30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چاہے کہ جو اس نے خریدا اس کو فروخت کرے،اور فروخت کردے تو اس میں فقہاء نے اختلاف کیا،بعض نے کہایہ بیع ناجائز ہے کیونکہ یہ چیز اوقاف مسجد میں سے ہوچکی ہے اور بعض نے کہا یہ بیع جائز ہے اور یہی صحیح ہے کیونکہ مشتری نے شرائط وقف میں سے کچھ بیان نہیں کیا لہذا جو کچھ اس نے خریدا وہ اوقاف مسجد میں سے نہیں ہوگا اھ منحۃ الخالق اور ردالمحتار میں فتح کے حوالہ سے ہے۔جان لے کہ بیشك وقف سے انتفاع کے متعذر ہوئے بغیر اسکی بیع کا عدم جواز صرف اس چیزمیں ہے جس پر واقف کا وقف وارد ہوا،رہی وہ چیز جس کو متولی نے وقف کی آمدنی سے خرید ا تو اس میں شرط مذکور کے بغیر بھی بیع جائز ہے کیونکہ اس کے وقف ہونے میں اختلاف ہےاور مختار یہ ہے کہ وہ وقف نہیں ہے لہذا متولی کو اختیار ہے کہ کسی مصلحت کے عارض ہونے پر جب چاہے اس کو فروخت کرسکتا ہے اھ،اور اللہ سبحٰنہ وتعالٰی بہتر جانتا ہے۔(ت)
___________________
مسئلہ۱۳۵ تا۱۳۶:
(۱)ایك مسجد کی ملکیت دیگر مسجد میں خرچ کرنا درست ہے یانہیں؟
(۲)مسجد کا پیسہ مدرسہ میں خرچ کرے تو درست ہوگا یانہیں؟
الجواب:
دو نوں صورتیں حرام ہیں مسجد جب تك آباد ہے اس کا مال نہ کسی مدرسے میں صرف ہوسکتا ہے نہ دوسری مسجد میں،یہاں تك کہ اگر ایك مسجد میں سو چٹائیاں یا لوٹے حاجت سے زیادہ ہوں اوردوسری مسجد میں ایك بھی نہ ہوتو جائز نہیں کہ یہاں کی ایك چٹائی یالوٹا دوسری مسجد میں دے دیں۔درمختار میں ہے:
اتحد الواقف والجھۃ وقل مرسوم بعض الموقوف علیہ جائز للحاکم،ان یصرف عن فاضل الوقف الاخر الیہ لانھما حینئذ کشیئ واحد وان اختلف احدھما بان بنی رجلان مسجدین اورجل مسجدا ومدرسۃ ووقف علیہما اوقافا لایجوز لہ ذٰلک[1]۔
دو وقفوں کا واقف بھی ایك ہو اور ایك ہی چیز پر وقف ہوں،ان میں ایك کی آمدنی کم ہوجائے تو حاکم کوجائز ہے کہ دوسرے وقف کی بحث سے اس پر خرچ کرے اس لئے کہ اس حالت میں وہ دونوں گویا ایك ہی چیز ہیں،اور اگر واقف دوہوں یا جدا جدا چیزوں پر وقف ہوں جیسے دو شخصوں نے دو مسجدیں بنائیں یا ایك شخص نے ایك مسجد اور ایك مدرسہ بنایا اور ان پر جائداد یں وقف کیں تو اب حاکم کو بھی جائز نہیں کہ ایك کا مال دوسرے میں صرف کرے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
المسجد لایجوز نقل مالہ الی مسجد اٰخر[2]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
جائز نہیں کہ ایك مسجد کا مال دوسری مسجد کو لے جائیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۳۷:مسجد کی کوئی چیز ایسی ہو کہ خراب ہوجاتی ہے اور اس کو بیچ کر اس کی قیمت مسجد میں دیں اور وہ چیز اگر دوسرا آدمی قیمت دے کر مسجد کی چیز اپنے مکان پر رکھے تو اس کو جائز ہے یانہیں؟
الجواب:
جائز ہے مگر اسے بے ادبی کی جگہ نہ لگائے۔درمختار میں ہے:
حشیش المسجد وکناستہ لایلقی فی موضع یخل بالتعظیم[3]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسجد کا گھاس کوڑا جھاڑ کر ایسی جگہ نہ ڈالیں جس سے اس کی تعظیم میں فرق آئے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۳۸:ایك شہر میں سب لوگوں نے اتفاق کے ساتھ ایك مکان نماز پڑھنے کے لئے بنایا اور اس کا نام عبادت گاہ رکھا گیااور مسجد نام نہیں رکھا،اس کی وجہ یہ کہ کبھی آدمی نماز نہ پڑھے تو وہ عبادت گاہ بدعا نہ کرے،اب اس مکان میں بیٹھ کر لوگ دنیا کی باتیں کریں تو جائز ہے یانہیں؟ اور اس مکان میں جمعہ اور عیدین کی نماز بھی ہوتی ہے اورلکڑی کا منبر بھی رکھا گیا ہے اور پیش امام بھی ہے،تو اس عبادت گاہ میں فقط محراب نہیں ہے تو اس مکان کا مرتبہ مسجد کا ہوگا یانہیں؟اور اس میں دنیا کی باتیں کرنی درست ہیں یانہیں؟
الجواب:
جب وہ مکان عام مسلمین کے ہمیشہ نماز پڑھنے کے لئے بنایا اسے کسی محدود مدت سے مقید نہ کیا کہ مہینے دو مہینے یا سال دو سال اس میں نماز کی اجازت دیتے ہیں اور اس میں نماز حتی کہ جمعہ و عیدین تك ہوتے ہیں تو اس کے مسجد ہونے میں کیا شك ہے،اس میں دنیا کی باتیں ناجائز اور تمام احکام احکام مسجد،مسجد ہونے کے لئے زبان سے مسجد کہنا شرط نہیں،نہ محراب نہ ہونا کچھ منافی مسجدیت۔مسجد الحرام شریف میں کوئی محراب نہیں،خالی زمین نماز کے لئے وقف کی جائے وہ بھی مسجد ہوجائیگی،اگرچہ یہ نہ کہا ہوا سے مسجد کیا،اس میں محراب کہاں سے آئیگی،ذخیرہ وہندیہ وخانیہ،بحروطحطاوی میں ہے:
رجل لہ ساحۃ لابناء فیہا امر قوما ان یصلوافیہا بجماعۃ فھذاعلی ثلثۃ اوجہ ان امرھم بالصلٰوۃ فیہا ابدًا نصًا بان قالواصلوا فیہا ابدا اوامرھم بالصلٰوۃ مطلقًاونوی الابدصارت الساحۃ مسجدًا اوان وقت الامر بالیوم او الشھر اوالسنۃ لا تصیر مسجدًا لومات یورث عنہ[4]۔
ایك شخص کی خالی زمین بے عمارت ہے اس نے کچھ لوگوں سے کہا کہ اس میں جماعت سے نماز پڑھیں،اس کی تین صورتیں ہیں اگر تصریحًا کہا کہ ہمیشہ پڑھیں یا مطلق کہا اور دل میں ہمیشگی کی نیت تھی تو وہ سادہ زمین مسجد ہوگئی اور اگر ایك دن یا مہینے یا برس کی قید لگادی کہ اتنے دن اس میں نماز پڑھ لو تو مسجد نہ ہوگی،اسکے مرنے پر وارثوں کو پہنچے گی۔
درمختار میں ہے:یزول ملکہ عن المسجد بالفعل وبقولہ جعلتہ مسجدا [5]
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع