دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

اور یہ لعنت کا دوسرا حصہ ملے گا اور عوام کے فعل سے سندلانا اور حکم الٰہی کے مقابل اسے سنانا محض جہالت و ضلالت ہے ہاں اگر محض مجبوری شرعی کےلئےسودی روپیہ بقدر ضرورت قرض لے تو وہ اس سے مستثنٰی ہے کہ مواضع ضرورت شرع نے خود استثنا فرمادئے ہیں،

قال اللہ تعالٰی " فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ"[1]،وقال تعالٰی " لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاؕ- "[2]۔

اللہ نے فرمایا:اور ڈرو اللہ تعالٰی سے جس قدر تم استطاعت رکھتے ہو۔اور اللہ تعالٰی نے فرمایا:اللہ تعالٰی کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ کا مکلف نہیں بناتا۔(ت)

درمختار میں ہے:

یجوز للمحتاج الاستقراض بالربح[3]۔ محتاج کےلئے سودی قرض لینا جائز ہے۔(ت)

مگر اس کو سند بنا کر سود خوروں کی اعانت اور سودی کمپنی کی رکنیت نہ حرام ہونے سے بچ سکتی ہے نہ لعنت الٰہی سے بچا سکتی ہے لہٰذا امام مذکور کی نسبت حکم وہی ہے جو اوپر گزرا۔واللہ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۱۷۷:ازقصبہ بیلپور محلہ درگاہ پر شاد از مکان فخر الدین صاحب رئیس وممبر چنگی مرسلہ حافظ شمس الدین ۲۳/ ذی الحجہ ۱۳۳۱ھ

سود لینا کسی قوم سے مسلمان کو جائز ہے یانہیں ؟ اور سود کس کس قسم سے ہوتا ہے ؟ مشرح بیان فرمایاجائے،کسی بنك میں روپیہ جمع کرکے ان سے سود وصول کرنا موجب اس کی شرح کے جائز ہے یانہیں،یا کسی انجمن کا روپیہ ڈاکخانہ میں جمع کرکے ان سے سود لے سکتا ہے یانہیں،یا کوئی تجارت اس طرح کی کرے کہ جو اس قدر روپیہ جمع کرے اس کو اتنے سیکڑہ کا سود دینگے نقصان کا وہ شریك نہیں اور اس کو نقصان سے کچھ مطلب نہیں اور روپیہ جمع کرنے والا سود جان کر نہ لے اور نقصان بھی نہ دےت تو وہ حلال ہے یاحرام یا کسی دکاندارکو کچھ روپیہ بموجب نفع کے دے نقصان کا شریك نہ ہوں وہ نفع حلال ہے یانہیں ؟

الجواب:

سو د لینا مطلقًا حرام ہے مسلمان سے ہو یا کافر سے،بنك سے ہویا تاجر سے جتنی صورتیں سوال میں بیان کیں سب ناجائز ہیں قرض دے کر اس پر کچھ نفع بڑھالینا سود ہے یا ایك چیز کو اس کی جنس کے بدلے ادھار بیچنا یا دو چیزیں کہ دونوں تول سے بکتی ہوں یا دونوں ناپ سے،ان میں ایك کو دوسرے سے

 

ادھار بدلنا یا ناپ خواہ تول کے چیز کو اس کی جنس سے کمی بیشی کے ساتھ بیچنا مثلًا سیر بھر کھرے گیہوں سواسیر ناقص گیہوں کے عوض بیچنا یہ صورتیں سود کی ہیں اور جو شرعًاسود ہے،اس میں یہ نیت کرلینا کہ سود نہیں لیتا ہوں کچھ اور لیتا ہوں محض جہالت ہے،ہاں وہاں یہ نیت کام دے سکتی ہے جو واقع میں سود نہ ہو اگرچہ دینے والا اسے سود ہی سمجھ کردے مثلًا یہاں کسی کافر کے پاس اس کی دکان یاکوٹھی یا بنك میں بشرطیکہ اس میں کوئی مسلمان شریك نہ ہو روپیہ جمع کردیا اور ا س پر جو نفع کافر نے اپنے دستو ر کے موافق دیا اسے اپنے روپیہ کا نفع اور سود خیال کرکے نہ لیا بلکہ یہ سمجھ کر لیا کہ ایك مال مباح برضائے مالك ملتا ہے تو اسمیں حرج نہیں ،واللہ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۱۷۸:ولو اشتری مکیلا کیلا حرم بیعہ واکلہ حتی یکیلہ(اگر کسی نے کیلی شے کیل کے طور پر خریدی تو جب تك کیل نہ کرے اس کی بیع اور اس کا کھانا حرام ہے۔ت)اس سے سمجھ میں یہ آتا ہے جو چیز مکیل خریدی جائے پھر گھر میں اگر اسے ناپ لے پھر صرف کرے اس بنا پر دودھ خرید کر پھر اپنے گھر میں اس کو ناپ کرلینا چاہئے یانہیں ؟

الجواب:

یہ اس صورت میں ہے کہ چیز تول یا ناپ سے خریدی اور بائع نے اس کے یا اس کے وکیل کے سامنے نہ تولی تو اسے تولنا لازم ہے اس کا تصرف ناجائز ہے اور اگر اس کے یا اس کے وکیل کے سامنے تولی تو دوبارہ تولنے کی حاجت نہیں ۔واللہ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ۱۷۹: مسئولہ مولوی حشمت علی صاحب مدرس مدرسہ اہل سنت بریلی ۲۷جمادی الآخر ۱۳۳۳ھ

حضور ! ایك مسلمان زمیندار کے روپے سے اگر کوئی ہندو مثلًا پٹواری یا کٹوار یا تہنیت اسامیوں سے سود لے کر اپنے صرف میں کرے مگر زمیندار نہ اس سے اس پر کچھ کہے اور نہ خود اس میں سے کوئی پیسہ لے اور یہ لوگ زمیندار کے روپے سے اسامیوں سے یہ کہہ کر سود لیں کہ اگر تم زمیندار کا روپیہ بر فصل ادا نہ کیا کروگے تو تم سے اس کا سود لیا جائے گا،تو اس صورت میں زمیندار شرعًا کسی گناہ کا مستحق ہوگا یانہیں،اور زمیندار کو اس حالت میں اپنے ملازم ہنود کو منع کرنا لازم ہوگا یانہیں کہ اس زمیندار کا بھی اتنا نفع ہے کہ اس کا روپیہ ہر فصل پر وصول ہوجاتا ہے اور کوئی دقت اسے پیش نہیں آتی،سود کے خوف سے اسامی فورًا روپیہ وصول کردیتے ہیں ورنہ کئی کئی سال تك بقایا نہیں وصول کرتے حالانکہ ان کے پاس روپیہ ہوتا ہے مگر بعض سرکش زمیندار کے دق کرنے کو نہیں دیتے اور جب وہ نالش کرتا ہے تو فورًا کچہری میں روپیہ اسی روز داخل کردیتے ہیں اور زمیندار کا نقصان کرواتے ہیں ،ان پریشانیوں سے بچنے کی کوئی

 

صورت حضور عطا فرمائیں ورنہ ان سے بچنے کے واسطے اکثر مسلمان ظاہر ظہور میں مرتکب حرام ہوتے ہیں۔

 



[1]            القرآن الکریم ۶۴ /۱۶

[2]                        القرآن الکریم ۲/ ۲۸۶

[3]                      الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الخامسۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱ /۱۲۶

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن