دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

" وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَاؕ- "[1]

اس سے بڑاظالم کون ہے جو اﷲ تعالٰی  کی مسجدوں میں اس کا ذکر کرنے سے روکے اور ان کی بربادی کی کوشش کرے۔ (ت)

اور اگر اس لئے شہید کی کہ یہیں ازسر نو اس کی تعمیر کرائے تو اگر یہ امر بے حاجت وبلاوجہ صحیح شرعی ہے تو لغو وعبث وبے حرمتی مسجد وتضییع مال ہے اور یہ سب ناجائز ہے۔

قال صَلَّی اللہُ تعالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَان اﷲ تعالٰی  کرہ لکم ثلثا قیل وقال وکثرۃ السوال واضاعۃ المال[2]،وقال تعالٰی "وَ لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا(۲۶)اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِؕ-وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا(۲۷)"[3]۔

رسول اللہ  صَلَّی اللہُ تعالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ بیشك اﷲ تعالٰی  نے تمہارے لئے تین چیزوں کو ناپسند بنایا:قیل وقال، کثرت سوال اور مال کو ضائع کرنا۔اور اﷲ تعالٰی  نے ارشاد فرمایا کہ فضول خرچی مت کرو کیونکہ فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں(ت)

ہدایہ میں ہے:العبث حرام[4] (فضول خرچی کرنا حرام ہے۔ت) اور اگر بمصلحت شرعی ہے مثلًا اگر اس میں اور زمین شامل کرکے توسیع کیجائے گی یا بنا کمزور ہوگئی ہے محکم بنائی جائے گی تواصل بانی مسجد ورنہ اہل محلہ کو اس میں اختیار ہے کما فی الھندیۃ والدر المختار وغیرہما(جیسا کہ ہندیہ اور درمختاروغیرہ میں ہے۔ت)واﷲ تعالٰی  اعلم۔

مسئلہ۱۷۲:          ازعلی گڑھ سوسائٹی کارڈن مسئولہ حمیدالدین خاں بی اے ۲۵ذیقعدہ ۱۳۳۱ھ معرفت سید برکت علی صاحب:

معظمی زاد عنایتہ السلام علیکم ورحمۃ اﷲ تعالٰی  وبرکاتہ ! تھوڑا عرصہ ہوا جب مجھے آپ کے ہمراہ جناب مولٰنا صاحب قبلہ سے شرف قدم بوسی حاصل ہوا تھا اس روز میں نے مولٰنا صاحب کی خدمت میں یہ عرض کیا تھا کہ ایك صاحب نے مسجدکے متعلق چند کتب احادیث کی اسناد پر یہ مواد جمع کیاہے کہ راستہ کی فراخی کے لئے مسجد میں سے کچھ حصہ بشرط گنجائش لینا جائز ہے جس میں آنجناب مولٰنا صاحب قبلہ نے یہ فرمایا تھا کہ وہ غلطی پر ہیں بلکہ اس مسئلہ کا منشا بحالت ہجوم مسجد کے کسی حصہ میں سے گزرنے کا جواز ہے اس پر میں نے ان صاحب کو انکی غلطی پر بذریعہ خط متنبہ کیا عرصہ کے بعد ان کا جواب آیا افسوس ہے کہ وہ اپنی جائے قیام پر نہیں ہیں اس وجہ سے ان کے پاس وہ ان کا رسالہ اور وہ کتب جن سے مواد جمع کیا تھا موجود نہ تھیں مگر جو انہوں نے مجھے اپنی یادداشت سے لکھا بجنسہٖ نقل کرکے ارسال خدمت کررہا ہوں۔

نام کتاب جس میں سے مواد حاصل کیا:اشباہ والنظائر مصنفہ امام ابراہیم باب فوائد شتی ص۴۰۴و۴۰۵مطبو عہ ۱۲۸۳ھ مطبع نظامی یا مصطفائی کانپور۔

عبارت خط:جو حوالہ میں نے آپ کو لکھا تھا وہ اس طرح ہے:

لو ضاق الطریق علی المارۃ والمسجد واسع فلہم ان یوسعوا الطریق من المسجد۔

اگر راستہ گزرنے والوں کے لئے تنگ ہو اور مسجد وسیع ہوتو انہیں مسجد کا کچھ حصہ لے کر راستہ میں توسیع کرنے کا اختیار ہے(ت)

اور دوسری جگہ:

ماضاق المرور ولوکان مسجدا واسعا یجوزانھدامہ۔

جب گزرنا دشوار ہو اور مسجد وسیع ہوتو اس کا انہدام جائز ہے۔ (ت)

قریب قریب ایسی ہی عبارت جو مجھے کل او راچھی طرح یا دنہیں ہے،عبارت بالااشباہ والنظائر میں صاف لکھی ہے اور صاحب رد المحتار نے اسی کو مرجح اور معتمد لکھا ہے حکم بالا میں مسجد کے متعلق ہے فناء مسجد یعنی وضو خانہ،حجرہ،غسل خانہ میں تو بحث ہی فضول ہے۔یہ عبارت انہوں نے مجھے لکھ کر بھیجی ہے غالبًا یہ کتاب آنجناب مولانا صاحب کے وسیع کتب خانہ میں ضرور موجودگی ہوگی اور اس کو دیکھ کر آں جناب ضرور اس کی صحت اور موقع پر غور فرماسکیں گے والسلام۔

دیگر گزارش یہ ہے کہ جناب مولانا صاحب قبلہ کے فیصلہ سے مجھے بھی مطلع فرمائیں تو باعث کمال عنایت ہوگا علاوہ اضافہ معلومات مجھے ان حضرت کو بھی لکھنے کا موقع مل سکے گا میراپتہ حسب ذیل ہوگا:

محمد حمید الدین خاں بی اے،سوسائٹی کارڈن علی گڑھ

الجواب:

استغفر اﷲ العظیم ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم الحکیم،نہ کتاب مستطاب اشباہ والنظائر کے مصنف امام ابراہیم نہ اشباہ میں معاذاﷲ کہیں ان کا پتہ کہ لوکان مسجدا واسعا یجوز انھدامہ(اگر مسجد وسیع ہوتو اس کا انہدام جائز ہے۔ت)نہ کوئی مسلمان ایسا کہہ سکے نہ کوئی عربی دان ایسی عبارت لکھے نہ کہ علامہ زین بن نجیم مصری مصنف اشباہ ان کی نسبت یہ محض تہمت ہے یا نرا اشتباہ۔کسی شخص کے اپنے تخیل میں یہ لفظ پیدا ہوئے ہوں گے جس کی عربیت فاسد اور معنی باطل،کوئی آدمی ابراہیم نامی وہاں موجود یا مخیل ہوگا اور کتاب اشباہ کہیں رکھی ہوگی سب تصورات جمع ہوکر یہ یاد رہا کہ امام ابراہیم نے اشباہ میں ایسا لکھا اگرچہ نظر بواقع وہی مثال ہے کہ   ؎

چہ خوش گفتست سعدی در زلیخا                    الاایھا الساقی ادر کاسا ونا ولھا

(کیا خوب کہا سعدی نے زلیخا میں،خبردار اے ساقی!جام کو گردش دے اور عطا کر۔ت)

بلکہ اس سے بھی ہزار درجہ بدتر ہے کہ اگرچہ نہ کتاب زلیخا شیخ سعدی رحمۃ اﷲ تعالٰی  کی تصنیف نہ مصرع دوم ان کا،نہ اس کتاب کا،مگر آخر ہے تو ایك عارف کا قول بخلاف اس کے کہ مسجد ڈھانے کی حلت اور اشباہ کی طرف اس کی نسبت،افسوس کہ ناقل نے جس کتاب کے صفحہ۴۰۴ سے پہلی عبارت نقل کی اس سے گیارہ ہی ورق اوپر صفحہ۳۸۱میں اس کے معنی کی صریح تشریح نہ دیکھی کہ "لایجوز اتخاذ طریق فیہ للمرور یعنی بان یکون لہ بابان فاکثر فیدخل من ھذا ویخرج من ھذا"[5] یعنی مسجد میں راستہ بناناجو ناجائزہے اور عذر کی صورت میں جس کی اجازت دی گئی ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ مسجد کے دو یا زیادہ دروازے ہوں ایك سے داخل ہوکر دوسرے سے نکل



[1]                      القرآن الکریم۲/ ۱۱۴

[2]            صحیح مسلم کتاب الاقضیۃ باب النہی عن کثرۃ المسائل قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۵

[3]             القرآن الکریم ۱۷/ ۲۷۔۲۶

[4]             الہدایۃ کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱/ ۱۱۸

[5]             غمز العیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الثالث،القول فی احکام المسجد  ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۲۳۱

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن