دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

(۱)کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید وبکر دو شخصوں نے اپنالعہ/ کا مملوکہ مال واسباب اتنے ہی حصص میں تقسیم کیا جس قدر کی مالیت کا وہ کل مال تھا ور فروخت کا یہ طریقہ رکھا کہ ہر شخص جو اس کی خریداری کے واسطے حصہ دار ہوچکا اس کو ایك چٹھی دے دی گئی او سب چٹھیاں جمع ہوجانے پر بروئے قرعہ اندازی سب سے اول چٹھی لکھنے والے کو عہ/ کا مال ایك روپیہ کے چٹھی پر ملا اور دوسرے شخص کو دس کا اور تیسرے کو صہ / روپیہ اور چوتھے شخص کودو روپیہ کا اور باقی ۶۶چٹھی والے خریداروں کو آخر نمبر تك ۸/ کا مال فی ٹکٹ دیا گیا آیا یہ طریقہ بیع

 

موافق احکام شریعت ہے یانہیں ؟

(۲)ڈاك خانہ سرکاری کے سیونگ بنك میں یا دوسرے انگریزی تجارتی بنکوں میں زید نے کچھ روپیہ داخل کیا جس پر بہ شرح معینہ اس کو گورنمنٹ نے یا تاجر انگریز نے منافع ادا کیا تو جمع کرنے والا شخص مطابق احکام شریعت اس منافع کو لینے کا مستحق ہے یانہیں ؟

الجواب:

(۱)یہ صورت قطعی حرام ہے اور نرا قمار اور بائع و مشتری سب کے لئے استقاق عذاب نار۔واللہ تعالٰی اعلم

(۲)سود مطلقًا حرام ہے قال اللہ تعالٰی" وَحَرَّمَ الرِّبٰواؕ "[1] (اللہ تعالٰی نے فرمایا:اللہ تعالٰی نے سود کو حرام کیا۔ت) مگر جس کے یہاں روپیہ جمع کیا اگر اس پر کوئی مطالبہ شرعًا آتا تھا اور وہ اور طور پر نہ مل سکتا تھا اس نام سے وصول ہوجائیگا تو اپنے اس حق کی نیت سے قدر حق تك لے لینے کا استحقاق ہے اور اگر کچھ نہ آتا تھا مگر کوئی مال مباح بلا غدر و بلا ارتکاب جرم برضا مندی ہاتھ آتا ہو تو بہ نیت مباح اسے لے لینے والے کو مباح ہے اگرچہ دینے والا کسی نام سے تعبیر کرے اس مسئلہ کی تحقیق کامل بھی فتاوٰی فقیر میں ہے واللہ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۱۶۰: از بریلی محلہ کنگھی ٹولہ مرسلہ محمد رضاعلی ۵ذی الحجہ ۱۳۲۲ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے عمرو کو روپیہ اس شرط پر دیا کہ چار ماہ کے بعد تم سے روپیہ مذکور کے پچیس ما/ گندم لیں گے،یہ جائز ہے یانہیں ؟بینواتوجروا۔

الجواب:

اگر روپیہ قرض دیا اور یہ شرط کرلی کہ چار مہینے کے بعد ایك روپے کے پچیس(ما/)گیہوں لیں گے اور نرخ بازار پچیس سیر سے بہت کم ہے تو یہ محض سود اور سخت حرام ہے حدیث میں ہے:

کل قرض جرمنفعۃ فھو ربٰو[2]۔

جو قرض نفع کو کھینچے وہ سود ہے۔(ت)

اور اگر گیہوں خریدے اور قیمت پیشگی دی ہے تو بیع سلم ہے اگر سب شرائط بیع سلم کے

 

ادا کرلی ہیں تو جائز ہے اگرچہ روپے کے دس من گیہوں ٹھہر جائیں ورنہ حرام ہے۔واللہ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۱۶۱: مرسلہ احمد شاہ خاں از موضع نگریا سادات

زید نے کچھ روپے قرض واسطے تجارت کے عمرو کو دئے اور آپس میں یہ ٹھہرالیا کہ علاوہ قرض کے روپوں کے جس قدر منافع تجارت میں ہو اس میں سے نصف ہمارا اور نصف تمہارا،تو یہ سود ہوا یا نہیں ؟ بینواتوجروا۔

الجواب:

یہ سود اور حرام قطعی ہے،ہاں اگر روپیہ اسے قرض نہ دے بلکہ تجارت کےلئے دے کہ روپیہ میرا اور محنت تیری اور منافع نصفا نصف،تو یہ جائز ہے۔واللہ تعالٰی اعلم

مسئلہ۱۶۲: از پٹیالہ مارواڑ محمد عبدالرحمٰن سوداگر چرم ۲۱/ ذی القعدہ ۱۳۲۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آیا سر زمین ہندوستان میں بحالت موجودہ مسلمانوں کو اپنی دینی اور قومی حالت سنوار نے کی غرض سے سود کالین دین غیر مسلم سے شرعًا جائز ہے یانہیں ؟

الجواب:

سود لینا دینا مطلقًا حرام ہیں،قال اللہ تعالٰی " وَ حَرَّمَ الرِّبٰواؕ-"[3] (اللہ تعالٰی نے فرمایا:اور اللہ تعالٰی نے سود کوحرام کیا۔ت)

حدیث صحیح میں ہے:

 



[1]                      القرآن الکریم ۲/ ۲۷۵

[2]                      کنز العمال بحوالہ الحارث عن علی حدیث ۱۵۵۱۶ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۶/ ۲۳۸

[3]                         القرآن الکریم ۲/ ۲۷۵

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن