دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

ہوئی ہے تو اس کو(بغرض توسیع)مسجد میں داخل کرلینا جائز ہے اھ اور یہ بات معلوم ہے کہ جہاں قاضی نہ ہو وہاں جماعت مسلمین قاضی کی مانند ہے، اور درمختار میں ہے کہ مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کا ثواب صرف اسی مسجد کے ساتھ مختص نہیں جو عہد رسالت میں تھی۔(ت)واﷲ تعالٰی  اعلم۔

مسئلہ۱۵۲:              ازضلع کبرے ڈاکخانہ مونڈا سوداران مقام نجیب نگر مسئولہ سردار مجیب رحمان تعلقہ دار               ۱۹شوال۱۳۲۷ھ

عالیجناب حاجی مولوی احمد رضاخان صاحب زاد فیوضکم،پس از تسلیم مسنون نیاز مشحون! گزارش مدعا یہ ہے کہ راقم نے جو مسجد جدید تعمیرکرائی اس میں ایك مختصر ساباغیچہ ہے جس میں اکثر اشجار ثمر دار ہیں اور مرچیں وغیرہ بھی ہوتی ہیں۔آپ کی التماس ہے کہ براہ کرم حکم شرع شریف سے معزز فرمائیے کہ ان اشیاء کا استعمال جائز ہے یانہیں؟اگر استعمال جائزہے تو کس طریقہ سے؟جواب سے معززکیا جاؤں۔

الجواب:

خاص مسجد میں باغیچہ ہونے کے تو کوئی معنی ہی نہیں۔اگر یوں ہے کہ جس زمین کا ایك قطعہ مسجد کیا ہے اس کے دوسرے قطعہ میں باغیچہ ہے تو اس صورت میں اگر باغیچہ مسجد پر وقف نہ کیا گیا تو وہ ملك اصل مالك پر باقی ہے اسے اختیار ہے کہ اس کے پھل جو چاہے کرے،اور اگر وہ بھی مسجد پر وقف کردیا ہے تواب اپنے صرف میں لانا اسے جائز نہیں بلکہ پھل بیچ کر مسجد کے صرف میں لائے۔اور اگر واقف نے یہی کیا ہے کہ جس زمین میں باغیچہ ہے خود اسی کو مسجد کردیا ہے یعنی باغیچہ کو وقف علی المسجد نہ کیا بلکہ خود اس کی زمین کو مسجد کردیا تو اس کے پھل توڑ کر اپنے صرف میں لائے اور درخت کاٹ کر زمین ہموار کرکے مسجد بنائے۔واﷲ تعالٰی  اعلم۔

مسئلہ۱۵۳:                             مسئولہ منشی حاجی محمد ظہور صاحب                              ۲۳ربیع الآخر ۱۳۲۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اہلسنت وجماعت تابع شرع دین محمد صَلَّی اللہُ تعالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَبیچ اس مسئلہ کے کہ ایك مسجد لب سڑك شارع عام جس کے تین طرف راستہ اور دودروازے شرقی وجنوبی متصل بازار ہے اس کے بانی جو تھے وہ جوار رحمت میں ہیں اب مرمت وسفیدی ونگرانی اہل محلہ کرتے ہیں،چند عرصہ ہواجو ایك مسماۃ نے از قول پنجابیان اس قدر مسجد میں اور اضافہ کیا ہے یعنی ایك درجہ مع مسافر خانہ زیر وبالا وچاہ اندرون مسجد ودو غسل خانہ مسقف وسقایہ و روکا ر دروازہ مسجد بلندی مینار ہائے مع کلس طلائی واز سر نو فرش واسترکاری والماریاں وحجرہ ودکانات زیریں برائے صرف مسجد تعمیر کرائیں ملحقہ مسجد مکان ایك شخص کا ہے جس نے بعد اس نو تعمیر کے چند عرصہ کے بعد اپنے مکانات کو بلند کیااور دیوار پاکہائے مسجد پر اپنے بالاخانہ کی دیواریں اور دروازے لگائے جس میں مینار مسجد کے آگئے اور بذریعہ ایك دروازہ کے جو چھت مسجد پر ہے آمدورفت آدمیوں اور کتوں کی اکثرچھت مسجد پر رہتی ہے اور مسافر خانہ کی چھت پر اپنی کھپریل رکھ لی اور حجرہ مسجد کی چھت کو اپنے بالاخانہ کے صحن میں ڈال لیا اس شخص کو ہر چند منع کیا مگر نہ مانا،زبانی اور تحریر کے ذریعہ سے اس نے ظاہر کیا کہ یہ مسجد وقف نہیں ہے یہ مسجددار کا حکم رکھتی ہے مثل حمام اور چاہ کے میرے مورثان کی ہے اور اب میری ہے یہ مال موقوفہ نہیں ہے میری جائداد ہے حالانکہ اس مسجد میں نمازیں باجماعت پنجگانہ اور تراویح رمضان شریف وختم قرآن مجید ونماز جمعہ وعیدین بہ ہجوم نمازیان محلہ ودیگر مسلمانان مدام پڑھتے ہیں اور پابندی امامت ومؤذنی وقیام طلبا ومسافران کی رہتی ہے تو ایسی صورتوں میں یہ مسجد حکم وقف کا رکھتی ہے یا مکان کا جو وراثۃً پہنچ سکتاہے مع حوالہ کتاب وصفحہ کے جواب عطا فرمایا جائے۔

الجواب:

وہ مسجد یقینا مسجد ہے،شخص مذکور کا اسے حکم دار میں بتانا اور اپنے مورثوں کی ملك ٹھہرانا ظلم و غصب ہے اور واحد قہار کی ملك دبابیٹھنا ہے جب وہ عام طور پرمسجد مشہور ہے،مدتوں سے پنجگانہ جماعتیں جمعے،عیدین،تراویح وغیرہا مثل عام مساجد ہوتی ہیں،کوئی حق ملك اس میں غیر خدا کے لئے ثابت نہیں تو اسے مسلمان تو مسلمان جو غیر مذہب والا بھی دیکھے گا مسجد ہی جانے گا،شخص مذکور کے باپ دادا کی دار ہونے کا اصلًا گمان بھی نہ کرسکے گا،صورت مسجد کی صفت مسجد کی،برتاؤ مسجد کا،شہرت مسجد کی،ایسے روشن ثبوتوں کے بعد بھی کسی غاصب کا دعوی ملکیت سن لیا جائے تو ظالم لوگ تمام جہان کی مسجدیں دبابیٹھیں،جس کے گھر کے پاس جو مسجد ہو وہ کہہ دے کہ اس کے باپ کا دار یا دادا کا حمام ہے،آج کل دو چار آنے تك گواہیاں سستی ہوگئی ہیں، آٹھ آنے میں دو گواہ دے دے،چلئے فراغت شد،اللہ  واحد قہار کی مسجد انکے باپ دادا کا ترکہ ہوگئی،تمام ہندوستان میں وہ گنتی کی کے مسجدیں ہیں جن کے باضابطہ وقفنامے لکھے گئے ہیں اور وہ دستاویزیں محفوظ ہوں اور ان کے شاہد موجود ہوں تو یہ وہ ظالمانہ طریقہ ہے جس سے دنیا بھر کی تمام مسجدیں ظالموں غاصبوں کا گھر بن جائیں اس سے بڑھ کر اور کیا ظلم ہو گا،اور ظلم بھی کیسی حماقت کا جسے مسلمین تو مسلمین کوئی سمجھ وال غیر مذہب بھی قبول نہیں کرسکتا،بھلا مسجد تو مسجد ہے جس کی صورت جس کی محراب جس کے منارے وغیرہا خود دور سے گواہی دیتے ہیں کہ یہ اللہ  واحد قہار کا گھر ہے۔تمام کتابوں میں تصریح ہے کہ عام وقفوں کے ثبوت کوصرف شہرت کافی ہے پھر اس سے زیادہ اور شہرت کیا ہوگی کہ تمام مسلمان اسے مسجد جانتے ہیں،مسجد کہتے ہیں،اذانیں ہوتی ہیں،پنجگانہ جماعتیں ہوتی ہیں۔جمعہ عیدین تراویح ختم کی امامتیں ہوتی ہیں۔مسلمان اپنے مصارف سے اس کی مرمت،اس میں اضافہ،اس کی عمارت کرتے ہیں۔ایسی حالت کا نام نہ سنایا پکا بے دین بے حیا جو ساری دنیا کی آنکھوں پر اندھیری ڈال کر خدا کا مال غصب کرنا چاہے،والعیاذ باﷲ تعالٰی ۔درمختار جلد۳صفحہ ۶۲۴میں ہے:

تقبل فیہ الشہادۃ بالشھرۃ حفظا للاوقاف القدیمۃ عن الاستھلاک[1]۔

وقف میں شہادۃ شہرت بھی مقبول ہے تاکہ اوقاف قدیمہ ہلاك ہونے سے محفوظ رہیں۔(ت)

فتاوٰی قاضیخاں جلد چہارم ص۲۳۳میں ہے:

اذا شھد الشھود ما تجوز بہ الشھادۃ بالسماع وقالو الم نعاین ذلك ولکنہ اشتھر عندنا جازت شھادتھم[2]

جب گواہوں نے ان معاملات میں گواہی دی جن میں شہادت سماعت جائزہے،اور کہا کہ ہم نے معائنہ نہیں کیا لیکن یہ ہمارے نزدیك مشہور ہے،تو ان کی گواہی جائز ہے۔(ت)

فتاوٰی عالمگیریہ جلد سوم ص۱۳۷میں ہے:

وتقبل الشھادۃ فی الوقف بالتسامع وان صرحابہ لان الشاھد ربما یکون سنہ عشرین سنۃ وتاریخ الوقف مائۃ سنۃ فیتیقن القاضی ان الشاھد یشھد بالتسامع لابالعیان فاذن لافرق بین السکوت والافصاح اشار ظہیر الدین المرغینانی الی ھذاالمعنی کذافی الفصول العمادیۃ[3]۔ ملتقطا۔

 



[1]       درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸

[2]                                           فتاوٰی قاضیخان کتاب الشہادات فصل فی الشاہد یشہد الخ نولکشورلکھنؤ ۳/ ۵۵۵

[3]                                           فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب السادس فی الدعوٰی نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۳۸

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن