30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور فنائے مسجد کی حرمت مثل مسجد ہے۔فتاوٰی عالمگیریہ کتاب الوقف باب ۱۱میں محیط امام شمس الائمہ سرخسی سے ہے:
قیم المسجدلایجوز لہ ان یبنی حوانیت فی حد المسجد اوفی فنائہ لان المسجد اذاجعل حانوتا و مسکنا تسقط حرمتہ وھذالایجوز والفناء تبع المسجد فیکون حکمہ حکم المسجد[1]۔
متولی کو مسجد کی حد یا مسجد کے فناء میں دکانیں بنانے کا اختیار نہیں کیونکہ مسجد کو جب دکان یا رہائش گاہ بنالیا جائے تو اس کا احترام ساقط ہوجاتا ہے جو کہ ناجائز ہے اور فنائے مسجد چونکہ مسجد کے تابع ہے لہذا اس کا حکم بھی وہی ہوگا جو مسجد کا ہے۔ (ت)
جب فنائے مسجد میں خود مصلحت مسجد کےلئے دکان بنانا متولی مسجد کو حرام،اور مسجد کی بے ادبی اور اس کی حرمت کا ساقط کرنا ہے تو فنائے مسجد کو عام سڑك کےلئے دے دینا کس درجہ سخت حرام اور مسجد کی بے حرمتی اور اس کی عظمت کا منہدم کرنا ہوگا۔وہ جو بعض کتب میں ہے کہ ضرورت و مجبوری کے وقت مسجد کو راستہ بناناجائز ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ بضرورت مسجد میں ہو کر دوسری طرف کو نکل جانا جائز ہے کہ مسجد میں دوسری طرف جانے کے لئے چلنا حرام ہے مگر بضرورت کہ راستہ گھراہوا ہے اور مسجد ہی میں سے ہوکر جا سکتا ہے جیسے موسم حج میں مسجد الحرام شریف میں واقع ہوتا ہے اس کی اجازت دی گئی ہے وہ بھی جنب یا حائض یا نفساء کو نہیں نیز گھوڑے یا بیل گاڑی کو نہیں،ہوکر نکل جانے کیلئے بھی ان کا جانا لے جانا ہرگز جائز نہیں،نہ یہ کہ معاذ اﷲ اسے مسجدیت سے خارج کرکے گزر گاہ عام کردیاجائے کہ مسلم کافر جانور پاك ناپاك سب کےلئے شارع عام ہوجائے یہ ہرگز حلال نہیں ہوسکتا۔اشباہ والنظائر احکام المسجد میں ہے:
لایجوز اتخاذ طریق فیہ للمرور الالعذر[2]۔
سوائے ضرورت کے مسجد میں سے گزرنے کیلئے راستہ بنانا ناجائز ہے(ت)
اس کی شرح غمز العیون والبصائر میں ہے:
قولہ ولایجوز اتخاذ طریقہ فیہ للمرور یعنی بان یکون لہ بابان فاکثر فیدخل من ھذا ویخرج من ھذا[3]۔
ماتن کے قول کہ "مسجد سے گزرنے کےلئے راستہ بنانا ناجائز ہے"کا معنی یہ ہے کہ مسجد کے دو یا دوسے زیادہ دروازے ہوں تو ایك دروازے سے داخل ہو کر دوسرے سے نکل جائے(ت)
فتاوٰی عالمگیریہ وفتاوٰی خلاصہ میں ہے:
رجل یمر فی المسجد ویتخذ طریقا ان کان بغیر عذر لایجوز وبعذر یجوز ثم اذا جاز یصلی فی کل یوم مرۃ لا فی کل مرۃ[4]۔
ایك شخص مسجد سے گزرتا ہے اور اس کو راستہ بناتا ہے اگر عذر ہے تو جائز ہے بلا عذر ہے تو ناجائز ہے پھر اگر اس کو گزرنا جائز ہو تو ہر روز ایك مرتبہ اس میں نماز پڑھے نہ کہ ہر بار جب بھی گزرے(ت)
تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق للامام الزیلعی وفتاوٰی ہندیہ میں ہے:
اذا جعل فی المسجد ممرافانہ یجوز لتعارف اھل الا مصار فی الجوامع جاز لکل واحدان یمرفیہ حتی الکافر الا الجنب والحائض والنفساء ولیس لھم ان یدخلوافیہ الدواب[5]۔
اگر مسجد میں سے کوئی حصہ مسلمانوں کے لئے عام راستہ گزر گاہ بنا دیا جائے تو جائز ہے کیونکہ شہروں کے لوگوں میں جامع مسجدوں میں ایسا متعارف ہے اور ہر ایك کو اس راہ گزر سے گزرنے کی اجازت ہوگی حتی کہ کافرکو بھی،مگر جنبی اور حیض ونفاس والی عورتوں کو گزرنے کی اجازت نہیں اور لوگوں کو یہ اختیار نہیں کہ اس راستے سے اپنے جانوروں کو لے کر جائیں۔(ت)
محیط امام برہان الدین وفتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:
ان اراد وا ان یجعلواشیئا من المسجد طریقا للمسلمین فقد قیل لیس لھم ذٰلك وانہ صحیح[6]۔
اگر لوگوں نے ارادہ کیا کہ مسجد کا کوئی ٹکڑا مسلمانوں کےلئے گزر گاہ بنادیں تو کہا گیا ہے کہ انہیں ایساکرنے کا اختیار نہیں،اور بیشك یہی صحیح ہے(ت)
اسی طرح فتاوٰی امام فقیہ ابواللیث پھر فتاوٰی تاتارخانیہ وغیرہا کتب معتمدہ میں ہے۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم
مسئلہ۱۷۰:ازمحلہ کوٹ پرگنہ سنبھل ضلع مراد آباد مکان مولوی لئیق احمد صاحب مرسلہ مطہر حسین صاحب ۲۳ذیقعدہ ۱۳۳۱ھ
جلسہ چندہ واسطے مصارف خیر کے مساجد میں خصوصًا جامع مسجد میں جائز ہے یانہیں؟
الجواب:
جائز ہے جبکہ چپقلش نہ ہو اور کوئی بات خلاف ادب مسجد نہ ہو۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۷۱: از گونڈہ محلہ گنج مکان مولوی نوازش احمد صاحب مرسلہ حافظ محمد اسحاق صاحب ۲۳ذیقعدہ ۱۳۳۱ھ
مسجد قدیم کہنہ کو شہید کرکے اسی مقام پر یا کچھ فاصلہ سے ہٹ کر دوسری جگہ مسجد جدید کوئی بنوادے تو اس بارے میں شرعًا کیاحکم ہے؟
الجواب:
مسجد کو اس لئے شہید کرنا کہ وہ جگہ ترك کردیں گے اور دوسری جگہ مسجد بنائیں گے مطلقًا حرام ہے قال تعالٰی :
[1] فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۶۲
[2] الاشباہ والنظائر الفن الثالث القو ل فی احکام المسجد ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۲۳۱
[3] غمز العیون البصائر مع الاشباہ الفن الثالث القو ل فی احکام المسجد ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۲۳۱
[4] خلاصۃ الفتاوی کتاب الصلٰوۃ الفصل السادس والعشرون فی المسجد مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱/ ۲۲۹
[5] فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر فی المسجد نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۵۷
[6] فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر فی المسجد نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۵۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع