دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

سبحان اﷲ ! جب مباح وجائز بات بلا ضرورت شرعیہ کرنے کو مسجد میں بیٹھنے پر یہ آفتیں ہیں توحرام و ناجائز کام کرنے کا کیا حال ہوگا،مسجد میں کسی چیز کا مول لینا بیچنا خرید وفروخت کی گفتگو کرنا ناجائز ہے مگر معتکف کو اپنی ضرورت کی چیز مول لینی وہ بھی جبکہ مبیع مسجد سے باہر ہی رہے مگر ایسی خفیف و نظیف وقلیل شے جس کے سبب نہ مسجد میں جگہ رکے نہ ا سکے ادب کے خلاف ہو اور اسی وقت اسے اپنے افطار یا سحری کے لئے درکار ہو،

استثنیتہ تفقہا لانہ ماذون لہ فی احضار ھذاقطعا ولایؤمر بالخروج للاکل والشرب۔

اس چیز کا استثناء میں نے بطور تفقہ کیا ہے کیونکہ معتکف کو اس قسم کی اشیاء مسجد میں لانے کی قطعًا اجازت ہے اور اسے کھانے پینے کے لئے خروج کا حکم نہیں کیا جائے گا۔(ت)

اور تجارت کے لئے بیع وشرا کی معتکف کو بھی اجازت نہیں،اشباہ میں ہے:

یمنع من البیع والشراء لغیر معتکف ویجوزلہ بقدر حاجتہ ان لم یحضرالسلعۃ[1]۔

مسجد میں بیع وشراء غیر معتکف کےلئے ممنوع ہے اور معتکف کو بقدر حاجت جائز ہے جبکہ سامان مبیع مسجد میں نہ لایا جائے۔(ت)

ردالمحتار میں ہے:

بشرط ان لایکون للتجارۃ بل یحتاجہ لنفسہ او عیالہ بدون احضار السلعۃ[2]۔

بشرطیکہ وہ تجارت کے لئے نہ ہوبلکہ معتکف کوا پنی ذات یا اہل وعیال کے لئے اس کی ضرورت ہو اور وہ سامان بھی مسجد میں حاضر نہ کیا گیا ہو(ت)

حدیث میں ہے رسول اللہ  صَلَّی اللہُ تعالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَفرماتے ہیں:

جنبوامساجد کم صبیانکم ومجانینکم وشراء کم و بیعکم و خصوماتکم و رفع اصواتکم[3]۔رواہ ابن ماجۃ عن مکحول عن واثلۃ وعبدالرزاق فی مصنفہ عن مکحول عن معاذ بن جبل رضی اﷲ عنہما۔

اپنی مسجد کو بچاؤ اپنے ناسمجھ بچوں اور مجنونوں کے جانے اور خرید وفروخت اور جھگڑوں اورآواز بلند کرنے سے۔اس کو ابن ماجہ نے مکحول سے اور انہوں نے واثلہ سے روایت کیا جبکہ امام عبدالرزاق نے اپنے مصنف میں مکحول سے اور انہو ں نے حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت فرمایا۔ت)

رسول اللہ  صَلَّی اللہُ تعالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَفرماتے ہیں:

اذارأیتم من یبیع او یبتاع فی المسجد فقولوا لااربح اﷲ تجارتك واذا رأیتم من ینشد ضالۃ فی المسجد فقولوالارد اﷲ علیک[4]۔رواہ الترمذی وقال حسن صحیح والنسائی وابن خزیمۃ والحاکم بسند صحیح عن ابی ھریرۃرضی اﷲ تعالٰی  عنہ۔

جب تم کسی کو مسجدمیں کچھ بیچتے یا مول لیتے دیکھو تو اس سے کہو اللہ  تیری تجارت میں نفع نہ دے،او رجب کسی کو دیکھو کہ اپنی کوئی گم شدہ چیز مسجد میں لوگوں سے پوچھتا ہے تو اس سے کہو اللہ  تجھے تیری چیز نہ ملائے(اس کو امام ترمذی نے روایت کیا اور فرمایا کہ یہ حسن صحیح ہے۔نیز امام نسائی،ابن خزیمہ اور امام حاکم نے سند صحیح کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت فرمایا۔ت)

دوسری صحیح روایت میں ارشاد فرمایا:

قولوالاردھا اﷲ علیك فان المساجد  لم تبن لھذا[5]۔ رواہ مسلم عنہ رضی اﷲ تعالٰی  عنہ۔

اس سے کہو اللہ  تیری گمشدہ چیز تجھے نہ ملائے مسجد یں اس لئے نہیں بنی ہیں کہ ان میں آکر گمشدہ چیزوں کی تفتیش کرو(اس کو امام مسلم نے حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت فرمایا۔ت)

سبحان اﷲ! جب دوسرے کا مال بخوشی برضاورغبت دام دے کر مول لینے کی بات چیت کرنے پر یہ احکام ہیں تو پرایا مال بلارضابلااجازت غصبًا پکڑلینے کے لئے مسجد میں اپنے کبوتر چھوڑنا،دانہ پانی ڈالنا،قابو چلے تو پکڑلینا کس درجہ اشد عظیم وبالوں کا موجب ہوگا،اور بٹیر بازی کہ ان کے لڑانے سے عبارت ہے اس سے بھی سخت تر ہے کہ وہ بلافائدہ بلاوجہ اپنے ناپاك شوق کے لئے جانوروں کو ایذا دینی ہے۔حدیث میں ہے:

نھی رسول اﷲ صَلَّی اللہُ تعالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَعن التحریش بین البھائم[6]۔رواہ ابوداؤد             رسول اللہ  صَلَّی اللہُ تعالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے منع فرمایا جانوروں کو باہم لڑانے سے(اسے ابوداؤد (

والترمذی وقال حسن صحیح عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی  عنہماْ

اور امام ترمذی نے سیدناابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت فرمایا اور امام ترمذی نے اسے حسن صحیح قرار دیا۔ت)

علماء فرماتے ہیں مسلمان پر ظلم کرنے سے ذمی کافر پر جو پناہ سلطنت اسلام میں رہتا ہو ظلم کرنا سخت تر ہے اور ذمی کافر پر ظلم کرنے سے بھی جانور پر ظلم کرنا سخت تر ہے،درمختار میں ہے:

جاز رکوب الثور وتحمیلہ والکراب علی الحمیر بلا جھد وضرب،اذظلم الدابۃ اشد من الذمی وظلم الذمی اشد من المسلم[7]۔

بیل پر سوار ہونا اور بوجھ لادنا اور گدھے کو ہل میں جوتنا جائز ہے جبکہ مشقت وتشدد کے بغیر ہو،کیونکہ جانور پرظلم ذمی پر ظلم ہے اور ذمی پر ظلم مسلمان پر ظلم سے زیادہ برا ہے(ت)

اس مسئلہ کی کمال تحقیق وتفصیل فقیر کے فتاوی مجلد چہارم فــــ کتاب الحظر والاباحۃ میں ملاحظہ ہو،جو لوگ ان افعال شنیعہ میں شریك ہوں وہ تو ظاہر شریك ہیں اور جو شریك نہ ہوں راضی ہوں وہ بھی شریك ہیں اورگناہ وعذاب میں حصہ دار، بلکہ اگر راضی بایں معنی ہوں کہ ان افعال کو خوب وپسندیدہ جانتے ہوں تو ان کا حکم سخت تر ہے کہ گناہ گناہ ہے اور اسے اچھا جاننا کفر۔اور جو لوگ باوصف قدرت منع نہ کریں انسداد نہ کریں متولی مسجد ہو خواہ اہل محلہ خواہ غیر وہ سب بھی گنہگاروماخوذ وگرفتا ر ہیں، اس کی مثال رسول اللہ  صَلَّی اللہُ تعالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے یہ بیان فرمائی کہ ایك جہاز میں کچھ لوگ سوار ہیں تتق والے چھتری پر پانی بھرتے آتے چھتری والے



[1]       الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی احکام المسجد ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۲۳۲

[2]       ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۴۵

[3]       سنن ابن ماجہ ابواب المساجد ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۵۵

[4]       جامع الترمذی کتاب البیوع باب النہی عن البیع فی المسجد امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۵۸

[5]       صحیح مسلم کتاب المساجد باب عن نشد الضالۃ فی المسجد قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۱۰

[6]       جامع الترمذی کتاب الجہاد باب ماجاء فی التحریش بین البہائم امین کمپنی دہلی ۱/ ۲۰۲

[7]     درمختار کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۹

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن