30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اہل محلہ نے مسجد گرانے اور پہلے سے مضبوط تر بنانے کا ارادہ کیا اگر دوبارہ بنانے والا اہل محلہ سے ہے تو انہیں ایسا کرنے کا اختیار ہے ورنہ نہیں،بزازیہ۔(ت)
فتاوٰی قاضی خاں پھر ردالمحتار میں ہے:
لیس لورثتہ منعھم من نقضہ والزیادۃ فیہ ولاھل المحلۃ تحویل باب المسجد[1]۔
واقف کے ورثاء اہل محلہ کو مسجد گراکر وسیع کرنے سے منع نہیں کرسکتے مسجد کا دروازہ تبدیل کرنے کابھی اہل محلہ کواختیار ہے(ت)
محیط امام سرخسی پھر فتاوٰی عالمگیری میں ہے:
رجل بنی مسجد اثم مات فاراداھل المسجد ان ینقضوہ ویزیدوافیہ فلھم ذٰلك ولیس لورثۃ المیت منعھم[2]۔
ایك شخص نے مسجد بنائی پھر وہ فوت ہوگیا،بعد ازاں اہل محلہ نے اس مسجد کو گرانے اور اس میں اضافہ کرنے کا ارادہ کیا تو بانی اول کے ورثاء کو منع کرنے کا اختیار نہیں(ت)
شخص مذکور ضروریات مسجد کاخبر گیراں نہیں ہوتا اور اہل محلہ کی درخواست پر بھی درستی مسجد کا کچھ بندوبست نہ کیا اور جب اہل محلہ نے تعمیر شروع کی اور مسجد میں نماز وجماعت ہونے لگی تو روکنے کو آموجودہوا اور وہ روکنا بھی یوں نہیں کہ آ پ تعمیر کرنا شروع کرتا بلکہ نراوعدہ کہ ہم بنوادیں گےوعدہ بھی کیسا،محض موہوم کہ جب ہمیں مقدرت ہوگی بنوائیں گے،تو ان تمام واقعات سے صاف ظاہر ہے کہ شخص مذکور آبادی و عمارت مسجد میں خلل انداز ہے اور وہ ضرور " مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ(۱۲)"[3] (نیکی سے بہت زیادہ منع کرنیوالا حدسے تجاوز کرنے والا گنہگار ہے۔ت)میں داخل ہے آپ تعمیر نہ کرتا ہے نہ کرسکتا ہے کہ خود اپنی مقدرت سے انکار رکھتا ہے اور مسلمانوں نے جو تعمیر کی جس سے نماز وجماعت ہونے لگی اسے روکتا ہے توصاف ویرانی مسجد کاخواستگار اور " وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَاؕ- "[4] (اس شخص سے بڑاظالم کون ہوسکتا ہے جو مساجد میں اﷲ تعالٰی کے ذکر سے منع کرے اور مساجد کی بربادی میں کوشاں ہو۔ت)کی وعید شدید کا سزاوار ہے۔شخص مذکور کو اگر متولی فرض بھی کرلیں تو اور مسلمانان محلہ کی تعمیر میں اس کی کوئی اہانت نہیں نہ ہرگز شرع مطہرمیں متولی کو حق دیا گیا ہے۔کہ بوعدہ موہومہ مقدرت آپ تعمیر کرنے کے لئے مسجد کو خراب رکھے اہل محلہ کو تعمیر سے روکے۔فرض کیجئے اسے مقدر ت کبھی نہ ہوئی تو کیا ہمیشہ مسجد ویران رکھیں یااسے استطاعت دس برس یا دس مہینے یا دس دن ہی بعد ہوگی تو کون سی شریعت نے فرض کیا ہےکہ اس کی مقدرت کاانتظار کرو اور اتنی مدت مسجد خراب رکھو۔جو شخص دعوٰی کرتا ہے کہ بسبب وعدہ اور لوگوں کو اس کے تیار کرانے کا انتظار کرنا ہوگا اگر اپنی ہوائے نفس کا حکم دیتا ہے تومسلمانوں پر اس کا اتباع نہیں،اوراگر اسے شرع مطہرہ کاحکم ٹھہراتا ہے تو صراحۃً شریعت غرا پر افتراء کرتاہے،شریعت محمد رسول اللہ صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمیں کہیں نہیں کہ ایسے مہمل وعدوں کا انتظار مسلمانوں کو کرنا ہوگا انتظار انتظار میں مسجد کوخراب رکھنا ہوگا،مسجد متولی یا اس کے بزرگوں کی ملك نہیں۔ قال اﷲ تعالٰی "وَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ "[5] (اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا:بیشك مسجدیں اﷲ تعالٰی ہی کی ہیں۔ت)فرضی یا واقعی متولی کو کیاحق حاصل ہے کہ مسلمانوں کو اپنے وعدہ فرد اکے انتظار پر مجبور کرے اور تاتریاق ازعراق کے لئے مسجد کوخراب رکھے،ایسے انتظار کا فتوٰی دینا صریح جہالت و ضلالت ہے خصوصًا جبکہ مسلمان آنکھوں دیکھ چکے کہ وہ ضروریات مسجد کی خبر گیری نہیں کرتا اور باوصف درخواست اس نے کچھ پروانہ کی،رسول اللہ صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَفرماتے ہیں:
لایلدغ المؤمن من جحرواحد مرتین[6]۔ مومن ایك سوراخ سے دوبار نہیں ڈساجاتا(ت)
اور اگر بفرض باطل تسلیم بھی کرلیں کہ اوروں کی تعمیر میں بخیال عوام اس کی کوئی اہانت ہے تو بیت اللہ کی اہانت وخرابی سے اس کی یہ نفسانی اہانت آسان تر ہے۔بھلا متولی تو متولی،علمائے کرام تصریح فرماتے ہیں کہ اگر خود اصل بانی مسجد اور اہل محلہ میں دربارہ امام ومؤذن نزاع ہو اور جسے اہل محلہ چاہیں وہ زیادہ مناسب ہو تو اصل بانی کے اختیار پر اہل محلہ ہی کے اختیار کوترجیح دی جائے گی۔اشباہ والنظائر میں ہے:
ان تنازعوافی نصب الامام والمؤذن مع اھل المحلۃ ان کان مااختارہ اھل المحلۃ اولٰی من الذی اختارہ البانی فما اختارہ اھل المحلۃ اولٰی[7]۔
بانیان مسجد اور اہل محلہ کے درمیان اما م مؤذن کی تقرری میں اختلاف واقع ہو اور جس کو اہل محلہ پسند کریں وہ بانی کے پسند کردہ سے اولٰی ہے تو اسی کو مقرر کرنا بہتر ہے(ت)
جب اصل واقف پر اہل محلہ کو صرف اس وجہ سے کہ ان کا پسند کردہ زیادہ مناسب ہے شرع مطہر نے ترجیح عطا فرمائی تو یہاں کہ آبادی وویرانی کااختلاف ہے اور شخص مذکور خود واقف بھی نہیں اور خود عمارت کرتا بھی نہیں نرے وعدہ ہی پرٹالتا ہے اور وہ وعدہ بھی ایك غیبی بات پر موقوف کہ خدا جانے ہوئی یا نہ ہوئی کیونکہ اہل محلہ کی کارروائی کے آگے جو سراسر نافع مسجد ہے کوئی چیز ٹھہرسکتی ہے،اور جب اس ترجیح اہل محلہ میں خود واقف کی اہانت نہ تھی یا فرضًا ہوتو شرع مطہر نے اصلًا اسپر لحاظ نہ فرمایا اور محض ایك انسب بات کے لئے اہل محلہ ہی کو ترجیح بخشی تو یہاں اس غیر واقف کی اہانت کیا ہوگی یا ہو تو اس پر شرع کیا لحاظ فرمائے گی ایسے بیہودہ مخیلات کو مدار فتوٰی قرار دینا سخت عامیانہ سفاہت ہے جس کے لئے شرع الٰہی میں اصلًا اصل نہیں،معہذا ظاہر ہے کہ اہل محلہ کا مقصود آبادی مسجد ہے نہ کہ اس شخص کی اہانت،ولہذا پہلے خود اسی سے درخواست کی جب اس نے کان نہ رکھا مجبور انہ خود عمارت شروع کی تو اہل محلہ کی یہ غرض ٹھہرالینی کہ شخص مذکور کو ذلت پہنچے کس قدر شدید سوئے ظن و جہالت ہے کیا وہ اس قول رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ:
ان اﷲ لاینظر الٰی صورکم واموالکم ولٰکن ینظر الٰی قلوبکم واعمالکم[8]۔
بیشك اﷲ تعالٰی تمہاری صورتوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہاری نیتوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔(ت)
کے مستحق نہیں؟کیا صحیح حدیث میں ارشاد رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ:
[1] ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۷۰
[2] فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر فی المسجد نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۵۷
[3] القرآن الکریم ۶۸/ ۱۲
[4] القرآن الکریم ۲/ ۱۱۴
[5] القرآن الکریم ۷۲/ ۱۸
[6] مسند احمد بن حنبل مسند ابی ہریرہ رضی اﷲ عنہ دارالفکر بیروت ۲/ ۳۷۹
[7] الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الوقف ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۳۰۷
[8] صحیح مسلم کتاب البر باب تحریم ظلم المسلم وخذلہ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۱۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع