30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث[1]۔
بدگمانی سے بچو کیونکہ بدگمانی سب سے زیادہ جھوٹی بات ہے۔ (ت)
کا مخالف فاسق نہیں؟ ضرور ہے۔اور شخص مذکور جبکہ تعمیر ضروریات کا مانع ومزاحم ہے تو بدخواہی مسجد کے سبب اگر متولی بھی ہوتا اس کا معزول کرنا واجب تھا نہ کہ فقط اولادِ بانی سے ہونا کہ ہرگز موجب تولیت نہیں کما لایخفی(جیسا کہ چھپا ہوا نہیں۔ ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۴۲: ازمیرٹھ کوٹھی انانش خیر نگر دروازہ مرسلہ ولایت اللہ خاں ۲جمادی الاولٰی۱۳۲۲ھ
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ حضرت صلی ا ﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے وقت میں مسجدوں کے اوپر مینار اور برج نہیں تھے،اب کیونکر بنائے جاتے ہیں؟
الجواب:
واقعی زمانہ اقدس حضور سرور عالم صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمیں مساجد کے لئے برج کنگرے اور اس طرح کے منارے جن کو لوگ مینار کہتے ہیں ہر گز نہ تھے بلکہ زمانہ اقدس میں پکے ستون نہ پکی چھت،نہ پکا فرش نہ گچکاری،یہ امور اصلًا نہ تھے کما فی صحیح البخاری فی ذکر مسجدہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ(جیسا کہ بخاری شریف میں نبی کریم صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی مسجد کے ذکر میں ہے۔ت)بلکہ حدیث میں ہے:
ابنواالمساجد واتخذوھا جما[2]۔رواہ ابوبکر بن ابی شیبۃ والبیھقی فی السنن عن انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہعن النبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ۔
مسجد یں بناؤ اور انہیں بے کنگرہ رکھو(اسے ابوبکر بن ابی شیبہ اور بیہقی نے سنن میں سیدنا حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کیا اور انہوں نے حضور اکرم صلی اﷲ تعالٰی وسلم سے روایت کیا۔ت)
دوسری حدیث میں ہے:
ابنوامساجد کم جماوابنوا مدائنکم مشرفۃ[3]۔رواہ ابن ابی شیبۃ عن ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاعن النبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ۔
اپنی مسجدیں منڈی بناؤ اور اپنے شہر کنگرہ دار۔(اس کو ابن ابی شیبہ نے حضرت عبداللہ ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت کیا اور انہوں نے رسول اکرم صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے روایت فرمایا۔ت)
مگر تغیر زمانہ سے جبکہ قلوب عوام تعظیم باطن پر تنبہ کے لئے تعظیم ظاہر کے محتاج ہوگئے اس قسم کے امور علماء وعامہ مسلمین نے مستحسن رکھے،اسی قبیل سے ہے قرآن عظیم سے ہے قرآن عظیم پر سونا چڑھانا کہ صدر اول میں نہ تھا اور اب بہ نیت تعظیم واحترام قرآن مجید مستحب ہے۔یونہی مسجد میں گچگاری اور سونے کاکام،
وماراٰہ المسلمون حسنا فھو عنداﷲ حسن[4]۔
جس شیئ کو مسلمان اچھاسمجھیں وہ عنداللہ بھی اچھی ہوتی ہے۔(ت)
درمختار میں ہے:
جاز تحلیۃ المصحف لما فیہ من تعظیمہ کما فی نقش المسجد[5]۔
قرآن مجید کو مزین کرنا جائز ہے کیونکہ اس میں قرآن مجید کی تعظیم ہے جیساکہ مسجد کوتعظیمًا منقش کرنا جائز ہے۔(ت)
تبیین الحقائق میں ہے:
لایکرہ نقش المسجد بالجص وماء الذھب[6]۔
قلعی اور سونے کے پانی سے مسجد کو منقش کرنا مکروہ نہیں۔(ت)
عالمگیری میں ہے:
لاباس بنقش المسجد بالجص والساج وماء الذھب والصرف الی الفقراء افضل کذافی السراجیۃ وعلیہ الفتوی کذافی المضمرات وھکذافی المحیط[7]۔
مسجد کوقلعی،ساج کی لکڑی اور سونے کے پانی سے منقش کرنے میں حرج نہیں تاہم فقراء پرصرف کرنا اولٰی ہے جیسا کہ سراجیہ میں ہے،اور اسی پرفتوٰی ہے،مضمرات اور محیط میں یونہی ہے(ت)
اور ان میں ایك منفعت یہ بھی کہ مسافر یا ناواقف منارے کنگرے دور سے دیکھ کر پہچان لے گا کہ یہاں مسجد ہے،تواس میں مسجد کی طرف مسلمانوں کو ارشاد وہدایت اور امر دین میں ان کی امداد واعانت ہے،اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتا ہے:
" وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪ "[8]
نیکی اور تقوٰی کے کاموں میں ایك دوسرے سے تعاون کرو۔ (ت)
[1] صحیح البخاری کتاب الفرائض باب تعلیم الفرائض قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۹۵
[2] مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الصلوٰۃ فی زینۃ المسجد وماجاء فیہا ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۳۰۹
[3] مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الصلوٰۃ فی زینۃ المسجد وماجاء فیہا ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۳۰۹،کنزالعمال حدیث ۲۰۷۶۹ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۷/ ۶۵۶
[4] مسند احمد بن حنبل ازمسند عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ دارالفکر بیروت ۱/ ۳۷۹
[5] درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۵
[6] تبیین الحقائق کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ المطبعۃ الکبری الامیریۃ مصر ۱/ ۱۶۸
[7] فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب الخامس فی آداب المسجد نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۱۹
[8] القرآن الکریم۵/ ۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع