30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دونوں مسجدوں کو ایك کرنا ناجائز ہے۔اب علمائے اہلسنت عم فیوضہم کی خدمات عالیہ میں عرض ہے کہ بیچ کی دیوار توڑ کر دونوں مسجدوں کو ایك کرنے سے نمازیوں کوگنجائش نماز کی اچھی طرح سے ہوجائے گی اب اس صورت میں بیچ کی دیوار کو توڑ کر مسجد کو ایك کرنا جائز ہے یانہیں؟ اور مسجد کی دیوار چھوٹی جماعت والے توڑنے کا انکار کریں تو ان کی مسجد میں نماز جائز ہوگی یانہیں؟
الجواب:
ہاں اہل محلہ کو اختیار ہوتا ہے کہ نماز کے لئے دو مسجدوں کو ایك کردیں،اس کو ناجائز کہنا محض غلط و باطل ہے۔درمختار میں ہے:
لھم ای لاھل المحلۃ نصب متولی وجعل المسجدین واحد وعکسہ لصلاۃ لالدرس اوذکر فی المسجداھ[1]۔
اہل محلہ کو اختیار ہے کہ وہ مسجد کا متولی مقرر کریں،اور یہ بھی اختیار ہے کہ دو مسجدوں کو ایك یا ایك کو دو کرلیں نماز کےلئے نہ کہ درس وذکر کے لئے اھ(ت)
مگر چھوٹی جماعت والے اگر خوف نزاع وجدال وغیرہ کسی مصلحت صحیحہ شرعیہ کے باعث دیوار توڑ کر مسجدیں ایك کرنے سے انکار کریں تو ان پر بھی جبر نہیں پہنچتا کہ جب ایك مسجد کو دو کرلینا جائز ہے کما تقدم عن الدر ان لھم جعل مسجد واحد مسجدین(جیسا کہ در کے حوالے سے گزرا کہ ایك مسجد کو دو کرنے صرف کا اہل محلہ کو اختیار ہے۔ت)تو دو کو دو رکھنا کیونکر ممنوع ہوسکتا ہے،ہاں اگر اصلًا کوئی وجہ شرعی نہ ہو صرف ضد کے سبب تفریق جماعت کریں تو ان کی بات نہ سنی جائے گی کہ اس صورت میں وہ متعنت یعنی بے جا ہٹ کرنے والے ہیں اور متعنت کا قول مسموع نہیں ہوتا،
فی الھدایۃ وغیرہا من القسمۃ الاول منتفع بہ فاعتبر طلبہ والثانی متعنت فلم یعتبر[2]۔
ہدایہ وغیرہ میں قسمت کے باب میں ہے کہ اول اس سے نفع حاصل کرنے والا ہے لہذا اس کا مطالبہ معتبر ہے اورثانی ہٹ دھرمی کرنے والا ہے اس کا مطالبہ معتبر نہیں(ت)
درمختار میں قبیل استصناع ہے:
الاصل ان من خرج کلامہ تعنتا فالقول لصاحبہ بالاتفاق[3]۔
قاعدہ یہ ہے کہ جس کا کلام تعنت یعنی ہٹ دھرمی پر مبنی ہو اس کے مخالف کا قول بالاتفاق معتبر ہوگا۔(ت)
تو حسب صوابدید اکثر اہل جماعت اس دیوار فاصل کو علیحدہ کردیا جائے گا،ردالمحتار میں ہے:
فی التتار خانیۃ سئل ابوالقاسم عن اھل مسجداراد بعضھم ان یجعلوا المسجد رحبۃ والرحبۃ مسجدا او یتخذ وا لہ بابا اویحولوا بابہ عن موضعہ وابٰی بعض ذٰلك قال اذا اجتمع اکثرھم وافضلھم لیس للاقل منعھم[4]۔
تاتارخانیہ میں ہے کہ امام ابوالقاسم سے یہ سوال کیا گیا کہ بعض اہل مسجد ایك مسجد کو صحن اور صحن کو مسجد بنانا،مسجد کا دروازہ بنانااور سابق دروازے کو اس کی جگہ سے تبدیل کرنا چاہتے ہیں جبکہ بعض اس کاانکار کرتے ہیں تو کیا حکم ہے،آپ نے فرمایا کہ اکثر وافضل حضرات متفق ہیں تواقل کو اختیار نہیں کہ انہیں منع کریں(ت)
یوں ہی اگر اس دیوار وتعدد کے باعث اہل محلہ پر مسجدیں تنگی کرتی ہیں کہ ایك تو دیوار نے جگہ گھیری دوسرے دواماموں کے باعث کمی ہوئی کہ خود امام ایك صف کامل کی جگہ لیتا ہے اس وجہ سے اہل محلہ دونوں مسجدوں میں پورے نہیں آتے اور دیوار توڑ کر ایك جماعت کردینے سے وسعت ہوجائیگی تو اس صورت میں وہ دیوار خواہی نخواہی جدا کردی جائیگی کہ تنگی مسجد کی ضرورت سے اس کے قریب کی زمین یا مکان یا دکان مملوك بلارضا مندی مالك بقیمت لینے کا اختیار حاکم کوہے،تو مسجد کو مسجد میں ملالینا بدرجہ اولٰی،درمختار میں ہے:
توخذ ارض ودار وحانوت بجنب مسجد ضاق علی الناس بالقیمۃ کرھا درر وعمادیۃ[5]۔
مسجداگر تنگ ہوتو اس کے پہلو میں جو زمین،مکان یا دکان ہے وہ قیمت دے کر جبرامسجد میں داخل کی جاسکتی ہے،دررو عمادیۃ۔(ت)
اور بہر حال چھوٹی جماعت والوں کے انکار کرنے سے ان کی مسجد میں نمازناجائز ہونے کی کوئی وجہ نہیں خواہ ان کا انکار سنا جائے یا نہیں کہ آخر وہ مسجد ہی ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
کتبہ عبدالنبی نواب مرزا عفی عنہ الجواب صحیح۔واﷲ تعالٰی اعلم

نقل فتوائے دہلی
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد جس میں پنجگانہ نماز تین ماہ سے ہورہی تھی متصل اس کے اورثانی مسجد بنائی گئی اس ضد پر کہ محلہ والوں کے دو گروہ ہوجائیں اور آپس میں تفرقہ پڑجائے اور اگلی مسجد کی آبادی میں فرق آئے پس اس ثانی مسجد کے لئے کیاحکم ہے؟آیا اس میں نماز جائز ہے یانہیں اور اسکو مسجد کی تعمیر کا حکم دیا جائے یانہیں؟
الجواب:
صورت مسئولہ میں مسجد ضرار کا حکم رکھتی ہے یعنی اس میں نماز پڑھنا منع ہے اور حاکم وقت کو چاہئے کہ اس کو مسجد کی صورت میں نہ رہنے دے خواہ اس کو ہدم کرادیا جائے یا کوئی مکان دوسرا بنادے جیسا کہ تفسیر جامع البیان میں آیہ
" وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا"الخ[6] اوروہ لوگ جنہوں نے ضرر کے لئے ایك مسجد بنائی الخ۔ت)کی تفسیر میں لکھا ہے عبارت اس کی بلفظہ یہ ہے:
[1] درمختار کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۴
[2] الہدایۃ کتاب القسمۃ مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۱۱
[3] درمختار کتاب البیوع باب المسلم مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۴۹
[4] ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت۳/ ۳۸۳
[5] درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۲
[6] القرآن الکریم ۹/ ۱۰۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع