرام کیا۔ت)بلکہ ان کی ایذارسانی کے معاوضہ میں ایك مال مباح سمجھ کرلے۔واللہ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۱۸۰: مسئولہ ولایت حسین صاحب جامع مسجد بریلی ۷/جمادی الاخری ۱۳۳۴ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین وحامیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کی زوجہ نے انتقال کیا زید بعد فراغت خرچ تجہیز و تکفین کے،خرچ فاتحہ و سویم نہیں رکھتا ہے یا زید اپنی لڑکی کی شادی کرنا فرض سمجھتا ہے اور فرض ہے مگر اتنا خرچ نہیں ہے کہ فرض ادا کرے تو مجبور ہوکر زید نے اپنے دوست عمرو سے اس معاملہ کاتذکرہ کیا،عمرو نے کچھ زیور زید کو دیا اور یہ کہا کہ اس کو رہن کرکے تم اس فرض یا فاتحہ وغیرہ سے فارغ ہوجاؤ،زید زیور لے کر برائے رہن چلااور عمرو وہیں رہا،ایك دوست راستہ میں جو خالد تھا زید نے اس سے تمام معاملہ کی کیفیت بیان کی خالد سن کر خاموش ہورہا،زید نے خالد سے کہا کہ جلد چلو اور یہ زیور رہن کرکے روپیہ لائیں،خالد زید کے ہمراہ چلا،زید کو ایك شخص اور ملا جس کا نام محمود ہے اور وہ اس معاملہ سے واقفیت رکھتا ہے اور محمود کو یہ نہیں معلوم کہ خالد اور زید کہاں جارہے ہیں ،محمود بھی ہمراہ ہولیا،یہ تینوں شخص دکان مرتہن پر پہنچے اور زید نے وہ زیور رہن کرکے بشرح سود روپیہ لے کر واپس ہمراہ آئے اور اس روپیہ سے کاربرآری کی،کرسکتے تھے یا نہیں ؟ میت کو ثواب پہنچا یانہیں ؟ یا اس لڑکی کی شادی میں کوئی نقص ہوایانہیں ؟ اور ان چار اشخاص میں کون کون مرتکب عذاب کا ہوا؟

 

الجواب:

فاتحہ سوم یا لڑکی کی شادی کے لئے سودی قرض لینا حرام ہے،زید ضرور مرتکب گناہ کبیرہ و مستحق عذاب ہوا،یونہی عمرو بھی جس نے اس حرام کے لئے زیور دیا،یونہی خالد بھی جسے اس نے رہن رکھنے کے لئے کہہ کر اپنے ساتھ لیا،رہا محمود جبکہ اسے معلوم نہ تھا کہ یہ کہاں جارہے ہیں ساتھ جانے میں اس پر گناہ نہ ہوا مگر وہاں جاکر معلوم ہونے پر اگر اس نے کسی طرح اس میں مدددی یا تائید کی تو وہ بھی ویسا ہی مرتکب گناہ ہوا مگر اصل نکاح میں اس سے خلل نہیں آتا اور مال حرام لے کر فاتحہ کا ثواب پہنچنا مشکل ہے،واللہ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۱۸۱ تا۱۸۲: ازجلالپور دھئی ڈاکخانہ خاص ضلع رائے بریلی مرسلہ منشی علی حسین خان پوسٹ ماسٹر ۲۸صفر ۱۳۳۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:

(۱)تبادلہ گیہوں یا دھان یا جو یا چنا وغیرہ شکر قند یا آلو یا میوہ سے زیادتی یا کمی کے ساتھ جائز ہے یاناجائز ؟ رواج اعتبار ہند شکر قند وآلو ومیوہ من حیث قدر وزنی ہے،اعتبار عند الفقہاء کیا ہے،گیہوں وغیرہ باعتبار فقہاء من حیث قدر کیلی ہے تغایر جنس ظاہر ہے تغایر قدر میں نہیں معلوم کیا ہے؟

(۲)گیہوں کو گیہوں سے یا جو سے یا جو کو جو سے اور گیہوں سے مساوی یا کم زائد بدلنا اس طرح پر کہ خریف میں دے دے اور ربیع میں وصول کرے،کیسا ہے ؟

الجواب:

(۱)گیہوں جو،چنے سے آلو شکر قند،میووں کی خرید و فروخت کم بیش کو بلا شبہہ جائز ہے کہ جنس مختلف ہے اور گیہوں اور جو سے قدر بھی یقینا مختلف،اور جو میوے مثلًا آم یا شکر قند جہاں عددی ہوں وہاں چنے سے بھی،اور قدر مختلف نہ بھی ہو تو فقط اختلاف جنس کمی بیشی کو مباح کر تا ہے،

قال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اذا اختلف النوعان فبیعوا کیف شئتم [2]۔واللہ تعالٰی اعلم۔ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا:جب "بدلین"دو مختلف نوعوں کے ہوں تو جیسے چاہے فروخت کرو۔واللہ تعالٰی اعلم۔(ت)

 

 

 (۲)گیہوں کی گیہوں یا جو کی جو سے تبدیل کمی بیشی کے ساتھ ہو تو حرام،اور ایك طرف سے نقد اور دوسری طرف سے ادھار ہو تو حرام،اور گیہوں کی جو سے تبدیل نقدوں کمی سے حلال اور ادھار مطلقًا حرام،

فان احدی العلتین من القدر والجنس تحرم النسئۃ واجتماعھما والتفاضل۔واللہ تعالٰی اعلم۔

کیونکہ دو علتوں یعنی قدر و جنس میں سے ایك علت کا وجود ادھار کو اور دونوں کا پایاجانا زیادتی کو حرام کرتا ہے۔واللہ تعالٰی اعلم۔(ت)

مسئلہ ۱۸۳تا۱۸۴: از او دے پورمیواڑ راجپوتانہ مسئولہ قاضی یعقوب محمد سب انسپکٹر پولیس ۸/ شوال ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے کرام رحمہم اللہ مسائل ذیل میں کہ:

 



[1]                       القرآن الکریم ۲/ ۲۷۵

[2]                                نصب الرایۃ لاحادیث الہدایہ کتاب البیوع مکتبہ اسلامیہ ریاض ۴ /۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن