30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تکلیف پاتے،تتق والوں نے کہا ہم نیچے جہاز میں سوراخ کر لیں کہ یہیں سے پانی بھر لیا کریں کہ اوپر جا نے میں چھتری والوں کو ایذا نہ ہو،اب اگر چھتری والے انہیں نہ روکیں اور سکوت کریں تو نرے وہی نہ ڈوبیں گے بلکہ یہ اور وہ سب ڈوبیں گے،اور روك دیں تو یہ اور وہ سب نجات پائیں گے۔یہی حال گناہ کرنے والوں اور باوصف قدرت انہیں نہ روکنے والوں کا ہے[1]رواہ البخاری والترمذی عن النعمان بن بشیر رضی اﷲ عنہما(اس کو امام بخاری وترمذی نے نعمان بن بشیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت کیا۔ت)اور فرماتے ہیں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ:پہلا نقص بنی اسرائیل میں یہ آیا کہ ان میں ایك گناہ کرتا دوسرااسے منع تو کرتا مگر اس کے نہ ماننے پر اس کے پاس اٹھنا بیٹھنا اس کے ساتھ کھانا پینا نہ چھوڑتا،اسکے سبب اﷲ تعالٰی نے ان سب کے دل یکساں کردئے اور ان سب پر لعنت اتاری[2]،رواہ ابوداؤد والترمذی وحسنہ عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ(اس کو ابوداؤد وترمذی نے حضرت ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کیا اور ترمذی نے اس کو حسن قرار دیا۔ت)اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا:
" كَانُوْا لَا یَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُؕ-لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ(۷۹)" [3]۔
یعنی ان پر لعنت اس لئے ہوئی کہ آپس میں ایك دوسرے کو برے کاموں سے روکتے نہ تھے بیشك یہ ان کا بہت ہی برا کام تھا۔
اللہ تعالٰی مسلمانوں کوتوفیق تو بہ نصیب فرمائے،آمین ! واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۵۰:ازکھٹور ضلع سورت کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسلمانان ہندوستان بہ تلاش معاش جنوبی افریقہ کے علاقہ ٹر نسوال میں جاکر آباد ہوئے،انہوں نے اس ملك میں مسجدیں بنائیں،اب وہاں کی گورنمنٹ نے ان پر طرح طرح کے ظلمی قانون نافذ کررکھے ہیں جن کی وجہ سے ان کا رہنا وہاں مشکل ہوگیا ہے،پس اگر یہ لوگ وہاں سے نقل مکان کریں تو دوسرے مذہب کے لوگ یقینا مسجدوں کے مالك بن کر ان کو اپنے تصرف میں لائیں گے،لہذا اس جگہ سے اثاث مسجد کو منتقل یا فروخت کرکے دوسری جگہ جہاں مسلمانوں کی آبادی ہے اس سے مسجد یں بنائی جائیں تو درست ہے یانہیں؟بینوا توجروا۔
الجواب:
اگر ٹرانسوال میں کبھی سلطنت اسلامی نہ ہوئی تھی جیسا کہ یہی ظاہر ہے یا ہوئی تھی اور پھر ایسی غیر قوم کا تسلط ہوگیا جس نے شعائر اسلام مثل جمعہ وجماعت واذان وغیرہما کی یکسر بندش کردی اگرچہ بعد کو اسی قوم یا اس کے بعد کسی اور قوم نامسلمان نے اجازت بھی دے دی ہوجب تو نہ مسلمان کو اس میں وطن بنانے کی اجازت ہے نہ وہ مسجدیں مسجدیں ہوئیں کما0 بنی مسجدا فی بریۃ کما فی الفتاوٰی العالمگیریۃ بل اضعف و ابطل(یہ تو جنگل میں مسجد بنانے والے شخص کی طرح ہوا،جیسا کہ عالمگیریہ میں ہے بلکہ ان مساجد مزعومہ کا حکم تو اس سے بھی زیادہ ضعیف اور کمزور ہے۔ت)اس حالت میں بلا تکلف ان مکانات کو جنہیں مسجد سمجھے ہوئے ہیں مع زمین وعملہ سب بیچ ڈالیں اور بیچ نہ سکیں تو عملہ توڑ کر جہاں چاہیں لے جائیں یہ عملہ یا قیمت بانیوں کی ملك ہیں اور اگر اس علاقہ میں پہلے سلطنت اسلام ہوچکی تھی اور بعد کی قوموں نے کبھی جملہ شعائر اسلام کی بندش نہ کی بعض ہمیشہ جاری رہے اور اب جاری ہیں تو اس صورت میں اگر مسلمانوں کو ان میں توطن وبنائے مسجد کی اجازت تھی مگر جب حالت وہ ہے جو سوال میں مذکور ہوئی تو عملہ بیچ کر یا بعینہ دوسری جگہ لے جانے اور وہاں اس سے مسجدبنانے کی اجازت ہے،
علی مافصلہ وانقحہ العلامۃ الشامی رحمہ اﷲ تعالٰی فی رد المحتار[4] وذکر ندامتہ علی افتائہ من قبل بخلاف ذلك فلیر اجع الیہ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
اس مسئلہ کی تفصیل و تنقیح علامہ شامی نے ردالمحتار میں فرمائی اور اس سے قبل حکم مذکور کے خلاف اپنے جاری کردی ایك فتوے پر افسوس وندامت کا اظہار کیا اس کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
مسئلہ۱۵۱:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں،اب ج د ہ ایك مسجد ہے،ا مسجد،ب صحن مسجد،ج نالی مسجد برائے وضو،د نالی مسجد،ہ متعلق صحن مسجد۔سوال یہ ہے کہ مقام ہ پر نماز پڑھنا اس قدر ثواب رکھتا ہے جس قدر مکان پر نماز پڑھنے سے ثواب ہے کیونکہ مقام ہ جمیع اہل محلہ کی رائے سے بڑھایا گیا ہے۔
الجواب:
جبکہ وہ زمین متعلق مسجد تھی اورجمیع اہل محلہ کے رائے سے جزو مسجد کرلی گئی تو اب وہ مسجد ہوگئی اور اس میں نماز کا وہی ثواب ہے جو مسجد میں۔
فی الھندیۃ عن المضمرات عن الکنزمسجد اراد اھلہ یجعل الرحبۃ مسجدا لھم ذلك [5] اھ وفیہا عن الخلاصۃ ارض وقف علی مسجد والارض بجنب ذٰلك المسجد وارادوا ان یزید وافی المسجد شیئا من الارض جاز لکن یرفعون الامرالی القاضی لیاذن لھم ومستغل الوقف کالدار والحانوت علی ھذا [6] اھ ومثلہ فی ش عن البحر عن الخانیۃ وفیہ عن الفتح ولو ضاق المسجد وبجنبہ ارض وقف علیہ حانوت جاز ان یوخذو یدخل فیہ [7] اھ ومعلوم ان الجماعۃ کالقاضی حیث لاقاضی وفی الدرالمختار لم یختص ثواب الصلٰوۃ فی مسجدہ صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَبما کان فی زمنہ[8]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
ہندیہ میں مضمرات سے بحوالہ کنز مذکور ہے کہ ایك مسجد والوں نے چاہا کہ برآمدہ کو مسجد بنا لیں توانہیں یہ اختیار ہے۔ اسی میں خلاصہ سے منقول ہے کہ ایك زمین مسجد پر وقف ہوئی اور مسجد کے پہلو میں ایك وقف زمین خالی پڑی ہے مسجد والوں نے چاہا کہ اس خالی زمین کا کچھ حصہ مسجد میں شامل کرکے مسجد میں اضافہ کرلیں تو جائز ہے،لیکن وہ یہ معاملہ قاضی کے سامنے پیش کریں تاکہ وہ انہیں ایسا کرنے کا اذن دے دے اور وقف آمدنی کے لئے گھر اور دکان کا بھی یہی حکم ہے اھ اور اس کی مثل ش میں بحر سے بحوالہ خانیہ ہے اور اس میں فتح سے منقول ہے کہ اگر کوئی مسجد تنگ ہے اور اس کے پہلو میں اسی مسجد کےلئے ایك وقف زمین ہے جس پر دکان بنی
[1] صحیح البخاری باب الشرکۃ ۱/ ۳۳۹ وکتاب الشہادات ۱/ ۳۶۹ قدیمی کتب خانہ کراچی،جامع الترمذی ابواب الفتن امین کمپنی دہلی ۲/ ۴۰
فـــــــ:کتاب الحظر والاباحۃ مکمل بارہ جلدوں میں سے اب مطبوعہ دسویں جلد ہے۔
[2] جامع الترمذی ابواب التفسیر سورۃ المائدۃ امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۳۰،سنن ابوداؤد کتاب الملاحم آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۴۰
[4] ردالمحتار کتاب الوقف مطلب فیما لوخرب المسجد اوغیرہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۷۱
[5] فتاوی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر فی المسجد نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۵۶
[6] فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر فی المسجد نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۵۶
[7] ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۸۴
[8] درمختار
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع