دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

بہترنص پایا جہاں امام قاضی خاں رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا اگر واقف نے کہا میری یہ زمین صدقہ موقوفہ ہے اس شرط پرکہ مجھے دوسری زمین کے ساتھ استبدال کا اختیار ہوگا تو اس کو گھر کے ساتھ استبدال کا اختیار نہ ہوگا کیونکہ وہ شرط میں تبدیلی کا مالك نہیں،اور اگر اس نے کہا کہ مجھے گھر کے ساتھ استبدال کا اختیار ہوگا تو وہ دوسری زمین کے ساتھ استبدال نہیں کرسکتا اور اگر اس نے استبدال کی شرط لگائی مگر اس نے زمین یا گھر کاذکر نہیں کیا پھر پہلی زمین کو بیچ دیا تو اس کو اختیار ہوگا کہ وہ ثمن کے بدلے کوئی بھی غیر منقولہ جائداد لے سکتا ہے چاہے زمین ہو یا گھر کیونکہ اس نے لفظ مطلق بولا ہے اھ اختصارا۔یہ بحمداﷲکھلی اور واضح نص ہے اس پرجو میں نے سمجھا اور جو میں نے شامی پر حاشیہ لکھا الحمد ﷲ وہ واضح ہوگیا کہ یہ جوآٹھویں شرط ہے استبدال قاضی بلا شرط میں اس گنجائش نہیں اسی لئے میں نے اس کو استبدال غیر مشروط کی شرطوں سے ساقط کردیا اور استبدال مشروط کی شرطوں میں اسے اس چیز کے ساتھ بدل دیا جو میں نے شرط رابع میں دیکھا اور میں نے اول میں ساتویں شرط جو کہ ثانی میں چوتھی ہے سے دین کے بدلے بیع کے عدم جواز کو یہ جان کر ساقط کردیا کہ تیسری شرط اس سے بے نیاز کردیتی ہے۔اور جو کچھ ردالمحتار میں مذکور ہے اس سے اخذ کرتے ہوئے میں نے ثانی کی ساتویں شرط میں یہ اضافہ کیا کہ وقف کی آمدنی سے اس کا خرچہ پورا نہ ہوتا ہو حالانکہ اسعاف اور خانیہ میں اس پر نص کی گئی ہے اور خانیہ کے حوالے خود بحر میں مذکور ہے۔اور اول میں پہلی دو شرطوں کا اضافہ میں نے اس دلیل کی بنا پر کہا جو خانیہ،اسعاف اور بحر میں ہے اور لفظ بحر کے ہیں کہ اگر واقف نے اپنے لئے استبدال کی شرط لگائی پھر کسی کے لئے اس کی وصیت کردی تو وصی استبدال کا مالك نہیں ہوگا،اور اگر اپنی زندگی میں کسی کو وکیل بنایا تو صحیح ہے،اور اگر ہر متولی کے لئے استبدال کی شرط لگائی تو صحیح ہے اور ہر متولی ا س کامالك ہوگا،اور اگر واقف نے اپنے ساتھ دوسرے شخص کے لئے استبدال کی شرط لگائی تو واقف تنہا استبدال کا مالك

ہوگا جبکہ دوسر اشخص تنہا اس کا مالك نہیں ہوگا اھ اختصار۔

درمختار میں ہے وقف زمین کو دوسری زمین سے بدل لینے کی شرط لگانا جائز ہے پھر اسکو تیسری زمین سے نہیں بدلے گا کیونکہ یہ حکم استبدال شرط کے ساتھ ثابت ہوا اور شرط صرف پہلی زمین میں پائی گئی نہ کہ دوسری میں شامی نے کہا فتح میں فرمایا ہے مگر واقف ایسی عبارت ذکر کرے جو اسکے لئے دائمی استبدال کا فائدہ دے اھ اس تحریر کو غنیمت سمجھ،اور تمام تعریفیں اللہ  بزرگ وبرتر کے لئے ہیں(ت)

یہ حکم ہر عقار موقوف کا ہے جیسے زمین،مکان،دکان،اسی طرح اشجار موقوفہ اگر پھل دار ہوں تو جب تك ہرے ہیں ان کاکاٹنا بیچنا ناجائز اور گرپڑنے یا سوکھ جانے کے بعد رواہے کہ لکڑی بیچ کر مصارف و قف میں صرف کردیں یہاں تك اگر کوئی پھل کادرخت نصف خشك ہوگیااو رنصف قابل انتفاع ہے تو اسی نصف خشك کی بیع جائز،باقی کی ممنوع،متولی اگر سبز کو کاٹے بیچے گا خائن ہے تولیت سے خارج کیا جائے گا،ہاں وہ پیڑ کہ پھل نہیں رکھتے بلکہ وقف کا انتفاع ان سے یونہی ہے کہ انہیں بیچ کر دام کئے جائیں ان کے سبز وخشك ہر طرح کی بیع جائز ہے،

فی العقودالدریۃ عن البحر لرائق عن عمدۃ الفتاوی لایجوز بیع الاشجار الموقوفۃ المثمرۃ قبل قلعھا بخلاف غیر المثمرۃ اھ وفی الفتح سئل ابو القاسم الصفار عن شجرۃ وقف یبس بعضھا وبقی بعضھا فقال  مایبس منھافسبیلہ سبیل غلتھا وما بقی فمتروك علٰی حالھا اھ[1]   (ملخصا) وفی العقود عن البحر عن الظہیریۃ لیس لہ ان یبیع الشجرۃ ویعمر الدار [2]  الخ وفیہا سئل فی ناظر وقف قطع اشجار بستان الوقف الیافعۃ الغیر الشالبۃ ولاالیابسۃ وباعھا بلاوجہ شرعی فھل اذاثبت ذلك علیہ بالوجہ الشرعی یستحق العزل الجواب نعم وافتی الشیخ اسمٰعیل بمثل ذلک[3]۔

عقود دریہ میں بحوالہ بحر عمدۃ الفتاوی سے منقول ہے کہ وقف شدہ پھل دار درختوں کو گر جانے سے قبل فروخت کرنا جائز نہیں بخلاف ان درختوں کے جو پھل دار نہیں اھ۔فتح میں ہے کہ ابوالقاسم صفار سے ایسے وقف شدہ درخت کے بارے میں سوال کیا گیا کہ جس کا کچھ حصہ خشك ہوگیا اور کچھ ابھی باقی ہے

تو انہو ں نے فرمایا کہ جو خشك ہوگیا ہے اس کا راستہ وہی ہے جو اس کے غلہ کا راستہ ہے اور جو باقی ہے اس کو اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے گا اھ تلخیص۔ عقود دریہ میں بحوالہ بحر،ظہیریہ سے منقول ہے کہ وقف درخت بیچ کر وقف گھر کی تعمیر کااختیار متولی کو نہیں الخ۔اسی میں ہے کہ ایسے متولی کے بارے میں سوال کیاگیا جس نے وقف باغ کے ایسے درخت کاٹ دئے جنکا پھل پکا ہوا تھا اور وہ بے کار اور خشك نہ تھے اور انہیں بغیر کسی شرعی وجہ کے فروخت کردیا کہ اگر اس پر شرعی طریقے سے اس فعل کا ثبوت ہوجائے تو کیا وہ ا س لائق ہے کہ اس کو معزول کردیاجائے؟،جواب:ہاں،اور شیخ اسمٰعیل نے اسی کی مثل فتوٰی دیا ہے(ت)

زوائد: جیسے درختوں کے پھل،زمین کا غلہ وغیرہ جن سے غرض یہ ہوتی ہے کہ انہیں بیچ کر مصارف مسجد واغراض معینہ واقف میں صرف کریں انکی بیع میں کوئی کلام نہیں مگر یہ بیع متولی کرے یا باذن قاضی شرع ہو کما قدمناہ عن الھندیۃ عن السراجیۃ(جیسا کہ ہم نے پہلے ہندیہ سے بحوالہ سراجیہ ذکر کیا ہے۔ت)ہاں جہاں جہاں ان مسائل میں اذن قاضی کی شرط مذکور ہوئی اگر قاضی شرع نہ ہوجیسے ان بلاد میں،توبضرورت مسلمانان دین دار موتمن معتمد اس بار کو اپنے اوپر اٹھاسکتے ہیں اور اللہ  حساب لینے والا ہے اور وہ مصلح و مفسدکو خوب جانتاہے،

فی الخانیۃ من فصل المقابر والرباطات قد ذکرنا ان الصحیح من الجواب ان بیعھم بغیر امر القاضی لا یصح الاان یکون فی موضع لاقاضی ھناک[4]۔ فی الخانیۃ باب الرجل یجعل دارہ مسجدا المتولی اذا اشتری من غلۃ المسجد حانوتا او دار ا اومستغلا اٰخر جاز لان ھذامن مصالح المسجد فاذا اراد المتولی ان یبیع ما اشتری وباع اختلفوافیہ قال بعضھم لا یجوز ھذا البیع لان ھذاصار من اوقاف المسجد وقال بعضھم یجوز ھذاالبیع وھو الصحیح لان المشتری لم یذکر شیئا من شرائط الوقف فلایکون ما اشتری من جملۃ اوقاف المسجد [5]     اھ  وفی منحۃ الخالق ورد المحتار عن الفتح اعلم ان عدم جواز بیعہ الااذا تعذر الانتفاع بہ،انما ھوفیما ورد علیہ وقف الواقف امافیما اشتراہ المتولی من مستغلات الوقف فانہ یجوز بیعہ بلا ھذا الشرط وھذا لان فی صیرورتہ وقفا خلاف والمختار انہ لایکون وقفا فللقیم ان یبیعہ متی شاء لمصلحۃ عرضت [6]  اھ،واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی  اعلم۔

خانیہ کی فصل المقابروالرباطات میں ہے تحقیق ہم ذکر کرچکے ہیں کہ صحیح حکم یہ ہے کہ قاضی کے حکم کے بغیر ان کی بیع درست نہیں سوائے اس جگہ کےجہاں کوئی قاضی نہ ہو۔(ت) اسی طرح وہ تمام اشیاء جو متولی بطور خود مسجد کے مال سے آمدنی مسجد بڑھانے کو خریدے ان کی بیع کا بشرط مصلحت وہ ہر وقت اختیار رکھتا ہے اگرچہ وہ دکان ومکانات و دیہات ہی ہوں کہ یہ خریداری اگرچہ بنظر مصلحت جائز ہوتی ہے مگر اس کے باعث وہ چیزیں وقف مسجد نہ ہوگئیں کہ ان کی بیع ناجائز ہو،ا خانیہ کے"باب الرجل یجعل دارہ مسجدا"میں ہے کہ متولی اگر مسجد کی آمدنی سے دکان،گھر یا دیگر منافع خریدے تو جائز ہے کیونکہ یہ مسجد کے مصالح میں سے ہے۔پھر جب متولی



[1]     العقود الدریۃ کتاب الوقف الباب الاول مطبوعہ حاجی عبدالغفار ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/ ۱۱۵

[2]   العقود الدریۃ کتاب الوقف الباب الثانی مطبوعہ حاجی عبدالغفار ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/ ۲۰۰

[3]   العقود الدریۃ کتاب الوقف الباب الثالث مطبوعہ حاجی عبدالغفار ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/ ۲۳۰

[4]        فتاوٰی قاضی خان کتاب الوقف فصل فی المقابر والرباطات مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۲۶

[5]    فتاوٰی قاضی خان کتاب الوقف باب الرجل یجعل دارہ مسجدا مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۱۵

[6]         ردالمحتار کتاب الوقف مطلب فی الوقف اذاخرب الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۸۲،منحۃ الخالق علی ھامش البحرالرائق کتاب الوقف مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۲۲۰

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن