دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

اجر حانوتا کل شھر بکذاصح فی واحد فقط وفسد الباقی لجہالتھا واذا مضی الشھر فلکل فسخھا بشرط حضور الاخر لانتھاء العقد الصحیح[1]۔

دکان کرایہ پر دی کہ ہر ماہ اتنا کرایہ ہوگا تو فقط ایك ماہ کے لئے اجارہ صحیح ہوا باقی مہینوں میں بسبب جہالت کے فاسدہے اور جب مہینہ پورا ہوگیا تو دونوں میں سے ہر ایك کو دوسرے کی موجودگی میں اجارہ فسخ کرنے کا اختیار ہے کیونکہ عقد صحیح ختم ہوگیا(ت)

بہر حال اصل کو ہر سرماہ پر اس نائب کے معزول کردینے اور دوسرے کو اس کی جگہ نائب کرنے کااختیار ہے۔مسئلہ مسئولہ سائل کا تو جواب یہ ہے اور یہاں ایك امر ضروری اللحاظ یہ ہے کہ بعض جگہ معلومات ووظائف امامت ایسے مقرر ہوتے ہیں جو شرعًا جائز یا صحیح نہیں ان کا استحقاق نہ اصل کو ہوگا نہ نائب کو بلکہ صرف اجرت مثل کا،مگر نائب ان میں بھی اصل سے اپنے لئے منازعت نہیں کرسکتا کہ وہ اسے بھی حلال نہیں صرف ا پنی اجرت مثل لے سکتا ہے۔فلیتنبہ(پس آگاہ رہنا چاہئے۔ت) واﷲ تعالٰی  اعلم۔

مسئلہ ۱۶۶:                              ازنینی تال بڑا بازار مرسلہ فدا حسین صاحب سادہ کار                    ۶رمضان مبارك ۱۳۳۱ھ

بعالی خدمت جناب مولانا احمد رضا خاں صاحب !جناب من!یہاں مسجد نینی تال میں گیس کی لالٹین روشن کی گئی ہے خاص اندرون مسجد،جس وقت وہ روشن کی جاتی ہے اسپرٹ شراب ڈال کر گرم کی جاتی ہے تب وہ روشن ہوتی ہے اور ایك ہندو ان کو جلانے کے واسطے اندر جا کر جلاتا ہے جس کے پیر دھلائے جاتے ہیں اور ناپاکی سے اس کی کچھ مطلب نہیں،یہ کام جائز ہے یاناجائز؟

الجواب:

اسپرٹ شراب ہے اور شراب ناپاك ہے اور ایسی ناپاك چیز مسجد میں لیجانا منع ہے ہر گز اجازت نہیں،ولہذا فتاوٰی عالمگیری ودرمختار وغیرہ معتبر کتابوں میں تصریح فرمائی کہ تیل کسی طرح ناپاك ہوگیا ہوتو مسجد میں اسے جلانا ہرگز جائز نہیں۔تنویر الابصار میں ہے:

یکرہ الوطی والبول والتغوط وادخال نجاسۃ فیہ فلایجوز الاستصباح بدھن نجس فیہ[2]۔

اور کافر کا اس میں جانا بھی بے ادبی ہے کما حققناہ فی فتاوٰنا بتوفیقہ تعالٰی (جیسا کہ اﷲ تعالٰی  کی توفیق سے اس کی تحقیق ہم نے اپنے فتاوٰی میں کردی ہے۔ت)وھو تعالٰی  اعلم۔

مسئلہ۱۶۷:                             ۸رمضان المبارك ۱۳۳۱ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص مسمی سالاربخش نے محلہ بانخانہ میں مسجد تعمیر کرائی اور اس کا فرش تھوڑا درست کراکر چھوڑدیا اور چہار دیواری وغیرہ بھی ٹھیك طور پر درست نہ کرائی،عرصہ قریب چھ سال کے گزر گیا مگر چند مرتبہ سالار بخش سے کہا گیا انہوں نے کچھ خیال نہ کیا اب اور چند لوگوں نے یہ رائے قائم کی کہ یہ مسجد ہنوز ایسی نہیں ہے کہ اس میں نماز پڑھی جائے،چنانچہ اس کو درست کریں تاکہ نماز پڑھی جائے،مسمی سالار بخش کو یہ بات ظاہر ہوئی کہ اور لوگ اس مسجد کو درست کرانا چاہتے ہیں فورًا ان لوگوں سے یہ لفظ کہا کہ اس کو میں خود درست کراؤں گا آپ لوگ اس میں ایك حبہ نہیں لگا سکتے ہیں اور نہ میں کسی کو روپیہ لگانے دوں گا جس وقت میرے پاس روپیہ ہوجائیگا میں خود درست کرادوں گا،اب وہ مسجد اسی طرح پر ہے نہ تو کسی کو مرمت کرانے دیتے ہیں اور نہ خود درست کراتے ہیں،امیدوار کہ بعد ملاحظہ جو کچھ حکم شرع شریف ہوتحریر فرما کر مہر ثبت کردی جائے۔

الجواب:

اگر سالاربخش نے مسجد کی بنا ڈالی ہے اور ابھی یہ نہ کہا کہ میں نے اسے مسجد کردیا جب تو وہ ابھی وقف نہ ہوئی سالاربخش کی ملك ہے دوسروں کو اس میں دست اندازی نہیں پہنچتی اور اگر اسے وقف کرچکا یہ کہہ چکا ہے کہ میں نے اسے مسجد کردیا جب بھی اس کے بنانے کا حق اسی کو ہے اسے چاہئے کہ خود بنائے ورنہ جو مسلمان بنانا چاہتے ہیں ان کو اجازت دے اور اگر باہم راضی ہوں تو یوں کریں کہ ان مسلمانوں سے کہے تم بناؤ اور جو کچھ اس میں صرف ہو وہ میرے ذمہ ہے اس کا حساب لکھتے رہو میں ادا کروں گا یوں مسجد بن بھی جائے گی اور وہ سب مسلمان بھی اس کے بنانے کا پورا ثواب پائیں گے اور ساری مسجد اسی کے روپے سے بنے گی سب مطلب حاصل ہوجائیں گے۔واﷲ تعالٰی  اعلم۔

مسئلہ۱۶۸:                              ازمارہرہ شریف سرکار خورد مرسلہ حضرت سید شاہ میاں صاحب ۹رمضان مبارک۱۳۳۱ھ

کیافرماتے ہیں عمائے اہل دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد جس کا صحن مسقف ہے اور اس سقف کے نیچے سو دو سو برس سے نماز ہوتی ہے اب اس سقف کو بالائی حصہ مسجد میں بطور صحن شامل کرلیا ہے ایسی حالت میں حسب مذہب اہلسنت وجماعت اس مسقف صحن میں نماز جائز ہے یانہیں اور حصہ زیریں جو مرتب ومسقف ہے بدستور رکھا جائے یا بھراؤ ڈال کرصحن بنالیا جائے،ایسی صورت میں کہ سقف نہ رکھی جائے اور ایك بنی بنائی عمارت مسمار کردی جائے شرعًا خلاف ہے یانہیں؟بحوالہ کتب وروایات جواب لکھا جائے۔بینوا توجروا۔

الجواب:

سوال میں حصہ بالائی وحصہ زیریں کہنے سے ظاہر کہ مسجد دو طبقہ ہے:علووسفل یعنی بالاخانہ ومنزل زیریں۔اور یہ الفاظ کہ ایك مسجد جس کا صحن مسقف ہے اور اس سقف کے نیچے سودوسوبرس سے نماز ہوتی ہے بظاہر اس طرف جاتے ہیں کہ سرے سے بانی مسجد نے طبقہ سفل کا کوئی صحن نہ رکھا بلکہ اس کے دونوں درجہ اندرونی و بیرونی مسقف ہی بنائے اور بعد کے الفاظ کہ اب اس وقف کے بالائی حصہ مسجد میں بطور صحن شامل کرلیا ہے یہ بھی سقف کاحدوث نہیں بناتے بلکہ اس کا پہلے سے ہونا اور اسے طبقہ علو کے لئے بجائے صحن قرار دینے کا حدوث۔لیکن سفل جب اصل سے دو درجہ مسقف ہو اور درجہ اندرونی پر علو ہوتو درجہ بیرونی کی سقف خود ہی اس علو کےلئے بجائے صحن ہوگی،اب بطور صحن شامل کرلیا ہے  کا کیا محصل ہوگا یہ ظاہرًا حدوث سقف کی طرف ناظر ہے مگر یہ کہ اس وقف پر نماز پہلے نہ پڑھی جاتی ہو اب پڑھنے لگے بایں معنی شامل کرنے کا حدوث بتایاہو،نیز صحن کا مسقف کہنا بھی حدوث سقف کا پتا دیتا ہے کہ صحن کبھی مسقف نہیں ہوتا نہ مسقف کو صحن کہیں مگر بایں معنے کہ پہلے جو صحن تھا بعد کو مسقف کرلیا ہے،اسی طرح عبارت سوال کہ اس مسقف صحن میں نماز جائز ہے یانہیں نظر بالفاظ اسی درجہ بیرونی منزل زیریں سے سوال ہے کہ وہی صحن مسقف ہے اور اوپر اسی کو اس لفظ سے تعبیر کیا بھی تھا،مگر وہاں تو سودو سو برس سے نماز ہوتی ہے اور اس میں عدم جواز کا کوئی منشا بھی نہیں، ہاں سقف کو جو حصہ بالا میں اب شامل کیا گیا اسے صحن حادثات بتایا اور یہاں سوال کے لیے منشابھی ہے شاید اسے مسقف بایں معنی کہا ہو کہ یہ درجہ زیریں کی سقف کیا گیا ہے نہ یہ کہ اس پر سقف بنائی گئی بہر حال ہم ہر احتمال پر کلام کریں۔یہ سقف اگر حادثات ہے بانی مسجدنے منزل زیریں کے سامنے صحن رکھا تھا بعدہ کسی نے اسے بھی مسقف کردیا،جب توظاہر ہے کہ اس درجہ بیرونی میں جو پہلے صحن تھا اور اب مسقف ہے عدم جواز نماز کی کوئی وجہ



[1]                 درمختار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۷۸

[2]                  درمختار کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۳

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن