30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۱)زید اپنی جائداد کو وقف علی الاولاد کرناچاہتا ہے اور ایك ثلث آمدنی جائداد کا کارخیر میں دینا منظور ہے بعد منہائی دیگر اخراجات ضروری مرمت وغیرہ میں جو رقم باقی رہے اس میں سے ایك ثلث کارخیر میں صرف کرنا یاکل آمدنی میں سے۔
(۲)جو رقم ثلث آمدنی کارِ خیر کے واسطے نکالی جائے اس میں سے نیاز بزرگان دین کی ومحفل میلاد شریف میں خرچ کرنا وکسی مدرسہ وغیرہ میں دینا مقصود ہے یہ جائز ہوگا اس حالت میں جداگانہ زکوٰۃ کی توضرورت نہ رہے گی۔
الجواب:
(۱)یہ اسکی زبان پر ہےاگر وقف میں یہ شرط لگائے گا کہ کل آمدنی بلااخراج خرچ کا ثلث تو یہی واجب ہوگا اور منافع خالص کاثلث کہے گا تو خرچ نکال کر جو بچا اس کی تہائی اور اگر مطلق کہے گا تو حسب عرف منافع خالص کا ثلث سمجھاجائے گا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۲)کارخیرمیں جو کام متعین کردے گا مثلًا مسجد یا مدرسہ یا مساکین وہ ثلث اس میں صرف ہوسکے گا اور اگر نیاز بزرگان دین ومحفل میلاد شریف بھی اسی میں شامل کرے گا تو یہ بھی ہوسکے گا یہ ثلث کارخیر میں صرف کردینا بقیہ دو ثلث پر سے زکوٰۃ ساقط نہ کردے گا جبکہ اس کے پاس حاجات اصلیہ سے فارغ بقدر نصاب بچے اور سال گزرے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
__________________
بابُ المسجد
مسئلہ ۱۳۱: میمن محمد عبداللہ ابوبکر سوداگر زور نگل بازار انتصار گنج ریاست حیدر آباد دکن ۱۲شوال ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك چبوترہ پر عرصہ تیس سال سے اذان ونماز باجماعت وجمعہ ہواکرتی ہے،اس پر محراب ومنبر بھی ہے،زید کہتا ہے کہ محض چبوترہ پر نماز وغیرہ قائم ہونے سے حرمت مسجد نہیں ہوتی کیونکہ اس پر نہ چھت ہے نہ منارہ جولوازمات مسجد ہیں،بکرکہتا ہے یہ لوازمات مسجد نہیں اذان ونماز پنجگانہ باجماعت وجمعہ کا قیام کافی ہے،اب ازروئے شرع کیاحکم ہے؟بینواتوجروا۔
الجواب:
زید کاقول محض باطل وخلاف شرع ہے مسجد کے لئے چھت،منارہ،دیواریں کوئی چیزلازم نہیں،اس میں تو منبر محراب موجود ہے،یہ بھی نہ ہوتا تو بھی مسجدیت میں خلل نہیں۔مسجد صرف اس زمین کا نام ہے جو نماز کیلئے وقف ہو یہاں تك کہ اگر کوئی شخص اپنی نری خالی زمین مسجد کو دے مسجد ہوجائے گی،مسجد کا احترام اس کےلئے فرض ہوجائے گا۔فتاوٰی عالمگیری میں ہے:
رجل لہ ساحۃ لابناء فیہا امر قوما ان یصلوافیہا بجماعۃ ابدا او امرھم بالصلٰوۃ مطلقًا ونوی الابد صارت الساحۃ مسجد اکذافی الذخیرۃ وھکذا فی فتاوٰی قاضی خان۔[1] (ملخصًا)
کسی شخص کی خالی زمین ہے جس میں عمارت نہیں اس نے لوگوں کو کہا کہ اس میں ہمیشہ نماز باجماعت پڑھاکرو،یایوں کہا کہ اس میں نماز پڑھو،اور نیتہمیشگی کی کی تھی تو دونوں صورتوں میں وہ خالی زمین مسجد ہوگئی جیسا کہ ذخیرہ اور فتاوٰی قاضی خان میں ہے(ت)
جبکہ اس چبوترہ کا کوئی مالك ومدعی نہیں اور اس میں مدتوں سے نماز باجماعت ہوتی ہے،جمعہ ہوتا ہے،منبر ہے،محراب ہے،تو کوئی وجہ نہیں کہ اس کو مسجد نہ سمجھا جائے۔واﷲتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ۱۳۲:ازشملہ مسجدقطب خانساماں کوہ شملہ خورد مرسلہ عالم خاں ممبر وسکریٹری مسجد مذکورہ ملازم کوٹھی آرناڈیل۶شوال ۱۳۳۵ھ
ایك شخص قطب خانساماں نے تین مسجدیں مقام کوہ شملہ تین بازار وں میں بنوائی تھیں،بازار کلاں وبازار بابوگنج وبازار چھوٹا شملہ،خانساماں مرحوم نے خاص اپنی سعی وکوشش سے انگریز سے زمین بھی لی اور بنیاد بھی مسجد کی خود ہی ڈالی،اوراپنے زرِ خاص سے مسجد کو بنوایا،اور تیار ہونے پر بھی خانساماں مغفور نے اپنی حین حیات مسجد کی خدمت وخبرگیری کی اور مسجد کے ہمیشہ خرچ کے لئے کچھ جائداد بھی مسجد کے متعلق کی جو مسجد کے خرچ کو کافی ہے،اب بعد گزرجانے خانساماں مرحوم کے بے انتظامی متولیان ومنتظمانِ وقت کے سبب مسجد کے شہید ہوجانے پر اور پیشہ کے چند لوگوں نے چندہ جمعہ کرکے مسجد مذکور کو تعمیر کرایا اور انتظام دست بدست دیگراں رہا،سواب حق زیادہ مسجد پر پہلے بنانے والے اور اسکے گروہ کا ہے یا بعد کے بنانے والوں کا اور اس کے گروہ کا؟ اور نام روشن ہونا مسجد پہ اور مسجد کی تمام چیزوں پہ کس کا ہونا چاہئے یا کسی کا بھی نہیں؟او مسجد مذکور قطب خانساماں کے نام سے پکاری جاتی ہے،بعد گزرجانے خانساماں مذکور کے انتظام مسجد دست بدست دیگراں رہا جو کہ منتظم یا متولی مانے جاتے رہے ہیں،بایں صورت ایك شخص بابوپندرہ بیس سال سے متولی یا منتظم قرار دیا ہوا تھا اور انتظام مسجد وآمدنی وخرچ سب اسی کے سپرد تھا سوا سکے انتظام وتولیت سے مسجد کو سراسر نقصان ہوا،یہاں تك کہ مسجد مقروض بھی ہوئی اگرچہ اب نہیں ہے،لیکن مسجد پر خستگی اب بھی ظاہرہے اور نمازیوں کو تکلیف سامان نماز سے ہمیشہ پہنچتی رہی،لہذا متولی ہذاکو معزول کرکے بجائے اس کے چند اشخاص معقول ممبر مقرر کرکے جو ایك پیشہ اور اسی بازار کے تھے،انتظام مسجد وآمدنی وخرچ ان کے متعلق کیاگیا،اب آئندہ انتظام دستور سابق کے موافق ہونا چاہئے جو متولی معزول کے وقف میں تھا اور اسی روش پہ چلنا چاہئے یا نئے طریق سے جو مسجد کی آسودگی و نمازیوں کے آرام کی صورت ہو،جو کتابیں کہ اب انتظام مسجد کے حساب وکتاب کے واسطےنئی تیار ہوئی ہیں ان پر نام قطب خانساماں کا لکھا گیا ہے،گروہ دوم کہتا ہے کہ ان پہ قطب خانساماں کا نام لکھنا شرك وبدعت ہے چونکہ پہلے نہ تھا اب کیوں لکھا گیا؟گروہ خانساماں کہتا ہے کہ کتابوں پہ نام کا ہونا شرك وبدعت نہیں ہے،پہلے کا دستور قاعدہ جب لیں جو قواعد وطریق سابق سے مسجد کو آسودگی اور نمازیوں کو آرام پہنچا ہو،مسجد کی آمدنی کا روپیہ خانساماں کے گروہ کے پاس رہنا چاہئے یا گروہ دوم کے پاس؟ اور زرِ مذکور زیادہ مالدار کے پاس رہے یا تھوڑے مالدار کے پاس؟
الجواب:
مسجد قیامت تك اصل بانی کے نام سے رہے گی اگرچہ اس کی شکست ریخت یا شہید ہوجانے کے بعد دوبارہ تعمیر اور لوگ کریں،ثواب ان کےلئے بھی ہے مگر اصل بنا بانی وقف کے واسطے خاص ہے،
فان اصل المسجد الارض والعمارۃ وصف ولایکون من اعاد الوصف کمن احدث الاصل۔
کیونکہ اصل مسجد تو زمین ہے اور عمارت وصف ہے چنانچہ جس نے وصف کا اعادہ کیاوہ موجد اصل کی مانند نہیں ہوسکتا۔(ت)
کتابوں پر خانساماں کانام لکھا جانا نامناسب نہیں بلکہ بہتر ہے اور اسے شرك وبدعت کہنا بدعت ہے۔اسعاف پھر ردالمحتار میں ہے:
من قصد الواقف نسبۃ الوقف الیہ وذٰلك فیما ذکرنا[2]۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع