30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وقف میں شہادت تسامع یعنی سماعت کی گواہی مقبول ہے اگرچہ گواہ سماعت کی تصریح کردیں کیونکہ بسااوقات گواہ کی عمر بیس سال ہوتی ہے اور وقف سوسال سے ہوتا ہے،چنانچہ قاضی کو یقین سے علم ہوتا ہے کہ گواہ سنی ہوئی گواہی دے رہاہے نہ کہ دیکھی ہوئی،لہذا اس صورت میں سماع سے خاموشی اور تصریح کرنے میں کوئی فرق نہ ہوگا۔ظہیرالدین مرغینانی نے اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے جیسا کہ فصول عمادیہ میں ہے۔(ت)
فتاوٰی خیریہ جلد دوم ص۲۷میں ہے:
فی الکنز لایشھد بمالم یعاینہ الافی النسب والموت والنکاح والدخول وولایۃ القاضی واصل الوقف ومثلہ فی المختار وتنویر الابصار والکل من ھٰؤلاء اطلق فعم المتقادم وغیرہ الخ[1]۔
کنز میں ہے کہ جب تك گواہ نے معائنہ نہ کیا ہو وہ گواہی نہیں دے سکتا سوائے نسب،موت،نکاح،دخول،ولایت قاضی اور اصل وقف کے،اور مختار وتنویر الابصار میں بھی اسی کی مثل ہے اور ان سب نے مطلق رکھا قدیم وجدید کو عام ہیں۔(ت)
ہدایہ جلد دوم ص۱۰۴و۱۰۵میں ہے:
اماالوقف فالصحیح انہ تقبل الشہادۃ بالتسامع فی اصلہ دون شرائطہ لان اصلہ ھوالذی یشتھر[2]۔
صحیح یہ ہے کہ شہادۃ تسامع اصل وقف میں جائز ومقبول ہے نہ کہ شرائط وقف میں،کیونکہ اصل وقف ہی شہرت پذیر ہوتاہے۔(ت)
بالجملہ شخص مذکور کا قول محض مدفوع وسخت باطل و نامسموع ہے،اس پر فرض ہے کہ مسجدکے مناروں دیواروں اور اس کی اور اس کے حجرہ وغیرہ کی چھتوں کو اپنے ظالمانہ تصرفوں سے فورًا پاك کردے،جوکچھ عمارت مسجد کے پکھے وغیرہ کسی پر بنائی ہے فورًا ڈھادے،جتنی راہیں اس کے یا کتوں کے آنے جانے کی مسجد یا حجرہ مسجد کی سقف پر ہیں فورًا بند کردے،وہ نہ مانے تو مسلمانوں پر فرض ہے کہ باضابطہ چار ہ جوئی کرکے اس کا دست تعدی مسجد سے کوتاہ کریں اور بالجبر ان ناپاك تصرفات کو مسجد سے دور کرادیں،واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۵۴: مرسلہ حکیم سراج الحق صاحب بریلی مسجد بدرالاسلام ۲۰جمادی الآخر ۱۳۲۸ھ دوشنبہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے عرصہ ۴۵ سال سے خارج ازمسجد یعنی حوالی مسجد کی اراضی میں مکان بنالیا ہے اس میں رہتا ہے اس نے چند عرصہ سے یعنی چھ ماہ سے اس مکان میں کچھ مرغیاں کے بچے واسطے اپنے کھانے کے خرید کرکے پرورش کری جب اس کو فہمائش کی گئی تو اس نے فورًامرغیوں کو علیحدہ کردیا اور بحضوری قلب اﷲ تعالٰی سے توبہ بھی دل سے کی،علاوہ اس کے اور جو جو الزام کہ جھوٹے ذمہ زید کے لگائے گئے تھے ان سے زید توبہ کرتا ہے،اور کہا کہ یہ محض مجھ پر جھوٹا اتہام ہے آیا اس توبہ حضوری قلب سے نزدیك خداوند عالم کے پاك ہوگیا یا نہیں؟
الجواب:
اللہ توبہ قبول کرتا ہے اگر اس نے سچے دل سے توبہ کی ہے تو اﷲ تعالٰی کے نزدیك اس گناہ سے پاك ہوجائے گا مگر حوالی مسجد یعنی فنائے مسجد میں جدید مکان بطور خود بنالینا اور اس کو اپنا مسکن کرلینا اور وہیں پاخانہ پیشاب کرنا یہ بھی حرام ہے اس کی توبہ سچی جب ہے کہ اپنے ان تصرفات کو بھی زائل کرے اور مسجد کو گھر نہ بنائے حوالی مسجد کا حکم بھی مثل مسجد ہوتا۔فتاوٰی عالمگیری میں ہے:
المسجد اذا جعل حانوتا او مسکنا تسقط حرمتہ وھذالایجوز والفناء تبع للمسجد فیکون حکمہ حکم المسجد کذافی محیط السرخسی[3]۔
یعنی مسجد کو اگر دکان یا مکان بنالیا جائے تو اس کی حرمت ساقط ہوگی بے ادبی بے حرمتی ہوگی اور یہ حرام ہے اور فنائے مسجد تابع مسجد ہے تو اس کا حکم بھی مثل حکم مسجد ہے،ایسا ہی محیط امام شمس الائمہ سرخسی میں ہے۔
اور یہ خیال کہ بہت مساجد میں مکان پیش امام و مؤذن کی سکونت کو بنے ہوئے ہیں نفع نہ دے گا،علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ مسجد بن جانے سے پہلے اگر بانی مسجد ایسا کوئی مکان بنادے تو جائز ہے اور اس کے بعد اگر خود بانی مسجد آئے اور بنانا چاہے تو اجازت نہ دیں گے اگر چہ وہ یہ ظاہر کرے کہ اول ہی سے میری نیت اس کے بنانے کی تھی،درمختار میں ہے:
لوبنی فوقہ بیتا للامام لایضرلانہ من المصالح امالوتمت المسجدیۃ ثم ارادالبناء منع ولو قال عنیت ذٰلك لم یصدق تاتارخانیۃ فاذا کان ھذافی الوقف فکیف بغیرہ فیجب ھدمہ ولو علٰی جدار المسجد۔[4] واﷲ تعالٰی اعلم۔
اگر مسجدکے اوپر واقف نے امام کے لئے مکان بنایا تو حرج نہیں کیونکہ یہ مصالح مسجد میں سے ہے لیکن جب مسجدیت تام ہوجائے پھر اس پر مکان بنانا چاہے تو اس کو منع کیا جائے گا،اگر وہ کہے کہ میں نے پہلے سے اس کا ارادہ کیا تھا تو ا سکی تصدیق نہ کی جائے گی،تاتارخانیہ۔جب خود واقف کا یہ حکم ہے توغیر واقف کو کیسے اجازت ہوسکتی ہے،لہذا ایسے مکان کو گرانا واجب ہے اگر چہ مسجد کی دیوارپر ہو۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
مسئلہ۱۵۵: ازاحمد آباد گھیسا محلہ خماشہ مرسلہ عبدالرحمٰن صاحب مع جماعت ۱۰شعبان ۱۳۲۹ھ
حضرت مولانا ومخدومنافاضل اجل عالم مولوی احمد رضاخاں صاحب!بعد آداب وتسلیمات کے آپ کی خدمت فیضدرجت میں دست بستہ ملتمس ہوں کہ یہاں احمد آباد میں اسلام رخنہ اندازہ ہورہی ہے آپ کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے وارث انبیاء کیاہے واسطے اسلام میں اتفاق رکھنے کے،بجائے اس کے اسلام میں نفسانیت کی وجہ سے نااتفاقی از حد پھیل رہی ہے،کئی فتووں پر آپ کی مہر دیکھی جس سے معلوم ہوا کہ آپ ہر دو جانب کی گفت وشنید نہیں سنتے،ایك ہی طرف کی بات سن کر حکم لگانا ناانصافی ہے،خیر یہاں ایك جھگڑا پڑا ہے،مسجد ایك مدت سے بن گئی ہے اورایك مسجد اب بن رہی ہے،ہر دو جانب کے فتوے نکلے ہیں مذکور دو فتوے آپ کی خدمت اقدس میں روانہ ہیں بغور ملاحظہ فرماکر جو حکم صحیح ہو روانہ کریں،آپ کی حق تحریر آنے سے ان شاء اﷲالعزیز شرمٹ جائے ایسی امید ہے،و السلام۔
نقل فتوائے بریلی
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شہر احمد آباد میں محلہ تاجپور پانچ پیلی میں سنت جماعت چھیپوں کی جماعت میں عرصہ چند روز کا ہوا اختلاف دنیویہ کی وجہ سے دو ٹکڑے ہوگئے ہیں،ایك طرف آٹھ سو گھر ہیں اور ایك طرف پچاس گھر ہیں،دونوں فرقوں نے مکان مسجد بنانے کےلئے خرید کئے،چھوٹی جماعت نے مسجد کی بنیاد ڈالنی شروع کی،ان کو بڑی جماعت کی جانب سے سمجھا یا گیا کہ تمہاری مسجد کی مغرب کی جانب بڑی جماعت کا مکان ہے،ان دونوں مکانوں کو مسجد بناؤ اور بنانے میں ہم مال کی مدد میں شریك رہیں گے،انہوں نے یہ وعدہ کیا کہ ہم فی الحال مسجد بناتے ہیں اور جب مغرب کی جانب مسجد بڑی جماعت والوں کی بنے گی تو ہم بیچ کی دیوار توڑ ڈالیں گے اب بڑی جماعت کی بھی مسجد قریب تیار ہونے کے ہے،اب چھوٹی جماعت کو کہا جاتا ہے کہ بیچ کی دیوار توڑ کر دونوں مسجدوں کو ایك کردو،اب چھوٹی جماعت کے بعض حضرات فرماتے ہیں کہ بیچ کی دیوار توڑ کر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع