دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

مسئلہ۱۴۷:             ازبدایون                  ۲۰صفر ۱۳۲۳ھ

زید نے قبرستان قدیم اہل اسلام کو پاٹ کر ان قبروں کی چھت پر مسجد بنانا اور اس کو ایك مسجد قدیم کے صحن میں داخل کرنے کا قصد کیا ہے اور دروازہ قدیم مسجد کو بھی پاٹ کر اسکے نیچے دکان یا حجرہ بنانا اور چھت کو مسجدکرنا چاہتا ہے،آیا شرعًا زید کویہ منصب ہے اور یہ سقف قبور مسجد ہوجائے گی اور مصلی کو ثواب مسجد ملے گایانہیں؟بینواتوجرواعندا ﷲ تعالٰی (بیان کیجئے اور اﷲ تعالٰی  سے اجر پائیے۔ت)

الجواب:

دروازہ پاٹ کر اس کے نیچے دکان بنانا ہرگز جائز نہیں،عالمگیری میں ہے:

قیم المسجد لایجوزلہ ان یبنی حوانیت فی حد المسجداوفی فنائہ[1]۔

ناظم مسجدکو جائز نہیں کہ وہ مسجد کی حدود میں یا فنائے مسجد میں دکانیں بنائے(ت)

اور حجرہ بنانے کی اجازت ہے جبکہ زمین مسجد سے اس میں کچھ نہ لیا جائے،نہ مسجد پرراہ وغیرہ کسی امر کی تنگی لازم آئے اور یہ تغییر دروازہ کرنے والے خود اہل محلہ ہوں یا ان کے اذن سے ہو۔فتاوٰی امام قاضی خاں میں ہے:لاھل المحلۃ تحویل باب المسجد[2]  (اہل محلہ کو دراوزہ مسجد کی تبدیل کااختیار ہے۔ت)اور اس صورت میں حجرہ کی چھت مسجد ہوجائے گی جبکہ برضائے اہل محلہ ہے۔خلاصہ میں ہے:

ارض وقف علی مسجد والارض بجنب ذلك المسجد وارادوا ان یزید وا فی المسجد شیئا من الارض جاز الخ[3]۔

ایك زمین مسجد کے لئے وقف ہوئی اور اس مسجد کے پہلو میں زمین ہے اہل محلہ نے ارادہ کیا کہ مسجدمیں کچھ اضافہ اس زمین سے کریں تو جائز ہے الخ(ت)

فتاوٰی کبرٰی پھر جامع المضمرات شرح القدوری پھر فتاوٰی ہندیہ میں ہے:

مسجداراد اھلہ ان یجعل الرحبۃ مسجدا وان یحولوا الباب عن موضعہ فلہم ذٰلك فان اختلفوا نظر ایھم اکثر وافضل فلھم ذلك [4]           اھ،بتلخیص۔

اہل محلہ نے چاہاکہ برآمدہ کو مسجدکردیں اوردروازہ کو اپنی جگہ سے تبدیل کردیں تو جائز ہے اور اگر ان میں باہم اختلاف ہو تو دیکھاجائے گا کہ ان میں اکثر وافضل گروہ کی کیا رائے ہے اور انہیں کو اختیاردیاجائیگااھ بتلخیص(ت)

اور اس کے نیچے حجرہ ہونا کچھ منافی مسجدیت سقف نہ ہوگا،قول بحر شرط کونہ مسجداان یکون سفلہ وعلوہ مسجدا[5] (اس کے مسجد ہونے کی شرط یہ ہے کہ اس کے نیچے اور اوپر والاحصہ بھی مسجد ہو۔ت)یہاں وارد ہوگا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ جمیع جہات میں حقوق مالکانہ عباد سے منقطع ہومصالح مسجد توابع مسجد ہیں، خود بحر میں تتمہ عبارت مذکوریہ ہے:

لینقطع حق العبد عنہ بقولہ تعالٰی  وان المسٰجدﷲ بخلاف ما اذا کان السرداب العلو موقوفا لمصالح المسجد کسرداب بیت المقدس ھذاھوظاہر الروایۃ[6]۔

تاکہ حق عبداس سے منقطع ہوجائے اﷲ تعالٰی  کے اس ارشاد کی بنیاد پرکہ مسجدیں اللہ تعالٰی  کی ہیں بخلاف اس کے کہ جب تہ خانہ یا بالاخانہ مصالح مسجد کیلئے موقوف ہوں جیسا کہ بیت المقدس کا تہہ خانہ ہےیہی ظاہر الروایہ میں ہے(ت)

ہدایہ میں ہے:

من جعل مسجداتحتہ سرداب اوفوقہ بیت وجعل باب المسجد الی الطریق وعزلہ عن مبلکہ فلہ ان یبیعہ وان مات یورث عنہ لانہ لم یخلص ﷲتعالٰی  لبقاء حق العبد متعلقا بہ ولوکان السرداب لمصالح المسجد جاز[7]۔

جس شخص نے مسجد بنائی جس کے نیچے تہ خانہ اور اوپر مکان ہے اس نے مسجد کادروازہ راستے کی طرف بنایااور اس کو اپنی ملك سے نکال دیا تو وہ اس کو بیچنے کااختیار رکھتا ہے اگر وہ مرجائے تو اس کی میراث قرار پائے گا کیونکہ وہ خالص اﷲ تعالٰی  کے لئے نہیں ہو ا اس سبب سے حق عبد اس کے ساتھ منسلك رہا اور اگر وہ تہ خانہ مصالح مسجد کیلئے ہوتو جائز ہے۔ (ت)

ہاں اگر زید بطور خود یہ کارروائی بے رضائے اہل محلہ کرے تو وہ چھت مسجد نہ ہوجائے گی اور اس میں نماز اگرچہ جائزہے مگر اس پر نماز مسجد کا ثواب نہ ہوگا۔ عالمگیریہ میں ہے:

متولی مسجد جعل منزلا موقوفا علی المسجد مسجدا وصلی الناس فیہ سنین ثم ترك الناس الصلوٰۃ فیہ فاعید منزلا مستغلا جاز لانہ لم یصح جعل المتولی ایاہ مسجدا کذا فی الواقعات الحسامیۃ[8]۔

ایك مسجد کے متولی نے ایك گھر جو کہ مسجد پر موقوف تھا کو مسجد بنادیا لوگ اس میں کئی برس نماز پڑھتے رہے،پھر لوگوں نے اس میں نماز پڑھنا چھوڑدیا پھر وہ اپنی سابقہ حالت یعنی کرایہ پر چلنے لگا تو جائز ہے کیونکہ متولی کااس کو مسجد کردینا صحیح نہیں ہواتھایہ واقعات حسامیہ میں مذکور ہے(ت)

رہا مسلمانوں کا قبرستان قدیم کہ وہ ضرور دفن موتٰی کے لئے موقوف ہوتا ہے،اس میں دوصورتیں ہیں اگر وہ قبرستان قابل کار ہو کہ اس میں دفن اموات کو جگہ بھی ہے اور کسی اور وجہ کے باعث اس سے استغناء بھی نہ ہوگیا نہ داخل حدود شہر ہونے کے سبب اس میں دفن کی ممانعت انگریزی طور پر ہوگئی جب تو اسے پاٹ کر دفن سے روك دینا سرے سے ناجائز وحرام ہے کہ یہ ابطال غرض وقف ہے اور وہ اصلًار وا نہیں۔

عالمگیریہ میں ہے:لایجوز تغییر الوقف[9]                           (وقف میں تغییر وتبدیل جائز نہیں۔ت) فتح القدیر میں ہے:

 



[1]                         فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب الحادی عشر فی المسجد فصل ثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۶۲

[2]                         فتاوٰی قاضی خاں کتاب الوقف باب الرجل جعل دارہ مسجداً نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۱۳

[3]                         خلاصۃ الفتاوی کتاب الوقف الفصل الرابع فی المسجد مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴/ ۴۲۱

[4]                         فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۵۶

[5]                         بحرالرائق کتاب الوقف فصل فی احکام المسجد ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۲۵۱

[6]                         بحرالرائق کتاب الوقف فصل فی احکام المسجد ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۲۵۱

[7]                         الہدایۃ کتاب الوقف المکتبۃ العربیۃ کراچی ۲/ ۶۲۴

[8]                         فتاوی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر فی المسجد نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۵۶

[9]                          فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الرابع عشر فی المتفرقات نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۹۰

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن