دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

اور اگر مراد عام قبر کی مرمت ہے تو وہ قربت نہیں اور وقف کے لئے قربت ہونا شرط ہے،

فی الدرالمختار شرطہ ان یکون قربۃ فی ذاتہ ملوما منجزا[1]      الخ۔

درمختار میں ہے کہ وقف ہونے کی شرط یہ ہے کہ وہ عمل ذاتی طور پر نیکی ہونا واضح طور پ معلوم ہوا الخ۔(ت)

فتاوٰی قاضی وفتاوٰی سراجیہ وتنویر الابصار وغیرہا میں ہے:

اوصی بان یطین قبر فھی باطلۃ [2]         اھ مختصرًا

قبر کی لپائی کی وصیت کی تو باطل ہے اھ مختصرًا(ت)

ردالمحتار میں ہے:

الوصیۃ اماصلۃ او قربۃ ولیست ھذہ واحدۃ منھما فبطلت[3]۔

وصیت،صلہ رحمی ہو یا پھر نیکی ہو،ا ور یہ دونوں میں سے نہیں ہے،لہذا باطل ہے(ت)

ہاں قبور اولیاء کرام کے حفظ ونگہداشت کو جبکہ ان کی تعظیم وتکریم کے تحفظ اور توہین وپامالی سے بچانے اور مسلمانوں کے وہاں حاضرہوکر فیض ثواب وتبرکات پانے کے لئے ہو قربت کہنا اقرب بفقہ ہے۔اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  فرماتا ہے:

"ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَؕ-"[4]۔

یہ پہچان سے قریب تر ہے تاکہ ان کو اذیت سے بچایا جائے۔ (ت)

درمختار میں ہے:

تطیین القبور لایکرہ فی المختار وقیل یکرہ وقال البزدوی لواحتج لکتابۃ کیلایذہب الاثر ولایمتھن لاباس بہ[5]۔

قبروں کی لپائی مکروہ نہیں ہے،مختار قول میں بعض نے کہا مکروہ ہے۔بزدوی نے فرمایا اگر کتابت کےلئے ضرورت ہو تاکہ قبر کے آثار ختم نہ ہوں تو کوئی حرج نہیں ہے(ت)

عقود الدریہ میں ہے:

ان کان القصد بذلك التعظیم فی اعین العامۃ حتی لایحتقر واصاحب ھذا القبر الذی وضعت علیہ الثیاب ولجلب الخشوع والادب لقلوب الزائرین الغافلین کما ذکرنا من حضور روحانیتھم المبارکۃ عندقبورھم فھو امر جائز الخ[6]۔

اگر مقصد یہ ہو کہ اس سے لوگوں کی نظروں میں تعظیم ہوگی اور قبر والے کی تحقیر سے حفاظت ہوگی تو اس کی قبر پر کپڑا ڈالنا اور غافل لوگوں کو وہاں خشوع کی طرف اور ادب کی طرف راغب کرنا،جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے کہ قبروں پر اصحاب قبور کی روحیں حاضر ہوتی ہیں،اس لئے ہوتو یہ جائز ہے الخ (ت)

اور شك نہیں کہ ہر مباح بہ نیت محمودہ محمود وقربت ہوجاتا ہے، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تعالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَفرماتے ہیں:

انما الاعمال بالنیات ولکل امرئ مانوی[7]۔

اعمال نیات کے ساتھ ہیں،ہر شخص کو وہی حاصل ہوگا جس کی وہ نیت کرے(ت)

ا س صورت میں اس مرمت کے لئے تنہا بھی وقف صحیح ہوسکتا ہے لیکن یہاں جبکہ صرف مرمت قبر پر وقف نہیں بلکہ اس میں مصارف قبر صراحۃً مذکور ہیں تو ایك مصرف جائز اگرچہ خود قربت نہیں،ان میں شامل کرنا وقف کو ناجائز نہیں کرسکتا غایت یہ کہ گویا اتنا روپیہ جس قدر کی حاجت کبھی مرمت قبر کےلئے واقع ہو مصارف خیر سے ایك مصرف جائز کےلئے مستثنے ہواور اس میں کچھ حرج نہیں۔ردالمحتار میں ہے:

اذاجعل اولہ علی معنیین صار کانہ استثنی ذلك من الدفع الی الفقراء کما صرحوابہ[8]۔

جب وقف کرتے ہوئے دوچیزوں کوذکر کیاگیا توگویا یہ فقراء کو دینے سے مستثنی ہوگا جیسا کہ فقہاء نے اس کی تصریح کی ہے(ت)

فتاوٰی قاضی خان ردالمحتار میں ہے:

لوقال ارضی صدقۃ موقوفۃ علی من یحدث لی من الولد ولیس لہ ولد یصح لان قولہ صدقۃ موقوفۃ وقف علی الفقراء وذکر الولد الحادث للاستثناء[9]۔

 



[1]                   درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۵/ ۳۷۷

[2]                   درمختار کتاب الوصایا باب الوصیۃ للاقارب مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۳۰

[3]                   ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۴۱

[4]                   القرآن الکریم ۳۳/ ۵۹

[5]                   درمختار کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۲

[6]                   العقودالدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ مسائل وفوائد شتی من الحظر والاباحۃ ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۳۵۷

[7]                   صحیح البخاری باب کیف کان بدء الوحی قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲

[8]                   ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۵۷

[9]                   فتاوٰی قاضی خاں کتاب الوقف فصل فی الوقف علی الاولاد نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۳۱

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن