30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الواجب ابقاء الوقف علی ماکان علیہ[1]۔ وقف کو حال سابق پر برقرار رکھنا واجب ہے(ت)
اور اگر وہ قابل کار نہ رہا یا اس سے استغناء ہوگیا یا وہاں دفن کی ممانعت ہوگئی جس کے سبب اب وہ اس کام میں صرف نہیں ہوسکتا یامسجد قدیم لب مقبرہ واقع ہے یہ بیرون حدود مقبرہ ستون قائم کرکے اوپر کافی بلندی پر پاٹ کر چھت کو صحن مسجد سابق سے ملا کر مسجد کردینا چاہتا ہے اس طرح کہ زمین مقبرہ نہ رکے نہ اس میں دفن موتی کرنے اور اس کی غرض سے لوگوں کے آنے جانے کی راہ رکے نہ اس چھت کے ستون قبور مسلمین پرواقع ہوں بلکہ حدود مقبرہ سے باہر ہوں تو اس میں حرج نہیں جبکہ وہ زمین جس میں ستون قائم کئے گئے متعلق مسجد ہو اور کارروائی اہل محلہ کی یا ان کے اذن سے ہو یا وہ زمین اس بانی سقف یا کسی دوسرے مسلمان کی ملك ہو اور مالك اسے ہر کام کے لئے وقف کردے یا وہ زمین افتادہ بیت المال کی ہو اور اس میں اس کارروائی سے مسلمانوں کے راستے وغیرہ کو ضرر نہ ہو کہ ان حالتوں میں اس نے کوئی بیجا تصرف نہ کیا نہ وقف کو روکا نہ اس کی زمین کو کسی دوسرے کام میں صرف کیا صرف بالائی ہوا میں کہ نہ موقوف تھی نہ مملوك ایك تصرف غیر مضر نفع مسلمین کےلئے کیا۔عالمگیریہ میں ہے:
ذکر فی المنتقی عن محمد رحمہ اﷲ تعالٰی فی الطریق الواسع بنی فیہ اھل المحلۃ مسجدا و ذلك لایضر بالطریق فمنعھم رجل فلا باس ان یبنواکذافی الحاوی[2]۔
منتقی میں حضرت امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی سے یوں منقول ہے کہ ایك وسیع راستہ میں اہل محلہ نے مسجد بنائی جس سے راستہ کو کچھ ضرر نہ پہنچا ایك شخص نے انہیں اس سے منع کیا تو ان کے مسجد تعمیر کرنے میں کوئی حرج نہیں،حاوی میں یونہی ہے(ت)
اسی میں خزانۃ المفتین سے ہے:
قوم بنوامسجداواحتاجواالٰی مکان لیتسع المسجد واخذوامن الطریق وادخلوہ فی المسجد ان کان یضرباصحاب الطریق لایجوز وان کان لایضربھم رجوت ان لایکون بہ بأس کذافی المضمرات وھو المختار کذافی خزانۃ المفتین[3]۔
لوگوں نے مسجدبنائی تو انہیں مسجد کو وسیع کرنےکے لئے کچھ جگہ کی ضرورت پڑی اور انہوں نے راستہ سے کچھ جگہ لے کر مسجد میں داخل کرلی،اگر اس سے راستہ والوں کو ضرر ہوتو ناجائز ہے اور اگر ضررنہ ہوتو مجھے امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہ ہوگا جیساکہ مضمرات میں ہے اور یہی مختار ہے خزانۃ المفتین میں یونہی ہے۔(ت)
نیز ہندیہ میں حق عام کی شے پاٹ کر مسجد اس طرح بنانے کا جس سے ان حقوق کو ضرر نہ پہنچے جزئیہ یہ ہے:
فی نوادرھشام سألت محمدالحسن عن نھر قریۃ کثیرۃ الاھل لایحصی عددھم وھو نھر قناۃ او نھر وادلھم خاصۃ،واراد قوم ان یعمر وابعض ھذاالنھر ویبنوا علیہ مسجدا اولا یضر ذٰلك بالنھر ولا یتعرض لھم احدمن اھل النھر،قال محمد رحمہ اﷲ تعالٰی یسعھم ان یبنواذلك المسجد للعامۃ او المحلۃ کذافی المحیط[4]۔
ہشام نے نوادر میں کہا کہ میں نے امام محمد بن حسن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے دریافت فرمایا کہ ایك کثیر آبادی والے قصبہ میں ایك نہر ہے جو کہ جنگل یا پہاڑ کے نالے کی صورت میں ہے اور وہ خاص انہی لوگوں کی ہے اب کچھ لوگوں کا ارادہ ہوا کہ وہ نہر کے کچھ حصہ تعمیر کرکے مسجد بنادیں،اس سے نہ تو نہر کو کوئی نقصان ہے اور نہ ہی نہر والوں میں سے کسی کو کوئی اعتراض ہے تو امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا کہ ان لوگوں کو ایسی مسجد بنانے کا اختیارہے چاہے وہ مسجدا ہل محلہ کےلئے بنائیں یا عام لوگوں کے لئے،جیساکہ محیط میں ہے۔(ت)
اور یہیں سے ظاہر ہوگیا کہ وہ وقف بھی مسجد ہوجائے گی اور اس میں نمازی کو ثواب مسجد ملے گا اور اس کے نیچے قبریں ہونا اس بنا پر کہ ہمارے علماء نے قبروں کے سطح بالائی کو حق میت لکھا ہے،
فی العالمگیریۃ عن القنیۃ قال علاء الترجمانی یأثم بوطئ القبور لان سقف القبر حق المیت[5]۔
عالمگیریہ میں بحوالہ قنیہ مذکور ہے کہ علاء ترجمانی نے فرمایاقبور کوروند نا گناہ ہے کیونکہ قبروں کی بالائی سطح میت کا حق(ملکیت)ہے۔(ت)
اور مسجد کا جمیع جہات میں حقوق العبادسے منقطع ہونا لازم ہے کما تقدم(جیسا کہ آگے آئے گا۔ت)ہرگز مانع مسجدیت نہ ہوگا کہ اس حق سے مراد کسی کی ملك یا وہ حق مالکانہ ہے جس کے سبب وہ اس مسجد میں تصرف سے مانع آسکے کہ جب ایسا ہوگا تو وہ خالص لوجہ اللہ نہ ہوئی،اور مسجد کاخالص لوجہ اللہ ہونا ضرور ہے،ولہذا فتح القدیر میں عبارت مذکورہ ہدایہ کی شرح میں فرمایا:
المسجد خالص ﷲ سبحانہ لیس لاحد فیہ حق،وھو منتف فیما ذکر اما اذاکان السفل مسجدافان لصاحب العلو حقافی السفل حتی منع صاحبہ ان ینقب فیہ کوۃ اویتد فیہ وتدا،واما اذاکان العلو مسجدا فلان ارض العلو ملك لصاحب السفل بخلاف ما اذاکان السرداب اوالعلو موقوفا لصاحب المسجد فانہ یجوز اذلا ملك فیہ لاحد[6] اھ مختصرا۔
مسجد خالص اللہ تعالٰی کے لئے ہے اس میں کسی کا حق نہیں اور یہ بات صورت مذکورہ میں منتفی ہے لیکن اگر نیچے والا حصہ مسجد ہو پھر تو ا س لئے کہ بالاخانے والا نچلے حصہ میں حق رکھتا ہے یہاں تك کہ نیچے والے کو دیواروں میں سوراخ کھودنے یا میخ گاڑنے سے منع کرسکتا ہے،اور اگر اوپر والا حصہ مسجد ہوتو پھر اس لئے کہ بالاخانے کی زمین نیچے والے کی ملك ہے بخلاف اس کے اگر تہ خانہ اور بالاخانہ دونوں ہی مصلحت مسجد کےلئے وقف کردئے گئے ہوں تو صحیح ہے کیونکہ اب اس میں کسی کی ملك باقی نہیں رہا اھ مختصرا۔(ت)
مطلقًا حق العبد کا تعلق اگر مانع مسجد یت ہوتو کوئی مسجد مسجد نہ ہوسکے کہ ہر مسجد میں ادائے نماز واعتکاف وغیرہ عام مسلمانوں یا خاص اس کے اہل کا بخصوصیت زائدہ حق ہے جس کے باعث وہ بحال تنگی اوروں کو اپنی مسجد محلہ میں نماز سے منع کرسکتے ہیں۔ عالمگیریہ میں ہے:
[1] فتح القدیر کتاب الوقف مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۴۴۰
[2] فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر فی المسجد نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۵۶
[3] فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر فی المسجد نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۵۷
[4] فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر فی المسجد نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۵۷
[5] فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراہیۃ الباب السادس عشر فی زیارۃ القبور نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۱
[6] فتح القدیر کتاب الوقف فصل اختص المسجد باحکام مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۴۵۔۴۴۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع