30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہیں کہ وہ بدستور مسجد ہے سقف نے اسے مسجدیت سے خارج کیا،ہاں اس سقف پر بلاضرورت نماز کی اجازت نہیں کہ سقف مسجد پر بے ضرورت چڑھنا ممنوع وبے ادبی ہے اور گرمی کا عذر مسموع نہ ہوگا،ہاں کثرت جماعت کہ طبقہ زیریں کے دونوں درجے بھر جائیں اور لوگ باقی رہیں تو سقف پر اقامت نما زکی اجازت ہوگی،فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:
الصعود علی سطح کل مسجد مکروہ ولہذا اذااشتد الحر یکرہ ان یصلوابالجماعۃ فوقہ الا اذا ضاق المسجد فحینئذ لایکرہ الصعود علی سطحہ للضرورۃ [1]
ہر مسجد چھت پر چڑھنا مکروہ ہے یہی وجہ ہے کہ شدید گرمی کے باوجود مسجد کی چھت پر باجماعت نماز پڑھنا مکروہ ہے مگر جب مسجد نمازیوں کے لئے تنگ پڑگئی تو مجبورًا چھت پر چڑھنا مکروہ نہیں(ت)
اور اگر یہ سقف قدیم ہے خود بانی مسجد ہی نے طبقہ زیریں کے دونوں درجے مسقف بنائے تو اب نظر لازم ہے اگر ثابت اور تحقیقًا معلوم ہو کہ بانی نے اصل مسجد علو کو رکھا اور نیچے یہ دو درجے وقت ضرورت کے لئے بنا دئے کہ اگر جماعت کثیر ہو تو ان میں قیام کریں تو اس صورت میں ظاہرًا سقف پر نماز مطلقًا جائز ہے کہ درجہ زیریں حسب نیت بانی اصل مسجد نہیں بلکہ تابع ومعین مسجد ہے اور زیر سقف تو مطلقًا جواز خود ظاہر ہے کہ وقت ضرورت کی نیت اس کے غیر میں ممانعت نہیں کما لایخفی(جیسا کہ مخفی نہیں۔ت)اور اگر ثابت ہو کہ بانی نے اصل مسجد طبقہ زیریں کو کیا اور طبقہ بالا وقت ضرورت یا وقت گرمی کےلئے بنایا دونوں کو اصل مسجد کیا مثلًا اختلاف موسم کے خیال سے طبققہ زیرریں بالکل مسقف اورطبقہ بالامع صحن بنایا یا کچھ ثابت نہ ہوا تو ان تینوں صورتوں کا حکم مثل اس سب سے پہلی صورت حدوث سقف کے چاہئے کہ دو صورت پیشین میں تو طبقہ زیریں کا مسجد ہونا خود ہی ثابت و مرادہے تو یہ سقف سقف مسجد ہوئی اور سقف مسجد پر بے ضرورت صعود ممنوع،اور صورت اخیرہ میں اگرچہ نصًا ثبوت نہ ہو عرفًا ثبوت ہے کہ منازل میں منزل زیریں ہی اصل ہے اور بالاخانہ تابع کہ اس کا قیام اس پر موقوف اور صحن نہ رکھنا عدم ارادہ اصالت کا موجب نہیں جیسے صورت لحاظ مواسم میں گزرا،بالجملہ زیر سقف نماز پڑھنا مطلقًا جائزہے اور چھت پر بحال ضرورت تو مطلقًا اور بلاضرورت صرف اس صورت میں کہ بانی سے تحقیق طور پر ثابت ہو کہ مسجد صرف علو کو کیا اور اسے تابع رکھا،باقی صورتوں میں چھت پر نماز سے احتراز ہو۔رہابھراؤ ڈال کر حصہ زیریں کو نیست ونابود کردینا یہ کسی صورت جائز نہیں جن صورتوں میں یہی مسجد یا یہ بھی مسجد ہے جب تو ظاہر کہ یہ مسجد کا اعدام اور معاذاﷲ اس وعید شدید پر اقدام ہوگا،
" وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَاؕ-"[2]
اس سے بڑا ظالم کون ہوسکتا ہے جو لوگوں کو مساجد میں ذکر الٰہی سے منع کرے اور ان کی بربادی کی کوشش کرے۔(ت)
اور اگر نہیں تو لااقل وقف صحیح تابع مسجد ہے اور وقف کی ہیئت بدلنا تو جائز نہیں،نہ کہ بالکل مسدود ومفقود کردینا۔عٰلمگیریہ میں سراج وہاج سے ہے:
لایجوز تغییر الوقف عن ھیأتہ فلایجعل الدار بستانا ولا الخان حماما ولا الرباط دکانا الا اذا جعل الواقف الی الناظر مایری فیہ مصلحۃ الوقف [3] اھ ھذا کلہ ماظھر لی۔واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
وقت کی ہیئت میں تبدیلی کرنا جائز نہیں۔لہذا مکان کو باغ، سرائے کوحمام اور اصطبل کو دکان نہیں بنایا جائے گا ہاں اگر واقف نے خود متولی کومصلحت وقف کےلئے تبدیلی کا اختیار دیا ہو تو جائز ہے اھ یہ تمام میرے لئے ظاہر ہوا۔ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ۱۶۹: ۱۰ذی القعدۃ الحرام ۱۳۳۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك زمین مسجد کہ اس میں اور مسجد میں راہ وغیرہ کوئی فاصل نہیں،کثر ت جماعت کے وقت اس میں نماز بھی ہوتی ہے اور ایسے وضو وغیرہ ضروریات مسجد کےلئے ہے کیا متولی یا دیگر مسلمین کو یہ جائز ہے کہ اسے مسجد سے توڑ کر شارع عام میں شامل کردیں یا بالعوض خواہ بلاعوض سڑك بنانے کے لئے دے دیں اور ایسا کرنا حقوق مسجد پر دست درازی کرنا ہوگا یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب:
بیشك ایساکرنا حرام قطعی اور ضرور حقوق مسجد پر تعدی اور وقف مسجد میں ناحق دست اندازی ہے شرع مطہر میں بلا شرط واقف کہ اسی وقف کی مصلحت کےلئے ہو وقف کی ہیأت بدلنا بھی ناجائز ہے اگرچہ اصل مقصود باقی رہے تو بالکل مقصدوقف باطل کرکے ایك دوسرے کام کےلئے دینا کیونکر حلال ہوسکتا ہے۔سراج وہاج وفتاوٰی عالمگیری وغیرہما میں ہے:
لایجوز تغییر الوقف عن ھیأتہ فلایجعل الدار بستانا ولاالخان حماما ولاالرباط دکانا الااذاجعل الواقف الی الناظر مایری فیہ مصلحۃ الوقف[4]
وقف کی ہیئت میں تبدیلی کرنا جائز نہیں،لہذا مکان کو باغ،سرائے کو حمام اور اصطبل کو دکان نہیں بنایا جائے گامگر اس وقت یہ تبدیلی ناجائز نہ ہوگی جب واقف نے خود متولی کو اختیار دیا ہو کہ مصلحت کےلئے جو تبدیلی بہتر سمجھیں کرلیں۔ (ت)
فتح القدیر شرح ہدایہ وغیرہ کتب میں ہے:
الواجب ابقاء الوقف علی ماکان علیہ۔[5]
وقف کو اپنی حالت پر باقی رکھنا واجب ہے(ت)
خصوصًا ایسی تبدیلی جس سے خاص مسلمانوں کا حق عام آدمیوں مسلم غیر مسلم سب کے لئے ہوجائے جب وہ سڑك ہوئی تو اس میں مسلم کافر سب کا حق ہوجائے گا اور پہلے وہ صرف حق مسلماناں تھی تو کیونکر جائز ہو کہ مسلمانوں کا حق چھین کر عام کردیا جائے،کیا کوئی ہندو گواراکر سکتا ہے کہ اس کے شوالے یا مندر کا کچھ حـصہ توڑ کر مسلمانوں کو اس میں حقدار کردیاجائے تو عجب اس مسلمان سے کہ اپنے دین پر ایسے ظلم کا مرتکب ہو،یا اگر کوئی مسلمان کسی زمین،مندر یا ہندو کسی زمین مسجد کے ساتھ ایسا کرے تو گورنمنٹ اسے روا رکھے گی ہر گز نہیں بلکہ ضرور اسے اس مسلم یا ہندو کی جبر وتعدی اور مذہبی دست اندازی قرار دے گی علی الخصوص ایسی زمین کہ اگر عین مسجد نہیں فنائے مسجد ہے۔غنیہ میں ہے:
فناء المسجد ھو المکان المتصل بہ لیس بینہ طریق[6]۔ فنائے مسجد وہ مکان ہے جو مسجد کے متصل ہو اور درمیان میں راستہ نہ ہو۔(ت)
[1] فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراہیۃ الباب الخامس فی آداب المسجد نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۲۲
[2] القرآ ن الکریم۲/ ۱۱۴
[3] فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب الرابع عشر فی المتفرقات نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۹۰
[4] فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الرابع عشر فی المتفرقات نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۹۰،ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۸۹
[5] فتح القدیر کتاب الوقف مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۴۴۰
[6] غنیۃ المستملی فصل فی احکام المسجد سہیل اکیڈمی لاہور ص۶۱۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع