دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

استاد زادے بکر سے کہا کہ مجھ کو اس مسجد میں آپ امام مقرر کیجئے میں آپ کا خلیفہ رہوں گا اور آپ کے وظائف مقررہ معہودہ میں کوئی نقصان نہ کروں گا پس بکر نے خالد کو اس اقرار پر خلیفہ مقرر کیا اور تخمینًا سترہ اٹھارہ برس تك خالد یہ پابندی شرط مذکور امامتی کراتا رہا اور امور مقررہ میں کبھی چون و چرانہ کی،اب چونکہ بکر کا بیٹا بالغ ہوگیا ہے اور علم امامت سے بہر مند ہے لہذا بکر خالد کو برطرف کرکے اپنے بیٹے کو امام کرنا چاہتا ہے اور ابتدائے تقرر خالد کے وقت خالد نے تسلیم کرلیا تھا کہ آپ کے بیٹے جب بالغ قابل امامت ہوں یا اور کسی امر سے جب کبھی آپ مجھ کو موقوف کردیں گے تو مثل خلفائے سابقین کے مجھ کو عذر نہ ہوگا،اب خالد اپنے اقرار سے فرار کرکے کہتا ہے کہ میں تمہارا کوئی خلیفہ نہیں کیونکہ جب میں نماز فرض و تراویح وعید وغیرہ خدمات مسجد ومراعات اہل محلہ ختم دعا،درود سب بذات خود کرتا رہا تو میں امام مستقل ہوگیا تم کو میرے عزل کا کوئی اختیار نہیں اور قبل ہی سے جو کچھ میں نے تم کو دیا یالینے دیا وہ شرم وحیا کی وجہ سے تھا ورنہ تمہارا کوئی استحقاق نہیں ہے کہ امامت تو میں کراؤں اور منافع تم لو،خلافت اور اصالت کے کیا معنی پس بکر نے علمائے اطراف کو جمع کیا تھا کہ خالد سے تحقیق کریں اور فہمائش کرکے اس کو برطرف ہونے کا حکم دیں مگر خالد ذرا چالاك آدمی ہے علماء سے کبھی امامت کی تعریف،کبھی خلیفہ کے معنی،کبھی وظیفہ امامت کے معنی دریافت کرتا ہے۔کبھی کہتا ہے کہ امام کی تعریف میرے پر صادق آتی ہے یا کہ بکرپر۔غرض کہ ایسی باتوں میں وقت ٹال دیتا ہے،یہاں کے علماءکو یہ مسئلہ مصرحہ طور پر اور مفصل کسی کتاب میں نہیں ملتا اور ایسی طاقت نہیں کہ اجزائے مسئلہ کو ابواب مختلفہ ونظائر متفقہ سے استنباط کرکے فیصلہ کریں،چونکہ حضور پر نور بفضلہ تعالٰی  مذہب مہذب حنفی کے بلکہ جمیع مذاہب حقہ کے مجتہد ہیں اور موافق ومخالف سب کے مسلم ہیں لہذا التماس کہ خالد باوجود دینے وظائف امامت کے بکر کوبہ اقرار خلافت سولہ سترہ برس تك مثل خلفائے پیشیں کے شرعًا مستقل امام متصور ہوگا۔حالانکہ مقتدی لوگ کل سوا دوچار آدمیوں کے خالد کے اس فرار عن الاقرار سے سخت ناخوش ہیں یا مثل خلفائے پیشیں کے خالد بھی خلیفہ ہی ہوگا،واضح ہوکہ اس ملك میں کئی جگہ دستور ہے کہ ایك شخص ایك مسجد کا امام ہوتا ہے اور باقی مساجد میں خود امامت کا مباشر تو نہیں ہوتا مگر ایسا تصرف رکھتا ہے کہ ان مساجد کے عمدہ عمدہ منافع خود لے لیا کرتا ہے اور معمولی قسم کی آمدنی خلیفہ کو دیا کرتا ہے اور چاہتا ہے تو اسے موقوف کردیتا ہے اور دوسرا اس کی جگہ قائم کردیتا ہے اور چونکہ اول ہی سے یہ بات قرار داد بین الاصل والخلیفہ ہوا کرتی ہے اور مقتدی لوگ بکر کے اس تصرف پرکسی طرح کے معترض نہیں ہوتے،کچہری انگریزی میں بھی ایك آدھ مقدمہ اس امر کاکیا گیا جس میں اصل ہی کامیاب ہوا۔بینواتوجروا۔

الجواب:

یہ مسئلہ تین مسائل پر مشتمل:اول: آیا امام دوسرے کو اپنا نائب مقرر کرسکتا ہے؟

دوم: اگر کرسکتا ہے تو وظائف امامت کا مستحق وہ اصل ہوگا اور نائب صرف اسی قدر لے سکے گا جو اصل نے اس کے لئے بتایا ازانجا کہ فعل وخدمات امامت یہ نائب بجالاتا ہے،یہی جملہ معلومات کا مستحق ہوگا اور اصل معزول سمجھا جائے گا۔

سوم: اگر اصل معزول نہیں بلکہ وہی اصل امام اور یہ اس کا مقرر کیا ہوا نائب ہے تو آیا امام اصل کو اس نائب کے معزول کر دینے اور اس کی جگہ دوسرا نائب مقرر کرنے کا اختیار ہے یانہیں؟ بحمداﷲ یہ تینوں مسائل واضح ومصرح ہیں۔

مسئلہ اولٰی: ہاں امام دو سرے کو اپنا نائب مقرر کرسکتا ہے،فتاوٰی خلاصہ میں ہے:

الامام یجوز استخلافہ بلااذن بخلاف القاضی وعلی ھذالاتکون وظیفتہ شاغرۃ وتصح النیابۃ[1]۔

اما م کے لئے بلااجازت نائب مقرر کرنا جائز ہے بخلاف قاضی کے،اسی بنیاد پر اس کا وظیفہ غیر مقرر ہوتا ہے اور نیابت صحیح ہے(ت)

مسئلہ ثانیہ: وظائف امامت کا مستحق اصل ہوگا اور نائب صرف اس قدر لے سکے گا جو اصل نے اس کے لئے معین کیا۔فتاوٰی خیریہ میں ہے:

یجب العمل بما علیہ الناس وخصوصا مع العذر،وعلی ذٰلك جمیع المعلوم للمستنیب ولیس للنائب الا الاجرۃ  التی استأجرہ بھا[2]۔

اس پر عمل واجب ہے جو لوگوں میں معروف ہے خصوصًا عذر کی صورت میں،لہذاتمام معلومات اصل امام کے لئے ہوں گے نائب کے لئے فقط اتنی ہی اجرت ہوگی جس پر اصل نے اس کو رکھا ہے۔(ت)

مسئلہ ثالثہ: صورت مذکورہ میں وہ نائب جبکہ اس کےلئے اصل کچھ مقرر کرے اصل کا اجیر ہوتا ہے پھر اگر وہ اجرت معینہ ہے تو اجارہ صحیحہ ورنہ فاسدہ،اور اگر کچھ مقرر نہ کرے نہ نصًا نہ عرفًا،تو اجیر بھی نہیں محض بیگاری ہوتا ہے،صورت اخیرہ میں تو ظاہر ہے کہ نائب کوئی استحقاق اصلًا نہیں رکھتا اس کاکام اصل کی طرف سے ایك مفت ستخدام تھا اصل جس وقت چاہے اسے منع کرسکتاہے نہ اس صورت میں وہ کسی معاوضہ کا مستحق ہوتا ہے،ایسی ہی صورت پر قنیہ میں ہے:

ان النائب لایستحق شیئا من الوقف لان الاستحقاق بالتقریر ولم یوجد[3]۔

بیشك نائب وقف میں سے کسی شیئ کا مستحق نہیں ہوتا کیونکہ استحقاق تو مقر رکرنے سے ہوتا ہے جو پایا نہیں گیا۔(ت)

اور صورت سابقہ میں وہ نائب اجیر ہے،بحرالرائق میں ہے:النائب وکیل بالاجرۃ[4] (نائب وکیل بالاجرۃ ہوتا ہے۔ت)پس صورت ثانیہ میں کہ اجارہ فاسد ہے آپ ہی ہر وقف اختیار فسخ ہونا درکنار خود وجوب فسخ ہے کہ اجارہ فاسدہ معصیت ہے اور معصیت کا ازالہ فرض،یہاں تك کہ اصل و نائب باہم فسخ نہ کریں تو حاکم پر فرض ہے کہ جبرًا اسے فسخ کردے کما عرف ذٰلك فی البیوع(جیسا کہ بیوع میں معلوم ہوچکا ہے۔ت)درمختار میں ہے:

ولذالایشترط فیہ قضاء قاض لان الواجب شرعا لایحتاج للقضاء درر[5]۔

اسی واسطے ا س میں قضا قاضی شرط نہیں کیونکہ جو شرعًا واجب ہو وہ قضاء کا محتاج نہیں ہوتا،درر۔(ت)

اور صورت اولٰی میں جبکہ عام رواج یہی ہے کہ کوئی مدت اجارہ معین نہیں کی جاتی کہ سال بھر کیلئے تجھے امام کیا یا چھ مہینے کے لئے بلکہ صرف امامت اور اس کے مقابل ماہوار اتنا پانے کا بیان ہوتا ہے تو اجارہ صرف پہلے مہینے کےلئے صحیح ہوا اور ہر سرماہ اجیر ومستاجر ہر ایك کو دوسرے کے سامنے اس کے فسخ کردینے کا اختیار ہوتا ہے۔ درمختار میں ہے:

 



[1]                 ردالمحتار بحوالہ خلاصہ کتاب الوقف فصل یراعی شرط الوقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۴۰۸،فتاوٰی خیریہ بحوالہ خلاصہ کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۱۵۱

[2]                 فتاوٰی خیریہ بحوالہ خلاصہ کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۱۵۱

[3]                 ردالمحتار بحوالہ القنیۃ کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۴۰۸،العقود الدریۃ بحوالہ بحرالرائق کتاب الوقف الباب الثالث ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/ ۲۲۵

[4]                 بحرالرائق   کتاب الوقف  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۲۳۱

[5]                 درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۸

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن