30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
درمختا ر میں ہے:
یحرم فیہ(ای فی المسجد) الوضوء الا فیما اعد لذٰلک[1]۔
مسجد میں وضو حرام ہے سوائے اس جگہ کے جو وضو کے لئے بنائی گئی ہے(ت)
اشباہ میں ہے:
تکرہ المضمضۃ والوضوء فیہ الاان یکون ثمہ موضع اعد لذٰلك لایصلی فیہ اوفی اناء[2]۔
مسجد میں کلی کرنا اور وضو کرنا مکروہ ہے الایہ کہ وہاں کوئی جگہ اسی مقصد یعنی وضو کے لئے بنائی گئی ہو جس میں نماز نہ پڑھی جاتی ہو یا پھر کسی برتن میں وضو کیاجائے۔(ت)
غمزالعیون میں ہے:
فی البدائع یکرہ التوضی فی المسجد لانہ مستقذرطبعا فیجب تنزیہ المسجد عنہ کما یجب تنزیہہ عن المخاط والبلغم[3]۔
بدائع میں ہے کہ مسجد میں وضو کرنا مکروہ ہے اس لئے کہ اس سے طبعًا گھن محسوس ہوتی ہے لہذا اس سے مسجد کو پاك رکھنا ایسے ہی واجب ہے جیسا کہ رینٹ اور بلغم سے مسجد کو پاك رکھنا(ت)
اسی میں ہے:
قولہ اوفی اناء اقول:ھذالیس علی العموم بل فی المعتکف فقط بشرط عدم تلویث المسجد[4]۔
اس کا کہنا کہ یا برتن میں وضو کرلے،میں کہتا ہوں کہ یہ حکم عموم پر نہیں بلکہ صرف معتکف کےلئے ہے اور وہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ مسجد ملوث نہ ہونے پائے۔(ت)
بحرالرائق باب الاعتکاف میں ہے:
فی البدائع وان غسل المعتکف بدائع میں ہے کہ اگر معتکف مسجد میں اس طرح
رأسہ فی المسجد فلاباس بہ اذا لم یلوث بالماء المستعمل فان کان بحیث یتلوث المسجد یمنع منہ لان تنظیف المسجد واجب ولوتوضأ فی المسجد فی اناء فہو علی ھذا التفصیل انتہی بخلاف غیر المعتکف فانہ یکرہ لہ التوضی فی المسجد ولو فی اناء ان یکون موضعا اتخذ لذٰلك لایصلی فیہ [5] اھ۔
سردھوئے کہ مستعمل پانی سے مسجد ملوث نہ ہو تو حرج نہیں ورنہ ممنوع ہے کیونکہ مسجد کوپاك صاف رکھنا واجب ہے اور اگر وہ مسجد میں کسی برتن میں وضو کرے تب بھی وہی تفصیل ہے جومذکور ہوئی(انتہی)بخلاف غیرمعتکف کےکہ اس کے لئے مسجد میں وضو کرنا مکروہ ہے سوائے اس جگہ کے جو وضو کے لئے بنائی گئی ہو جس میں نماز نہ پڑھی جاتی ہواھ۔
تو اگر خروج ممکن ہے مثلًا بارش خفیف ہے یا چھتری وغیرہ آلات حفاظت پاس ہیں او باہر نکلنے سے معذور نہیں تو واجب ہے کہ باہر ہی وضوکرے اور اگر عذر قوی قابل قبول ہے تو اگر کوئی برتن وغیرہ میسر ہے جس میں بلا تلویث مسجد وضو کرسکے جب بھی صحن میں وضو حرام ہے بلکہ چاہئے کہ اعتکاف کی نیت کرلے اور برتن میں اس طرح وضو کرے کہ باہر چھینٹ نہ پڑے یا جو تدبیر ممکن ہو۔ایك سال اعتکاف میں شب کے وقت بارش بشدت تمام ہورہی تھی اور کوئی برتن اس اطمینان کا نہ تھا کہ وضوکرتے میں پانی قطرہ قطرہ سب اسی میں جائے،جاڑے کا موسم تھا فقیر نے تو شك پر چادر چندتہہ کرکے رکھی اور اس پر وضو کیا کہ سب پانی چادرہی میں رہا۔غرض جو طریقہ تحفظ مسجد کا ممکن ہو بجالائے ورنہ بمجبوری بضرورت در میں بیٹھ کر اس طرح وضوکرے کہ خود سائے میں رہے اور پانی تمام وکمال موقع آب ومجرائے بارش میں گرے کہ ساتھ ہی مینہ اسے بہاتا لے جائے لان من قواعد الشرع ان الضرورات تبیح المحظورات[6] (کیونکہ شرعی قواعد میں سے ہے کہ ضرورتیں محظورات و ممنوعات کو مباح وجائز کردیتی ہیں۔ت)
وقد قال اﷲ تعالٰی " وَ مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍؕ- "[7] وقد رخصت الشریعۃ لعذر المطر فی ترك الجماعۃ وحضور المسجد مع وجوبھما علی المعتمد کما حققناہ فی رسالۃ لنا فی حکم الجماعۃ بل فی ترك الجمعۃ مع انھا فریضۃ قطعیۃ اجماعیۃ۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا:اللہ نے تم پر دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی۔اور تحقیق شریعت نے بارش کی وجہ سے جماعت ترك کرنے اور مسجد میں حاضر نہ ہونیکی رخصت دی ہے حالانکہ مذہب معتمد پر یہ دونوں واجب ہیں،جیسا کہ ہم نے حکم جماعت سے متعلق اپنے رسالے میں اسکی تحقیق کی ہے،بلکہ جمعہ کو چھوڑنے کی بھی بسبب بارش رخصت دی گئی باوجودیکہ وہ فرض قطعی اجماعی ہے۔(ت)
تنویر الابصار میں ہے:
لاتجب (یعنی الجماعۃ) علی من حال بینہ وبینھا مطر وطین وبردشدید[8]۔
اس شخص پر جماعت واجب نہیں جس کےلئے بارش کیچڑ او شدید سردی رکاوٹ بن جائے(ت)
[1] درمختار باب مایفسد الصلوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۴
[2] الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی احکام المسجد ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۲۳۰
[3] غمز العیون البصائر مع الاشباہ والنظائر القول فی احکام المسجد ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۲۳۰
[4] غمز العیون البصائر مع الاشباہ والنظائر القول فی احکام المسجد ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۳۱۔۲۳۰
[5] بحرالرائق باب الاعتکاف ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/ ۳۰۳
[6] الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الخامسۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۱۱۸
[7] القرآن الکریم ۲۲ / ۷۸
[8] درمختار شرح تنویر الابصار باب الامامۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۸۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع