دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

فی الدر المختار من فصل الفضولی کل تصرف صدر منہ ولہ مجیز ای لھذا التصرف من یقدر علی اجازتہ حال وقوعہ انعقد موقوفا ومالا مجیز لہ حالۃ العقد لاینعقد اصلا [1] اھ ملخصا،وفیہ وقف بیع مال الغیر لو الغیر بالغا عاقلا فلوصغیرا او مجنونا لم ینعقد اصلا کما فی الزواھر معزیا للحاوی [2] اھ۔

درمختار میں فضولی میں ہے کہ جو تصرف فضولی سے صادر ہوا اور درانحالیکہ اس تصرف کے وقوع کے وقت کوئی ایسا شخص موجود ہو جو اس تصرف کی اجازت دے سکتاہو توا کا انعقاد اس شخص کی اجازت پر موقوف ہوجائے گا اور اگربوقت تصرف فضولی کوئی ایسا اجازت دینے والا موجودنہ ہو تو یہ تصرف سرے سے منعقد ہی نہ ہوگا اھ ملخصا۔اسی میں ہے کہ مال غیر کی بیع موقوف ہوتی ہے اگر وہ غیر عاقل وبالغ ہو اور اگر وہ غیر نابالغ یا مجنون ہو تو بیع سرے سے منعقد نہ ہوگی جیسا کہ حاوی کی طرف منسوب کرتے ہوئے زواہر میں ہے اھ(ت)

پس سہم نابالغان مذکورین کہ کل جائداد مبیعہ کے دسویں حصہ سے کچھ زائد ہے یعنی چہارم جائداد کہ متروکہ کہ شیخ خضری تھی اس ایك سوبانوے سہام سے ستترسہام مشتری پر لازم ہے کہ ان نابالغوں کو واپس کردے اور(سہ ۳/۴ پے)زرثمن ان سہام کا ان کی ماں کلو سے وصول کرلے اسی طرح حرمت زوجہ یاد علی نے کہ ان کا سہام بلا اذن اس کے اپنی جانب سے بطریق مالکانہ بیچ ڈالا حسب حکم بدائع وبحرالرائق واشباہ وظاہر متن تنویر الابصار بیع باطل وغیرصالح اجازت ہے۔

فی الدرالمختار بیعہ لنفسہ باطل کما فی البحر والاشباہ عن البدائع وعبارۃ الاشباہ بیع الفضولی موقوف الا اذا باع لنفسہ فباطل بدائع [3] اھ مع التلخیص بالتغیر وفیہ ایضا وقف بیع مال الغیر ان باعہ علی انہ لما بلکہ اما لوباعہ علی انہ لنفسہ فالبیع باطل اھ [4] ملخصا۔

درمختارمیں ہےکہ فضولی کی اپنی ذات کے لئے بیع باطل ہے جیساکہ بحوالہ بدائع،بحر اور اشباہ میں ہے اشباہ کی عبارت یوں ہے کہ فضولی کی بیع موقوف ہوتی ہے مگر جب وہ اپنی ذات کے لئے بیع کرے توباطل ہوگی(بدائع اھ مع تلخیص وتغییر) اسی میں ہے کہ غیر کے مال کی بیع موقوف ہوتی ہے جبکہ یہ سمجھ کر بیچے کہ وہ مالك کےلئے ہے اور اگر اپنے لئے تو بیع باطل ہے اھ تلخیص۔(ت) مگر مولٰنا محمد بن عبدالله غزی تمرتاشی مصنف تنویر الابصار اس مذہب کی بوجہ مخالفت فروع مذہب تضعیف فرماتے ہیں فضولی اگر مال غیر کو اپنا ٹھہرا کربیچے تو ظاہر الروایت یہی ہے کہ

مستحق کواختیار اجازت حاصل ہے یعنی بیع باطل نہ ہوگی اور اجازت مالك پر موقوف ر ہے گی۔

فی الدرالمختار لکن ضعف المصنف الاولٰی(ای بطلان بیعہ اذا باعہ لنفسہ)لمخالفتہا لفروع المذہب لتصریحہم بان بیع الغاصب موقوف،وبان المبیع اذا استحق فللمستحق اجازتہ علی الظاھر مع ان البائع باع لنفسہ لا للمالك الذی ھو المستحق مع انہ توقف علی الاجازۃ[5] اھ،فی غمز العیون البصائر شرح الاشباہ والنظائر للعلامۃ الحموی تحت قولہ بیع الفضولی موقوف الا فی ثلث فباطل اذا شرط الخیار فیہ المالك وھی فی التلقیح وفیما اذا باع لنفسہ وھی فی البدائع اھ قولہ وفیما اذا باع لنفسہ یعنی لایتوقف علی اجازۃ المالك لانہ لم ینعقد اصلا قال بعض الفضلاء ویشکل علیہ ماقالوا من ان المبیع اذا استحق لاینفسخ العقد فی ظاہر الروایۃ بقضاء القاضی بالاستحقاق وللمستحق اجازتہ اھ،ووجہ اشکالہ ان البائع باعہ لنفسہ لاللمالك الذی ھو المستحق اھ [6]۔

درمختار میں ہے مگر مصنف نے صورت اولٰی(یعنی فضولی کی اپنے لئے بیع باطل ہے)کو فروع مذہب کے مخالف ہونے کی وجہ سے ضعیف قرار دیا،کیونکہ ائمہ نے تصریح کی کہ غاصب کی بیع موقوف ہے اور یہ کہ مبیع میں اگراستحقاق ثابت ہوجائے تو ظاہرالروایت پر مستحق کو اجازت کا اختیار حاصل ہے باوجود یکہ بائع نے اپنے لئے بیع کی نہ کہ اس مالك کے لئے جو کہ مستحق ہیے اس کے باوجود اس کی اجازت پر موقوف ہوگئی اھ،غمز عیون البصائر شرح اشباہ والنظائر تصنیف علامہ حموی میں ماتن کے اس قول"فضولی کی بیع موقوف ہے مگر تین صورتوں میں باطل ہے،جب مالك کے لئے اس میں شرط خیار رکھے اور یہ تلقیح میں ہے،اور ج ب وہ اپنے لئے بیچے اور یہ بدائع میں ہے اھ"کے تحت مذکور ہے،ماتن کا قول کہ جب فضولی اپنے لئے بیع کرے(تو باطل ہے)یعنی مالك کی اجازت پر موقوف نہ ہوگی کیونکہ وہ سرے سے منعقد ہی نہیں ہوئی،بعض فضلاء نے کہا کہ اس پر مشائخ کے اس قول اشکال وارد ہوتا ہے کہ مبیع میں اگر استحقاق ثابت ہوجائے تو قاضی کے استحقاق کا فیصلہ کردینے کے باوجود بیع فسخ نہیں ہوتی اور مالك مستحق کواسکی اجازت کا اختیار حاصل ہوتا ہے اھ، اشکال کی وجہ یہ ہے کہ بائع نے اپنی ذات کے لئے بیچا ہے

نہ کہ اس مالك کے لئے جو مستحق ہے اھ(ت)

پس اگر قبل اس دعوٰی کے یاد علی سے کوئی قول یا فعل ایسا صادر ہوا ہو جو شرعا اجازت بیع قرار پائے مثلا زرثمن مشتری سے مانگا ہو یا اس کو ہبہ کردیا ہو یا اپنی عورت سے کہا ہو تونے بُرا کیا یا اچھاکیا،علی مذہب محمد وھو الاستحسان عالمگیری [7] وھوالمختار فتح القدیر(مذہب محمد پر اوریہی استحسان ہے،عالمگیری،اوریہی مختار ہے،فتح القدیر۔ت) تو اب یہ دعوٰی اس کا نہ سنا جائے گا اور اس کے حصہ میں بیع،نافذ ہوچکی اس کے سہم کا زرثمن کہ(معہ)روپے ہیں اس کی زوجہ کے پاس امانت رہا بشرطیکہ بلاقصور اس کے پاس سے تلف نہ ہوگیا ہو اس سے وصول کرلے اور اگر زوجہ نے حفظ مبلغ میں کچھ تقصیر نہ کی نہ اپنے تصر ف میں لائی اور کسی طرح تلف ہوگیا تو اس سے بھ نہیں لے سکتا کہ وہ امینہ تھی اور امین پر بلا تقصیر فی الحفظ ضمان نہیں۔

 



[1]            درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱

[2]            درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱

[3]            درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱

[4]            درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱

[5]            درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۱

[6]            غمز العیون البصائر الفن الثالث کتاب البیوع ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۳۲۹

[7]            فتاوٰی ہندیۃ کتاب البیوع البا ب الثانی عشر فی احکام البیع الموقوف نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۱۵۲،ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۴۱

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن