دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

تیسری منفعت جلیلہ یہ ہے کہ یہاں کفار کی کثر ت ہے،اکثر مسجدیں سادی گھروں کی طرح ہوں تو ممکن ہے کہ ہمسایہ کے ہنود بعض مساجد پر گھر اور مملوك ہونے کا دعوٰی کردیں اور جھوٹی گواہیوں سے جیت لیں بخلاف اس صورت کے کہ یہ ہیأت خود بتائے گی کہ یہ مسجد ہے تو اس میں مسجد کی حفاظت اور اعدا سے اس کی صیانت ہے،وباﷲ التوفیق،واﷲتعالٰی  اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔

مسئلہ۱۴۳:از ملك بنگالہ ضلع نواکھالی ڈاکخانہ قاضی ہاٹ متصل بختیارمنشی کے بازار مرسلہ مولوی عبدالعلی صاحب ۱۳جمادی الآخر۱۳۲۲ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگرکوئی ہندو مشرك زمیندار اپنی زمین میں نماز پنجگانہ وجمعہ کے لئے ایك مسجد بنادے یا مسلمان کی بنائی ہوئی مسجد کو درست یا پختہ کردے یا ازروئے حیلہ کے دو سو یا چار سو کسی شخص کو مسجد بنوانے کی نیت سے دے وہ شخص زردادہ سے مسجد بنادے شرعًا اس میں نمازپڑھنا درست ہوگا یانہیں؟بینواتوجروا۔

الجواب:

اگر اس نے مسجد بنوانے کی صرف نیت سے مسلمان کو روپیہ دیا یا روپیہ دیتے وقت صراحۃً کہہ بھی دیا کہ اس سے مسجد بنوادو، مسلمان نے ایسا ہی کیا تو وہ مسجد ضرور ہوگئی اور اس میں نماز پڑھنی درست ہے۔

لانہ انما یکون اذناللمسلم بشراء الآلات للمسجد بمالہ وبمجرد ھذالایصیر وکیلا وان فرض التوکیل فحیث لم یعین جنس المشری لایقع الشراء الا للمسلم لان الجہالۃ الفاحشۃ تبطل الوکالۃ،فی الدر المختار الاصل انہا(ای الوکالۃ)ان جھلت جہالۃ فاحشۃ وھی جھالۃ الجنس کدابۃ بطلت اھ [1]  (ملخصًا) ومعلوم ان الشراء متی وجد نفاذا علی المشتری نفذ علیہ فعلی کل کانت الآلات ملك المسلم وقد جعلھا مسجدافصح۔ حتی لولم تکن او رفعت لم یتطرق الی المسجد خلل الاتری ان المسجد الحرام لاجدران فیہ اصلا وان بناء الکعبۃ لو رفع کما وقع فی زمن سیدنا عبداﷲ بن الزبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَالصحت الصلوۃ الیہا کمانصواعلیہ۔

کیونکہ یہ اس کی طرف سے مسلمان کو اس کے مال سے مسجد کےلئے سامان خریدنے کا اذن ہوا اور محض اتنی بات سے وہ وکیل نہ ہوا اور بالفرض توکیل مان بھی لیں توجب جنس شراء غیر معین ہے تو شراء مسلمان کے لئے ہی واقع ہوگی اس لئے کہ جہالت فاحشہ وکالت کو باطل کردیتی ہے۔درمختار میں ہے قاعدہ یہ ہے کہ اگر وکالت جہالت فاحشہ کے ساتھ مجہول ہو یعنی جہالت جنس ہوجیسے دابہ کا مجہول ہونا تو وکالت باطل ہوجاتی الخ(ملخصا)اوریہ بات معلوم ہے کہ شراء جب مشتری پر نفاذ پائے تو نافذ ہوجاتی ہے،بہر صورت وہ خریدا ہوا سامان مسلمان کامملوك ہوا اور اس نے مسجد بنادی تو صحیح ہے۔(ت)

یونہی مسجد قدیم کی درستی ومرمت اگر کافر کرے تو اسکی مسجدیت میں نقصان نہ آئے گا لان المسجد اذاتم مسجدالا یعود غیر مسجدابدا(کیونکہ مسجدبن جانے کے بعد کبھی بھی وہ غیر مسجد نہیں بن سکتی۔ت)

اسی طرح کچھ مسجد کو اگر پکی کرادے فرش اور دیواریں پختہ بنوادے جب بھی اس کی مسجدیت میں حرج نہیں اس میں نماز درست ہے کہ یہ دیواریں اگرچہ ملك کافر رہیں گی کہ وہ مسجد کے لئے وقف کرنے کا اہل نہیں مگر دیواریں حقیقت مسجدمیں داخل نہیں،مسجد کی دیواریں اگر بالکل نہ ہوں یا مرتفع ہوجائیں تو مسجدیت میں کوئی خلل نہیں آتا،کیا تو نہیں دیکھتا کہ مسجد الحرام میں دیواریں نہیں ہیں اور اگرکعبۃ اللہ  کی عمارت اگر مرتفع ہوجائے جیسا کہ سیدنا حضرت عبداللہ  بن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے زمانے میں ہوا تو تب بھی اس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنا جائز ہے،فقہاء نے اس کی تصریح کی ہے(ت)

یوں ہی مسالہ کہ فرش پختہ کرنے کو ڈالاچٹائی کی طرح ایك شیئ زائد ہے اور جواز نماز یوں کہ اگرچہ وہ مسالہ ملك کافر پررہے گامگر اس پر نماز اس کے اذن سے ہے،

فکان کالصلاۃ فی ارض الکافر باذنہ بل اولی۔

تو یہ کافر کی زمین میں اس کے اذن سے نماز پڑھنے کی مانند ہوا یا اس سے بھی اولٰی ہے۔(ت)

ہاں ایسی چیز کا قبول کرنا مسلمانوں کو نہ چاہئے کہ مسجد کو ملك کافر سے آلودہ کرنا ہے،

وقد قال رسول اﷲصَلَّی اللہُ تعالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَانا لا نستعین بمشرک[2]۔
تحقیق رسول اللہ صَلَّی اللہُ تعالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ ہم مشرك سے استعانت نہیں کرتے(ت)

اور اس میں یہ بھی قباحت ہے کہ جب وہ فرش ملك کافر پر باقی ہے تو اگر کسی وقت وہ یا اس کے بعد اس کا وارث اس پر نماز سے منع کردے تو نماز ناجائز ہوجائے گی جب تك فرش کھود کر زمین صاف نہ کرلیں۔رہی پہلی صورت کہ مشرك اپنی زمین میں مسجد بنوادے اگرمشرك نے وہ زمین کسی مسلمان کو ہبہ کردی اور مسلمان نے مسجد بنوائی تو جائز ہے اور اس میں نماز مسجد میں نمازہے،اور اگر بے تملیك مسلم اپنی ہی ملك رکھ کر مسجد بنوائی تو وہ مسجد شرعًا مسجد نہ ہوئی،

لان الکافر لیس اھل لوقف المسجد وفی جواھر الاخلاطی جعل ذمی دارہ مسجدا للمسلمین وبناہ کما بنی المسلمون واذن لھم بالصلٰوۃ فیہ فصلوافیہ ثم مات یصیر میراثا لورثتہ [3]         وھذاقول الکل۔

کیونکہ کافر مسجد کو وقف کرنے کا اہل نہیں جواہر الاخلاطی میں ہے کہ ذمی نے اپنے گھر کو مسلمانوں کے لئے مسجد بنایا اور مسلمانوں کی طرح اس کی تعمیر کرائی پھر مسلمانوں کو اس میں نماز پڑھنے کو کہا اور انہوں نے اس میں نماز پڑھی بعد ازاں وہ ذمی مرگیا تو وہ اس کے وارثوں کو بطور میراث ملے گی،اوریہی سب کا قول ہے(ت)

اس میں نماز ایك کافر کے گھر میں نماز ہے جس پر نماز مسجد کا ہرگزثواب نہیں مگر جبکہ اس کے اذن سے ہے نماز درست ہے اگر منع کردے گا تو اب اجازت نہ رہے گی اور زمین غصب میں نماز کی طرح مکروہ ہوگی للتصرف فی ملك الغیر بغیر اذنہ (ملك غیر میں بلااذن مالك تصرف کرنے کی وجہ سے۔ت)وا ﷲتعالٰی  اعلم۔

مسئلہ۱۴۴:             ازکانپور مرسلہ مولوی عبیداللہ  صاحب

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت مسماۃ ہندہ نے اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کرکے کسب ناجائز اختیار کرلیااور مال میں ہزار پانسو کی تجارت بھی کرتی رہی چنانچہ اس نے اسی مال سے چند دن میں متعدد مکان وغیرہ بھی خریدکئے اور وہ مال اسکے پاس کچھ بطور حلال حاصل ہوا تھا اور کچھ بطور حرام،لیکن یہ امر کہ مال حلال کس قدر تھا اور مال حرام کس قدر، کچھ معلوم نہیں،خلاصہ یہ کہ وہ مال اس کے پاس مختلط تھا،اس کے بعد اس مال کی وارث اس کی ماں بنی،ہندہ کی ماں نے محض اپنی رائے سے ایك مسجد کی تعمیر کی،اب اس مسجد میں لوگ نمازپڑھنے سے پرہیزکرتے ہیں،پس یہ فرمایاجائے کہ ایسی مسجد کو حکم مسجد کا دیں گے یانہیں؟اور یہ وقف شرعًا صحیح ہے یانہیں؟اور یہ بھی ارشاد ہو کہ مال مختلط وراثۃً اگر شخص کو نہ ملا ہو جبکہ خود اس کے پاس مختلط اپنا ذاتی ہو جیساآج زمانے میں بکثرت لوگوں کے پاس ہے اگر ایسے سے مسجد بنوائی جائے تو کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا۔

 



[1]                        درمختار باب الوکالۃ بالبیع والشراء مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۰۴

[2]      مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الجہاد باب فی الاستعانۃ بالمشرکین ادارۃ القرآن کراچی ۱۲/ ۳۹۵

[3]                     جواہر الاخلاطی کتاب الوقف قلمی نسخہ ص۱۲۷

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن