30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۱۶۶: ازسید پور ڈاکخانہ وزیر گنج ضلع بدایوں مرسلہ آغا علی خاں صاحب مورخہ ۱۶ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ
اگر ساہو کار اپنے مسلمان روز گاری سے سود نہ لے بلکہ کچھ اضافہ لفظ سود سے بدلنے اور مسلمان کو اس سے محفوظ کرنے کی غرض سے آڑھت پر کرلے تو مسلمان اس مسئلہ سود سے بچ سکتا ہے یانہیں ؟
الجواب:
سود کا لفظ فقط حرام نہیں بلکہ سود کی حقیقت حرام ہے اسے اضافہ کے لفظ سے تعبیر کرنانہ اسے سود ہونے سے بچالے گا،نہ حرمت میں فرق آئے گا۔واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۶۷تا۱۷۰: عبدالحکیم خان دکاندار محلہ کٹکور ریاست رامپور
(۱)زید نے بکر کے ہاتھ ۲۴روپیہ کی اشرفی فروخت کی ۱۲ روپیہ تو بکر نے اسی وقت دے دئے ۱۲ کا وعدہ کیا چنانچہ دوچار روز کے بعد وہ بھی دے دئے۔
(۲)زید نے بکر سے ایك روپیہ کے دام مانگےاور روپیہ دیا بکر نے آٹھ آنے پیسے اسی وقت دے دئے اور دو یوم کے بعد دو چونیاں دے دیں۔
(۳)زید نے بکر سے ایك روپیہ دے کر پیسے مانگے،بکر نے ایك اٹھنی اس وقت دے دی باقی کے بابت دو یوم کا وعدہ کیا چنانچہ تین یوم کے بعد ۸/ کے پیسے دے دئے۔
(۴)زید نے ایك آنہ کا سودابکر سے لیا،بکر نے کہا کہ اسوقت باقی روپیہ کے پیسے نہیں ہیں پھر لے لینا،بکر کو زید نے روپیہ دے دیا اور دو روز کے بعد باقی کے پیسے لے لئے،ان سب صورتوں میں کوئی صورت ربا کی ہے یانہیں ہے؟
الجواب:
(۱)یہ حرام ہے کہ سونے چاندی کے مبادلہ میں دست بدست ہونا شرط ہے۔
(۲)اگر زید نے روپے کے پیسے مانگے اور روپیہ دے دیا اس نے آٹھ آنے پیسے اب دے دئے اور باقی پیسوں کے بدلے دو دن کے بعد چونیاں اٹھنی دی تو جائز ہے کہ روپے اور پیسوں کے مبادلہ میں ایك طرف سے قبضہ کافی ہے کما حققناہ فی کفل الفقیہ الفاھم(جیسا کہ ہم نے کفل الفقیہ الفاھم میں اس کی تحقیق کی ہے۔ت)اور اگر زید ہی نے روپے کے ۸/ پیسے اور دو چونیاں مانگیں جو اس نے دوسرے وقت دیں یہ حرام ہے لاشتراط الصرف یدابید(کیونکہ بیع صرف میں ہاتھوں ہاتھ لینا شرط ہے۔ت)
(۳)یہ صورت جائز ہے کہ پیسوں میں ایك طرف کاقبضہ ہوگیا اور اٹھنی میں دونوں طرف کا۔
(۴)یہ بھی بدلیل مذکور جائز ہے جبکہ باقی کے پیسے لینے ٹھہرے جیساکہ سوال میں ہے۔
مسئلہ ۱۷۱: ازصید پور ضلع رنگپور بنگال مرسلہ محمود خان صاحب پسنجر سپرنٹنڈنٹ ۹جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ
فدوی ریلوے میں بعہدہ پسنجر سپرنٹنڈنٹ ملازم ہے اور ہر ماہ مشاہرہ سے کچھ روپیہ ریلوے کاٹ لیتی ہے اور وہ روپیہ بعد ترك ملازمت مع کچھ سود کے دیا جاتا ہے جو ریلوے کا سرکلر ہے لہٰذا یہ روپیہ اپنے صرف میں یاکسی کارخیر میں لاسکتا ہے یانہیں ؟ مدرسہ دیوبند سے لاعلمی سے میں نے دریافت کیا تھا وہاں سے جائز قرار دیا گیا ہے بعدمیں معلوم ہوا کہ وہاں کا فتوٰی ہم لوگوں کے
واسطے قابل وثوق نہیں ہے لہٰذا حضور کی خدمت میں التماس ہے کہ جواب سے سرفراز فرمایا جاؤں۔
الجواب:
اللہ عزوجل نے سود کو حرام فرمایا اور اس میں کوئی تخصیص مسلم وکافر کی نہیں رکھی،مطلق ارشاد ہوا ہے " وَحَرَّمَ الرِّبٰواؕ "[1] (اور اللہ تعالی نے سود کوحرام کردیا۔ت) تو اسے سود قرار دے کرلینا جائز نہیں ا ور اگر کسی کمپنی میں کوئی مسلمان بھی حصہ دار ہو تو مطلقًا اس زیادہ روپیہ کا لینا حرام ہے اور اگر کوئی مسلمان حصہ دار نہیں تو سود کی نیت کرنا ناجائز ہے بلکہ یوں سمجھے کہ ایك مال مباح بلا غدر مالکوں کی خوشی سے ملتا ہے یوں اس کے لینے میں فی نفسہ کوئی حرج نہیں اوراسے چاہے اپنے صرف میں لائے چاہے کارخیر میں لگائے کما حققناہ فی فتاوٰنا(جیساکہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس کی تحقیق کی ہے۔ت)واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۲: سائل حافظ محمد نور الحق مجلہ پنجا بیاں پیلی بھیت ۲۵صفر ۱۳۳۱ھ
مخدومی و مکرمی جناب مولانا احمد رضاخان صاحب دام مجدہ بعد سلام مسنون التماس یہ ہے کہ ایك شخص مسمی وزیر نے انتقال کیا منجملہ اور وارثوں کے دو لڑکیاں نابالغ اس نے چھوڑیں ،اس کے مال میں چار سو روپیہ نقد ان لڑکیوں کے حصہ میں ملا وہ کل روپیہ ایك شخص دیگر نے امانتًا ا س سے اس وعدہ پر لیاکہ ہم تم کو پانچ روپیہ ماہوار اس روپیہ کا منا فع دیتے رہیں گے،اور اس روپیہ کے اطمینان کی غرض سے اس شخص روپیہ لینے والے نے اپنا مکان اس روپیہ کے بالعوض رہن کردیا اور اس کا رہن نامہ لکھا گیا مگر رہن نامے میں مضمون یہ ہے کہ مبلغ چار سو روپے معرفت مسماۃ بنے بیگم ہمارے پاس امانتًا یا فتنہ ہر دو نابالغہ کے جمع ہوئے ہیں جو تابلوغ ہر دو نابالغہ کے ہمارے پاس جمع رہیں گے چونکہ زر امانت کی کوئی تحریر باضابطہ بغرض اطمینان کے منجانب ہمارے کہ مسماۃ کے پاس نہیں ہیں ،لہٰذا ہم بموجب تحریر ہذا کے اقرار کرتے ہیں کہ زر مذکورہ تابلوغ ہر دو مذکور نابالغان کے جمع رہیں گے اور اس کا سود
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع