30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ردالمحتار میں ہے:
اشار بالحیلولۃ الی ان المراد المطر الکثیر کما قیدہ بہ فی صلٰوۃ الجمعۃ وکذا الطین[1]۔
رکاوٹ بننے کے ذکر سے صاحب تنویر نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ مراد شدید بارش اور سخت کیچڑ ہے،جیساکہ نماز جمعہ میں انہوں نے یہ قید لگائی ہے(ت)
درمختار میں ہے:
شرط لافتراضھا (ای الجمعۃ) بلوغ وعقل وعدم مطر شدید ووحل وثلج ونحوھما [2] اھ ملتقطا وذلك ان اﷲ رؤف بالعباد،والحمدﷲ،واﷲتعالٰی اعلم۔
نماز جمعہ کی فرضیت کے لئے عاقل وبالغ ہونا اور شدید بارش، کیچڑ اور برف وغیرہ کا نہ ہونا شرط ہے(التقاط)اور یہ اس لئے ہے کہ بیشك اللہ تبارك وتعالٰی اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے،اور تمام تعریفیں اسی کے لئے ہیں۔واﷲتعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ۱۴۰: ۱۸ذی الحجہ۱۳۲۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجد میں حدث کرنا جائز ہے یانہیں؟اور معتکف کو حدث کرنا مسجد میں جائز ہے یانہیں؟اور کوئی طالبعلم باوجود حجرہ ہونے کے مسجد میں کتب بینی کرے اور حدث بھی کرے تو اب اس صورت میں مسجد میں بیٹھنا افضل ہے یا حجرہ میں؟اور جو صاحب اس کو تسلیم نہ کریں ان کو کیاحکم ہے شریعت کا؟بینوا توجروا۔
الجواب:
مسجد میں حدث یعنی اخراج ریح غیر معتکف کو مکروہ ہے،اسے چاہئے کہ ایسے وقت باہر ہوجائے پھر چلاآئے،طالب علم کو مسجد میں کتب بینی کی اجازت ہے جبکہ نمازیوں کا حرج نہ ہو،اور اخراج ریح کی حاجت نادر ہو تو اٹھ کر باہر چلاجائے،ورنہ سب سے بہتر یہ علاج ہے کہ بہ نیت اعتکاف مسجد میں بیٹھے اور کتاب دیکھے جبکہ کتاب علم دین کی ہو یا ان علوم کی جو علم دین کے آلہ ہیں، اور یہ اسی نیت سے اسے پڑھتا ہو،جو شخص غیر معتکف کو اخراج ریح مسجد میں خلاف ادب نہیں جانتا غلطی پر ہے اسے سمجھا دیاجائے،یہ طریقہ اعتکاف کہ اوپر بیان ہوا اس کے لئے ہے جس کی ریح میں وہ بونہ ہو جس سے ہوا ئے مسجد پر اثر پڑے، بعض لوگوں کی ریح میں خلقی بوئے شدید ہوتی ہے بعض کو بوجہ سوئے ہضم وغیرہا عارضی طور پر یہ بات ہوجاتی ہے ایسوں کو ایسے وقت میں مسجد میں بیٹھنا ہی جائز نہیں کہ بوئے بدسے مسجدکا بچانا واجب ہے۔
وان الملٰئکۃ تتأذی ممایتاذی منہ بنواٰدم[3]۔قالہ رسول اﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
جس بات سے آدمیوں کواذیت پہنچتی ہے اس سے فرشتے بھی اذیت پاتے ہیں۔(رسول اللہ صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے یہ ارشاد فرمایا ہے۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۱: منشی عبدالصبور صاحب ۲۹صفر مظفر۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ ایك مسجد زید کے آباواجداد کی تعمیر ہے اور اسی بناء پر زید اپنے کو متولی مسجد مذکور قرار دیتا ہے،یہ مسجد ویران رہتی تھی،متولی ضروریات واقع کاخبر گیراں نہیں ہوتا تھا،اہل محلہ نے مرمت شکست ریخت کے واسطے متولی سے کہاکچھ بندوبست نہیں کیا تو اہل محلہ نے تعمیر شروع کرادی،مسجد میں نماز وجماعت ہونے لگی،تعمیر ناتمام تھی کہ متولی نے روکا کہ جب ہم کو مقدرت ہوگی خود بنوادیں گے،تعمیر ناتمام رہی،اس مسجد میں کنواں بھی نہیں،متصل شارع عام کے کنویں سے کہ ہر کس وناکس پانی بھرتا ہے مسجد میں پانی آتا ہے،ہنود کی بے احتیاطی دیکھ کر اب اہل محلہ کا قصد ہے کہ مسجد میں ہی کنواں تعمیر ہوجائے اور ایك حجرہ بھی سکونت جاروب کش و مؤذن کے واسطے تعمیر ہوجائے مگر متولی مانع ہوتا ہے کہ اور کوئی نہ بنوائے جب ہم کو استطاعت ہوگی خودبنوادیں گے ایسی حالت میں تعویق تعمیر کا حق متولی کو شرعًا حاصل ہے یانہیں اور تعمیر سابق بدون اجازت متولی جائز ہوئی یانہیں اور ممانعت متولی باطل تھی یاصحیح؟اب بدون اجازت اہل محلہ تعمیرکراسکتے ہیں یانہیں؟اور متولی مذکور پابند صوم وصلوٰۃ بھی نہیں ہے اورتعمیر ضروریات میں مانع ومزاحم ہوتاہے شرعًا متولی رہ سکتا ہے؟یا تولیت سے معزول ہوسکتا ہے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں واقعی متولی کو بھی ہر گز حق نہ تھا کہ تعمیر مسجد سے اہل محلہ کو روکتا،نہ کہ یہ شخص جو صرف اس بناپر کہ مسجد اس کے بزرگوں کی تعمیر ہے اپنے آپ کو متولی ٹھہراتا ہے،تعمیر سابق کہ مسلمانان اہل محلہ نے بے اجازت شخص مذکور کی ضرور جائز ہوئی کہ وہ باجازت قرآن عظیم ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اجازت کے بعد زید وعمرو کی اجازت وعدم اجازت کیا چیز ہے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتا ہے:
" اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ "[4]
خدا کی مسجدیں وہی عمارت کرتے ہیں جو اللہ اور قیامت پر ایمان لاتے اورنماز بر پا رکھتے اور زکوٰۃ دیتے اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔
رسول اللہ صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَفرماتے ہیں:
من بنٰی ﷲ مسجدا بنی اﷲ لہ بیتا فی الجنۃ[5]۔
جو اللہ کے لئے مسجد بنائے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے لئے جنت میں مکان تعمیر فرمائے۔
شخص مذکور کی ممانعت محض باطل ونامسموع تھی اب بھی اہل محلہ بے اس کی اجازت کے تعمیر کرسکتے ہیں،درمختار میں ہے:
اراداھل المحلۃ نقض المسجد وبناء ہ احکم من الاول ان البانی من اھل المحلۃ لھم ذٰلك والالا، بزازیۃ[6]۔
[1] ردالمحتار باب الامامۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۳۷۳
[2] درمختار باب الجمعۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۱۲
[3] صحیح مسلم کتاب المساجد باب نہی من اکل ثوماالخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۰۹
[4] القرآن الکریم ۹/ ۱۸
[5] مسند احمد بن حنبل مسند عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ دارالفکر بیروت ۱/ ۲۰،مشکوٰۃ المصابیح باب المساجد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۶۸
[6] درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع